| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
سارک: کشمیری عوام کی توقعات
جنوبی ایشیائی ملکوں کی تعاون کی تنظیم سارک کا سربراہ اجلاس اس لۓ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ پہلا موقع ہے جب بھارت اور پاکستان کے سربراہان کئی ماہ کی کشیدگی کے بعد ایک دوسرے سے ملاقاتی ہورہے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ واجپئی وزیراعظم ظفراللہ جمالی سے ملیں گے یا جنرل پرویز مشرف سے بلکہ اہم بات یہ کہ دونوں ملکوں نے ایک لمبے عرصے کے بعد یہ محسوس کیا ہے کہ ایک دوسرے کے خلاف جارحیت، نفرت اور تعصب سے دونوں ملکوں کے عوام کبھی غریبی کی ذلت سے نجات نہیں پاسکتے ہیں- اگر ایک طرف واجپئی نے اپنے کٹٹر حامیوں کی پرواہ کیے بغیر قیام امن کو ایک موقع فراہم کرنے میں پہل کی تو دوسری طرف جنرل مشرف نے بھی اپنے روایتی موقف میں لچک لاکر اس بات کا واضح ثبوت دیا کہ وہ بھی اس خطے میں امن و آشتی کا دور دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس سارے عمل میں کشمیری عوام خاصے مخمصے میں ہیں کہ کیا واقعی دونوں رہنما مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کوئی ایسی ٹھوس تجویز رکھتے ہیں جس سے نہ صرف کشمیری عوام کی تشفی ہو بلکہ دونوں سربراہوں کو اپنے عوام کے سامنے کسی ناقابل قبول تصفیے کےلۓ جوابدہ نہیں ہونا پڑے۔ بعض سیاسی مبصر سمجھتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے جو فارمولہ امریکی وزارت خارجہ سے گزرکر دونوں ملکوں کے ایوانوں تک پہنچا ہے اس میں کسی حد تک دونوں کے درمیان اتفاق پایاجاتا ہے جس کے تحت کشمیر کو وسیع تر خودمختاری دی جائیگی- کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان سرحدوں کو کھول دیا جائیگا اور اس پر نظر رکھنےکےلئے کوئی آزاد ادارہ قایم کیا جائیگا- اگر یہ فارمولہ کامیاب رہتا ہے تو آئندہ برسوں میں دونوں طرف کے کشمیر کو ملاکر ایک آزاد خطے کا درجہ بھی دیا جاسکتا ہے۔ مبصرین کہتے ہیں کہ بھارت نے پہلے ہی جموں اور لداخ کو کشمیر سے الگ کرنے کی ایک خاموش مہم شروع کررکھی ہے لیکن پاکستان آزاد کشمیر کو شاید ہی چھوڑنے پر رضامند ہوسکے کیونکہ پاکستان کو اس علاقے سے کروڑوں ڈالر زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے- بیشتر کشمیری جنہیں عرف عام میں میرپوری کہا جاتا ہے یورپ اور مشرق وسطی میں آباد ہیں جو اپنی آمدنی کا بیشتر حصہ پاکستان بھیجتے ہیں۔ بھارت کے کچھ دوراندیش سیاست دانوں نے اس مسئلہ کی نزاکت کو کسی حد تک محسوس کیا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ بیشتر کشمیریوں نے بھارت کے ساتھ الحاق کو دل سے قبول نہیں کیا ہے اور اگر یہ مسئلہ اگلے پچاس سال تک اسی طرح جاری رہا تو بھارت کا سُپر پاور بننے کا خواب شاید ہی شرمندۂ تعبیر ہوسکے - اس بات کے پیش نظر انہوں نے میڈیا کے ذریعے اپنی بات عوام تک پہنچانے اور انہیں اس کے لۓ تیار کرنے کی ایک مہوم سی کوشش شروع کر رکھی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ جہاں پاکستان نے اس بار کافی لچک دکھائی ہے وہیں بیشتر کشمیری علحیدگی پسند تنظیموں نے بھی تشدد کے راستے کو چھوڑ کر کوئی قابل قبول حل ڈھونڈنے میں سنجیدگی ظاہر کی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس موقع کا فائدہ اٹھاکر بھارت اپنے اٹوٹ انگ کے موقف کو چھوڑ کر حقیقت پسندانہ رویہ اپنا کر کوئی ٹھوس قدم اٹھائے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||