| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
سارک ڈائری: عوامی کانفرنس
دو جنوری: عوامی ضرورت ہم ڈھاکہ سے چار لوگ سارک سربراہی کانفرنس کے ساتھ ساتھ غیرسرکاری اداروں کی جانب سے منعقد کی جانیوالی عوامی اجلاس میں شرکت کے لئے اسلام آباد پہنچے، کُل سولہ گھنٹے لگے کیونکہ براہ راست کوئی پرواز نہیں تھی۔ اس لئے ہم نے پہلی بات سارک ممالک کے اندر براہ راست پرواز کی ضرورت پر کی۔ ہندوستان، نیپال، سری لنکا اور دیگر سارک ممالک سے غیرسرکاری اداروں کے کارکن اس عوامی کانفرنس میں شرکت کررہے ہیں۔ سب کا یہی مسئلہ تھا، براہ راست فلائٹ کا نہ ہونا۔ یہ چوتھی پیپلز سمِٹ ہے۔ جو دوجنوری سے چار جنوری تک منعقد ہورہی ہے۔ اس سے قبل تین عوامی اجلاس کولمبو، دہلی، اور اسلام آباد میں ہوئے ہیں۔ پاکستان کا یہ میرا پہلا سفر نہیں ہے، لیکن اسلام آباد پہلی بار آئی ہوں۔ کافی کھلی جگہ ہے، ڈھاکہ میں کافی بھیڑ ہوتی ہے۔ یہاں آنے کے بعد تھوڑا سکون محسوس ہوا۔ یکم جنوری کو یہاں ہمارے ساؤتھ ایشیا پارٹنرشِپ کے ساتھیوں نے ہمیں خوش آمدید کیا۔ یکم جنوری کو ہم لوگوں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا، جہاں ہم نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ہم سارک ممالک کے لوگوں سے مل رہے ہیں جبکہ سارک سربراہی اجلاس میں ان ممالک کے رہنما عوام سے نہیں صرف رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔ مجھے تعجب ہوا کہ کسی بھی صحافی نے اس پریس کانفرنس کے دوران عوامی اجلاس یعنی پیپلز سمِٹ میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔ اسلام آباد کے پبلِک لائبریری آڈوٹیریم میں دو جنوری کو ہمارے سہ روزہ عوامی اجلاس کا افتتاح ہوا۔ نیپال، سری لنکا، ہندوستان، پاکستان کے نمائندوں نے ان ملکوں کے رہنماؤں پر عوام کی ضروریات کو واضح کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انڈیا سے جو کارکن آئے ہوئے ہیں انہوں نے معذرت کی کہ وہ گزشتہ عوامی اجلاس میں وہ شریک نہیں ہوسکے تھے، کیونکہ اسلام آباد میں سارک کا سربراہی اجلاس ہندوستان پاکستان کشیدگی کی وجہ سے نہیں ہو سکا تھا لیکن عوامی اجلاس ہوا تھا۔ اس سال عوامی اجلاس میں غیرسرکاری اداروں کے دو سو سے زائد کارکن شامل ہوئے ہیں۔ صرف بھوٹان سے کوئی نمائندہ نہیں آیا۔ سارک سربراہی اجلاس کی مناسبت سے ہم عوام کے مسائل پر بات کررہے ہیں، ان سبھی ملکوں میں عوام کے مسائل ایک ہی جیسے ہیں۔ اور پہلے روز ہم نے اس بات کی ضرورت پر زوردیا کہ سبھی ملکوں میں ایک عوامی تنظیم قائم کی جائے جو باضابطگی سے عوام کی ضروریات کو ملکی رہنماؤں پر واضح کرے۔ نوٹ: طالیہ رحمان ڈھاکہ میں غیرسرکاری تنظیم ڈیموکریسی واچ کی سربراہ ہیں اور وہ روزانہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے لئے ڈائری لکھ رہی ہیں۔ سارک اجلاس کے بارے میں آپ بھی اپنی رائے ہمیں لکھ کر بھیج سکتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||