| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’ماما تم کیوں مر گیا تھا‘
میری پہلی شادی انیس سو ترانوے میں ہوئی۔ گھر والوں نے شریف خاندان اور جان پہچان دیکھ کر رشتہ منظور کیا مگر کیا معلوم تھا۔ انہوں نے بہو کو بیٹی کا درجہ دینے کے بجائے نوکرانی کا درجہ دیا۔ ہمارے معاشرے میں زیادہ تر سسرال ایسے ہی ہیں جہاں بہو کو پانچ بجے سے رات گیارہ بجے تک صرف کام ہی کرنا ہوتا ہے۔ ایسی شادیاں عموماً ناپائیدار ہوتی ہیں سو میں بھی اس میں پِس گئی۔ اس کے بعد کا تین سال کا عرصہ مجھ پر اور میرے ماں باپ پر قیامت سے کم نہ تھا۔ لوگ ہمدردی کی شکل میں طنز کرتے، دوسری شادی کا کہتے اور رشتے بھی لاتے۔ ان میں کوئی پانچ بچوں کا باپ ہوتا، کوئی بڈھا ہوتا تو کوئی جہیز کا لالچی۔ یہ وہ دن تھے جب سندھ میں ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن ہو رہا تھا۔ وہ لڑکے جن کا تعلق ایم کیو ایم سے ہوتا انہیں ان حالات میں کوئی رشتہ دینے کو تیار نہ ہوتا لیکن میں تھک چکی تھی اس لئے جب ایک ایسا ہی رشتہ آیا تو میں نے ہاں کردی۔ میرے شوہر ان دنوں ماسکو میں تھے۔ انیس سو ترانوے میں جب ایم کیو ایم کے خلاف کراچی میں آپریشن شروع ہوا تب انہیں اغواء کرکے ان پر تشدد کیا گیا اور کہا گیا کہ ٹی وی اور اخباروں میں تنظیم کے خلاف بیانات دیں۔ مسلسل انکار کے بعد ان کے گھر والوں سے ایک بڑی رقم لے کر انہیں اس شرط پر رہا کیا گیا کہ وہ پندرہ دنوں کے اندر اندر ملک چھوڑ دیں۔ گھر والوں نے سٹوڈنٹ ویزا پر انہیں روس بھیج دیا۔ اس دن کے نکلے وہ آج تک بھاگ رہے ہیں۔ اگر وہ تب کہیں بھی سیاسی پناہ لے لیتے تو شاید آج ان کے پیر کہیں جم چکے ہوتے۔ مگر افسوس کہ روس سیاسی پناہ نہیں دیتا۔ وہ روس میں کسی ایسے شہر میں رہ رہے تھے جہاں نہ گھر نہ پیسہ، پیٹ بھرنے کو سردی، کبھی درخت کاٹے تو کبھی وہی کٹے ہوئے درخت لوڈ کئے۔ پھر وہ ماسکو آگئے، کبھی میٹرو میں اخبار بیچے تو کبھی موتیوں کے رنگ برنگ ہار بیچے۔ رشتہ طے ہوگیا اور لڑکے والوں نے دو جوڑے میں شادی کرنے کو کہا۔ میں اپنے ماں باپ اور سسر کے ساتھ ماسکو آئی۔ فروری انیس سو ستانوے میں انتہائی سادگی سے ہمارا نکاح ہوا اور ایک مہینے بعد گھر والے واپس چلے گئے۔ شادی کے بعد ہم نے ایک کمپیوٹر خرید لیا اور کھانے پینے کی سستی اشیاء باہر کی کمپنیوں سے خرید کر ماسکو کی دکانوں کو بیچنا شروع کر دیا۔ زندگی کچھ بہتر ہوتی نظر آرہی تھی۔ اس عرصے میں ہمارے گھر ایک بیٹی اور بیٹا بھی پیدا ہوئے۔ وقت کیسے گزرا پتہ نہیں چلا مگر معلوم نہیں تھا کہ پریشانیاں رکی نہیں ہیں۔ اسی دوران روس اور چیچنیا کا مسئلہ کھڑا ہوگیا۔ پہلی دفعہ احساس ہوا کہ مسلمان ہونے کی قیمت بھی ادا کرنا پڑتی ہے۔ مسلمانوں کو ویزے دینے بند کر دیئے گئے اور جن کے پاس ویزے تھے ان کے ویزے کی مدت میں توسیع اگر کی بھی جاتی تو زیادہ پیسے لیکر کم عرصے کا ویزہ دیا جاتا۔ یہ پیسے اتنے بڑھے کہ ہماری جیب کم پڑ گئی۔ آخرکار فیصلہ کیا کہ کہیں اور جاکر زندگی شروع کی جائے۔ ہم نے دیکھ رکھا تھا کہ افغانستان، پاکستان، بھارت، سری لنکا اور افریقہ وغیرہ سے لوگ روس آتے ہیں اور پھر یورپین ملکوں میں جا کر سیاسی پناہ لے لیتے ہیں۔ ہم تھوڑا بہت جو جمع کر رکھا تھا ایک ایجنٹ کو دے کر جنوری دو ہزار میں ڈنمارک آگئے۔ یہاں ہم نے سیاسی پناہ کی درخواست جمع کروائی اور ایک وکیل کر لیا۔ کچھ کاغذات انٹرنیٹ سے جمع کئے، کچھ پاکستان سے منگوائے اور یوں اپنے ایم کیو ایم سے ہونے کا ثبوت فراہم کیا۔ وکیل کے مطابق کیس اچھا تھا اور سیاسی پناہ مل جاتی لیکن معلوم نہ تھا کہ ایک بار پھر مسلمان ہونے کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ امریکہ میں گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے واقعے نے سب کچھ بدل دیا اور ہماری سیاسی پناہ کی درخواست نامنظور ہوگئی۔ ان دو سالوں میں ہماری ایک بچی اور ہو گئی۔ تین چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ کہاں کہاں بھاگتے، واپس جا نہیں سکتے تھے۔ لوگوں نے مشورہ دیا کہ ناروے چلے جاؤ اور جا کر ناروے حکومت کو سب کچھ سچ سچ بتاؤ کیونکہ وہ سچائی اور ثبوت کو سامنے رکھتے ہوئے انسانی حقوق کے مطابق فیصلہ کرتی ہے۔ یوں جنوری دو ہزار دو میں ہم ناروے آگئے اور ایک بار پھر سیاسی پناہ کی درخواست جمع کروادی۔ حکومت نے میرے شوہر پر انیس سو ترانوے میں ہونے والے تشدد کی طبی رپورٹ مانگی۔ ہم نے ڈاکٹر سے وقت لیا اور طبی معائنہ کروا کے رپورٹ جمع کروائی جس میں کہا گیا تھا کہ تشدد کیا گیا ہے اور اس کے علاوہ ڈاکٹر نے میرے شوہر کے نفسیاتی معائنے کی بھی سفارش کی۔ اس تمام بھاگ دوڑ میں میری طبیعت خراب رہنے لگی۔ ذہنی پریشانی کے باعث مرگی کے دورے پڑنے لگے جو اتنے شدید ہوتے کہ میں دو دو دن ہسپتال میں داخل رہتی۔ ساتھ ساتھ سر میں درد رہنے لگا جس کی تشخیص ’مائیگرین‘ کے طور پر ہوئی۔ ڈاکٹر نے ان تمام امراض کی وجہ فکر اور پریشانی بتایا ہے۔ دوسری طرف ماں، باپ اور بہن بھائیوں سے دوری دل میں خلش پیدا کرتی ہے۔ ماں باپ بوڑھے ہو گئے ہیں اور بیمار رہنے لگے ہیں۔ ڈرتی ہوں ان سے مل بھی پاؤں گی یا نہیں۔ ایک گھر بسانے کے لئے نکلی تھی اور کہاں آکھڑی ہوں۔ بچوں کی طرف دیکھتی ہوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ خاص کر جب مرگی کے دورے کے بعد ہسپتال سے گھر آتی ہوں تو بچے سوال کرتے ہیں ’ماما، تم کیوں مر گیا تھا‘۔ وہ دورے کی حالت میں دیکھ کر ڈر جاتے ہیں اور سہم کر رونے لگتے ہیں۔ میرے بچے کنڈر گارٹن جاتے ہیں اور اپنی مادری زبان سے زیادہ اچھی نارویجئن بولتے ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں کہ ہماری نانی کیوں نہیں آئیں؟ ہم کیوں نہیں جاتے؟ ان کے ان چھوٹے چھوٹے سوالوں کا میرے پاس کوئی جواب نہیں۔ میں صرف آخر میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور ناروے کی امیگریشن اور عدالتوں سے صرف یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ ہمیں کب انصاف ملے گا؟ ہم تمام ثبوت ہونے کے باجود بھی کب تک بھاگتے رہیں گے؟ نوٹ: اس آپ بیتی کی راقم نے ہمیں اپنی کہانی لکھ کر بھیجی تھی۔ اگر آپ بھی وطن سے دور دربدری کی زندگی گزار رہے ہیں، تو ہمیں اپنی کہانی کم سے کم الفاظ میں لکھ کر بھیجئے۔ اگر آپ چاہیں گے تو ہم آپ کا نام شائع نہیں کریں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||