| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جہاز سے پیاز تک۔۔۔
میرا نام شاہ روم ہے اور میرا تعلق افغانستان کے مشرقی صوبہ ننگرھار کے ضلع شیوا سے ہے جس کی سرحدیں پڑوسی ملک پاکستان سے بھی ملتی ہے۔ افغانستان کے صدر ببرک کارمل کے دور میں مجھے افغان ائیرفورس میں کمیشن ملا اور تربیت کے بعد میں پائلٹ کے عہدے پر فائز ہوگیا۔ انیس سو اکیانوے میں چھٹیاں گزارنے گھر آیا ہوا تھا۔ اسی سال افغانستان میں ڈاکٹر نجیب کی حکومت کے خلاف مجاہدین کی تحریک زور پکڑتی جا رہی تھی۔ میں گاؤں ہی میں تھا کہ ہمارے ضلع شیوا پر مجاہدین نے قبضہ کر کے نجیب انتظامیہ کو بےدخل کردیا۔ حالات تیزی سے خراب ہو رہےتھے اور ایک نہ ختم ہونی والی خانہ جنگی کا آغاز ہو چکا تھا۔ لوگ تیزی سے پاکستان کا رخ کر رہے تھے میں بھی دوسرے لوگوں کی طرح اپنی بیوی بچوں سمیت پشاور آ گیا اور اب کئی سالوں سے پشاور میں ہوں۔ پاکستان کے اس شمال مغربی شہر آ کر مجھ پر جوگزری وہ ایک الگ کہانی ہے۔ ابتداء میں یہاں پر ہمارا کوئی جاننے والا نہیں تھا۔ ایسے دن بھی آئے کہ میں نے اور بیوی بچوں نے بغیر کچھ کھائے کئی راتیں گزاریں۔ پہلے چار ماہ شہر کے ایک بازار نوتھیہ میں ریڑھی لگائی۔ پھر کچھ عرصہ کے لیےمولوی یونس خالص کی حزب اسلامی تنظیم میں شامل ہوگیا اور وہاں کام کرتا رہا۔
انیس سو پچانوے میں افغانستان پر طالبان کا قبضہ ہوجانے کے بعد تنظیم کی سرگرمیاں ماند پڑگئیں اور میں نے دوبارہ ریڑھی لگانی شروع کردی۔ آجکل سبزی کی ایک چھوٹی سی دکان سے روزی کما رہا ہوں۔ میری بیوی کا انتقال ہو چکا ہے۔ میرے چار بچے ہیں جن میں ایک بیٹا اور تین بیٹیاں شامل ہیں میرے سب بچے ابھی چھوٹے ہیں۔ میری عمر پینتالیس برس ہے لیکن زندگی کی مشکلات نے وقت سے پہلے ہی بوڑھا کردیا ہے۔ افغانستان کے صدر حامد کرزئی کی حکومت آنے کے بعد مجھے کئی بار نوکری کی دوبارہ پیشکش کی گئی لیکن اب حالات کچھ اس طرح بن گئے ہیں کہ میں دوبارہ کابل نہیں جاسکتا۔ میرے کئی ہم جماعت اور دوست اپنی نوکریوں پر واپس بحال ہوگئے ہیں۔ میرے بچے چونکہ چھوٹے ہیں اور انکی ماں بھی نہیں ہے اس لیے وہ مجھے جان سے زیادہ عزیز ہیں۔ میں انہیں کسی بھی صورت اکیلا نہیں چھوڑ سکتا اور ان کی تربیت ہی اب میرا نصب العین ہے۔
میں نے نوکری کے دوران ہر قسم کا جہاز اڑایا ہے۔ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ میں گردیز کے اوپر پرواز کر رہا تھا۔ میرے پیچھے میرا دوست ایک دوسرے جہاز کو اوڑاتے ہوئے آ رہا تھا۔ ہم دونوں وائیرلس پر گپ شپ لگارہے تھے۔ میرے جہاز میں افغان آرمی کے کچھ زخمی جوان اور بچے تھے جنہیں میں کابل لے کر جا رہا تھا۔ اس دوران میرا دوست مجھے وائیرلس پر بتاتا ہے کہ مجاہدین نےاس کے جہاز کے پیچھے میزائل چھوڑ دیا ہے۔ میں نےحالات کا جائزہ لینے کے لیے اپنا جہاز فوراً واپس موڑ دیا۔ میں نے دیکھا کہ میرے دوست کے جہاز سے شعلے بلند ہو رہے ہیں۔ جہاز کے اندر جتنے لوگ تھے وہ سب کے سب پائلٹ سمیت میزال حملے میں ہلاک ہوگئے اور جہاز بھی ٹکڑ ے ٹکڑ ے ہوگیا۔
یہ منظر دیکھ کر میں اپنا جہاز مزید بلندی پر لے گیا اور جس جگہ سے میزائل فائر ہوا تھا عین اس جانب بڑھنے لگا کچھ دیر کے بعد وہ علاقہ میرے کنٹرول میں آ گیا لیکن بمباری سے پہلے میں نے نظریں دوڑائیں تو ہر جگہ آبادی نظر آرہی تھی۔ یہ ایک سویلین علاقہ تھا جہاں پر ایک ہی جگہ بہت سے گھر بنے ہوئے تھے۔ اس آبادی کو دیکھ کر مجھے اپنا گاؤں یاد آ گیا۔ ان دنوں افغانستان میں جاری خون کی ہولی تو میں دیکھ چکا تھا اور میں اس میں مزید حصہ دار نہیں بننا چاہتا تھا لہذا میں نے کوئی فائرنگ نہیں کی بلکہ اپنے جہاز کا رخ واپس کابل کی طرف موڑ دیا۔ میں نے روسیوں کے ساتھ بھی کام کیا اور ایک دفعہ امریکہ کا بھی دورہ کیا۔ افعانستان کے جنگ وجدال نے اتنا دل برداشتہ کیا ہے کہ اب تو زندگی کی کوئی خواہش باقی نہیں رہی ہے اور صرف اپنے بچوں کا بہتر متسقبل دیکھنے کی آرزو ہے۔ جو کچھ دن کو کماتا ہوں وہ سارا خرچ ہوجاتا ہے۔ کرائے کے مکان میں رہتا ہوں۔ نوٹ: شاہ روم نے یہ گفتگو ہمارے نمائندے رفعت اللہ اورکزئی سے کی۔ آپ بھی اپنی آپ بیتی ہمیں لکھیں۔ ہم آپ کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے آپ کا نام شائع نہیں کریں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||