BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 January, 2004, 18:43 GMT 23:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میڈیا قوانین میں ترمیم کا مطالبہ

سارک

ساؤتھ ایشیا فری میڈیا ایسوسی ایشن (سیفما) نے پاکستان میں نافذالعمل میڈیا کے متعلق چھ قوانین میں فوری ترمیم کا مطالبہ کیا ہےـ

سیفما جو سارک کے رکن ممالک کے میڈیا کے نمائندوں کی غیر سرکاری تنظیم ہے اس کی پاکستان شاخ کی جمعہ کے روز کانفرنس ہوئی جس میں تمام رکن ممالک کے ایک سو تیس سے زائد صحافی شریک ہوئے۔

جمعے کے روز اتفاق رائے سے منظور کردہ ڈکلیئریشن میں کہا گیا ہے کہ فریڈم آف انفارمیشن آرڈیننس، دی پریس نیوز پیپرز، نیوز ایجنسی اینڈ بک پبلی کیشن رجسٹریشن آرڈیننس، ڈیفامیشن آرڈیننس، پریس کونسل آف پاکستان آرڈیننس، الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری آرگنائزیشن اور ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کارپوریشن آرڈیننس میں ترامیم تجویز کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان قوانین کو درست معلومات تک رسائی اور اظہار رائے کی آزادی کے عالمی تقاضاؤں کے مطابق بنایا جائےـ

ڈکلیئریشن میں کہا گیا ہے کہ بجائے معلومات تک رسائی فراہم کرنے کے حکومت نے ماضی قریب میں میڈیا کے متعلق متعدد آرڈیننس نافذ کئے ہیں ـ

سیفما کی پاکستان کانفرنس کے ڈکلیریشن میں صحافیوں اور پارلیمنٹرنیز پر مشتمل مشترکہ کمیٹی بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا جو متعلقہ قوانین میں ترامیم تجویز کرے گی اور بل پارلیمنٹ میں پیش کئے جائیں گےـ

ڈکلیریشن میں کہا گیا ہے کہ انیس سو تہتر کے آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق کے منافی ان قوانین میں بعض شقیں شامل ہیں ـ بعض آرڈیننس تو نئی پارلیمنٹ کے وجود سے محض تھوڑا عرصہ قبل نافذ کئے گئےاور اسی سبب انکو مسترد کرنے کیلئے کافی ہےـ فریڈم آف انفریمیشن ایکٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ بجائے اسکے ڈرافٹ کو بہتر کرنے کے ،معلومات تک رسائی کو مشکل بنادیا گیا ہےـ

ڈکلیریشن میں کہا گیا ہے کہ کئی دہائیوں سے میڈیا برادری جن مقاصد اور آزادیوں کیلئے متحرک ہے انکو مزید سلب کیا گیا ہےـ ڈیفامیشن (بدنامی) کے قانون میں غیر ضروری طور پر صحافیوں کو ٹارگٹ بنایا گیا ہےـ جن میں صحافیوں کو پابند سلاسل کرنے کی سزائیں بھی تجویز کی گئی ہیں ـ

ڈیکلریشن میں کہا گیا ہے کہ پریس کونسل آف پاکستان کے تصور کا غلط استعمال کرکے یہ ادارہ قائم کیا گیا ہے اور اس کو تعزیری اختیارات دیئے گئے ہیں ـ

الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری آرڈیننس کو آزادانہ معلومات کی فراہمی کے عالمی تقاضاؤں کے منافی یکطرفہ پابندیاں اس قانون میں عائد کی گئی ہیں ـ

ڈیکلیریشن میں پاکستان ٹیلی ویژن اور پاکستان ریڈیو کو سرکاری پابندیوں سے آزاد کرنے کیلئے کئی برسوں سے مطالبے ہورہے ہیں لیکن اس پر کوئی توجہ نہیں دی جاررہی ہےـ آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1952ء اور سیکورٹی آف پاکستان ایکٹ 1952ء کو بھی صحافیوں کیلئے خطرناک قرار دیا گیا ـ

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد