| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
علاقائی تعاون کیلئے آپ کی تجاویز
چار جنوری سے اسلام آباد میں سارک سربراہی اجلاس شروع ہو رہا ہے۔ اگرچہ سارک ایک علاقائی تعاون کی تنظیم ہے تاہم ایک بار پھر یہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک سربراہی اجلاس کی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔ چند ہفتے قبل ہندوستان کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ یورپی یونین کی طرز پر جنوبی ایشیا کے علاقے میں ایک مشترکہ کرنسی رائج کی جائے۔ اس علاقے کے بیشتر ممالک میں کرنسی کا نام روپیہ ہے۔ آپ کے خیال میں اس خطے کے لئے نئی کرنسی کا نام کیا ہونا چاہئے؟ سارک کے رہنماؤں سے آپ کی کیا امیدیں ہیں؟ جنوبی ایشیا میں آزادانہ تجارت اور علاقائی یکجہتی کو کیسے فروغ دیا جاسکتا ہے؟ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں ایم، ڈی عمرانی، جیکب آباد، پاکستان: واجپئی کو پاکستان خوش آمدید۔ مشرف اور واجپئی کو چاہئے کہ ان مذاکرات کو آگے بڑھا کر کشمیر کا مسئلہ حل کریں اور سارک ممالک میں ایک ہی کرنسی رائج کی جائے۔ محمد عامر خان، کراچی، پاکستان: مشترکہ کرنسی سے کافی فائدے حاصل کئے جاسکتے ہیں بشرطیکہ تمام ارکان کی نیت ٹھیک ہو۔ ہم کو ایک دوسرے پر اعتماد کرنا ہوگا۔ میرا خیال ہے سارک کی کرنسی کا نام سارک پیسو ہونا چاہئے۔ شوکت جہانگیر، پنڈدادن خان، پاکستان: پاکستان اور بھارت کو اگر ترقی کرنی ہے تو انہیں کشمیر پر اپنا اپنا موقف بدل کر حقیقت پر مبنی موقف اختیار کرنا ہوگا۔ علی رضا، منی ایپولس، امریکہ: میں جنوبی ایشیا کے رہناؤں اور لوگوں کو سارک ممالک کے درمیان آزادانے تجارت کے معاہدے اور بھارت اور پاکستان کے درمیان امن مذاکرات پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ یہ میری پینتیس سالہ زندگی کا پرمسرت ترین لمحہ ہے کہ ہمارے رہنماؤں نے اس سمت میں بڑھنے کے لئے نتیجہ خیز کوشش کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی مجھے یہ بھی ڈر ہے کہ ان تمام ممالک کی طرف سے ایک خفیہ مخالفت موجود رہے گی جو ان دونوں ممالک کو اپنا اسلحہ بیچتے رہے ہیں اور آنے والے وقت میں ہو سکتا ہے کہ کوئی بڑی طاقت ان کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرے۔ میں امید کرتا ہوں کہ ہمارے رہنما ان کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور جنوبی ایشیا میں خوشحالی، امن اور اتحاد کے لئے دعا کرتا ہوں۔ اصغر، سوات: ہمیں روزگار، تعلیم اور صحت کی ضرورت ہے۔ ایسے فیصلے کریں کہ ہماری بنیادی ضرورتیں پوری ہوجائیں۔ اور ایشیا کے لوگ مزدوری کے لئے بیرون ملک نہ جائیں۔ بلکہ دوسرے ملکوں سے لوگ ہمارے یہاں کام کرنے کے لئے آئیں۔ زاہد محمود، جرمنی: امن کے بغیر، ترقی نہیں۔ ہمیں ان ممالک میں امن قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ اور ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشمیر ایک تنازعہ ہے۔ میرے خیال میں جموں انڈیا کو دیدیں، پاکستانی کشمیر کو پاکستان رکھے اور وادئ کشمیر کو آزاد کردیں۔ میرے خیال میں عوام ہی خطے میں امن قائم کرسکتے ہیں۔ کسی کو اس بات کی اجازت نہیں ہونی چاہئے کہ وہ دوسرے مذاہب اور فرقوں کے خلاف بیان نہ دے۔ اکرام اللہ خان، مالاکنڈ ایجنسی: ہم اس اجلاس سے امید نہیں کرتے لیکن یہ اچھا آغاز ہے۔ مختار نقوی، امریکہ: جنوبی ایشیا کے ممالک علاقے میں تعاون فروغ نہیں کرسکتے۔ یورپی یونین پچاس برسوں کی کوششوں کے بعد وجود میں آیا ہے، سارک کو ابھی دو عشرے بھی نہیں ہوئے، یہ ناکامیاب ہی رہا ہے۔ فیصل یعقوب سلطانی، کوٹلی، کشمیر، پاکستان: کشمیر کے رہنے والوں سے بھی تو کوئی پوچھے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ اصل میں مسئلہ کشمیر کو مذہبی جماعتیں حل نہیں ہونے دیتیں کیونکہ سبھی مجاہدین کو انہوں نے پال رکھا ہے۔ علی غیور، کوئٹہ: میں سمجھتا ہوں کہ مشرف اور واجپئی کی آپس میں پراعتماد ملاقات کے بعد سارک کے مستحکم ہونے پر شک نہیں کرنا چاہئے کیونکہ سارک کا دارومدار انہی دونوں بڑے ملکوں پر ہے۔ دلاور خان، امریکہ: یہ سب ایک دنیا دکھاوا ہے اور کچھ نہیں۔ دونوں ملکوں میں اس وقت تک تعلقات اچھے نہیں ہوسکتے جب تک انڈیا اپنی ہٹ دھرمی سع کبھی نہیں ہٹے گا۔ وہی مرغی کی ایک ٹانگ اور کشمیر کا مسئلہ!
اقبال ترین، سعود یونیورسٹی، سعودی عرب: جب مشرقی اور مغربی جرمنی کے لوگ متحد ہوسکتے ہیں، جب فلسطینی اور اسرائیلی تشدد کے درمیان بھی بات چیت کرسکتے ہیں، ہم کیوں نہیں؟ سب سے پہلے تو یہ رہنما یہ فیصلہ کریں کہ وہ ذرائع ابلاغ کو چوکنا کرنیوالے کوئی بیانات نہیں دیں گے۔ ہر ماہ سیکرٹریوں کے مذاکرات ہوں، ہر تین ماہ میں وزرائے خارجہ کے ملاقات ہوں، اور ہر چھ ماہ بعد حکومتوں کے سربراہ ملاقت کریں۔ ہم اپنی فوجوں میں کمی کریں۔ پاکستان کشمیر کو لیکر سوپر پاور نہیں بن جائے گا، نہ ہی ہندوستان کشمیر کو لیکر سوپاور رہے گا۔ بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد پاکستان زیادہ مضبوط ہوگیا۔ میں ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں: کیا کشمیر کی بنیاد اسلام ہے؟ اور اگر ہم اسلام کے بارے میں سنجیدہ ہیں، تو ہم نے ڈھائی لاکھ بہاریوں کے لئے کیا کیا؟ کیا وہ پاکستانی نہیں تھے؟ ہم حقیقی پاکستانیوں کے بارے میں فکرمند کیوں نہیں؟ کشمیریوں کے بارے میں ہی کیوں؟ جاوید اقبال، کوئٹہ: میں اس کرنسی کا نام دوستی روپیہ rupee رکھنا چاہوں گا۔ میرے خیال میں یہ کرنسی دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط رشتہ قائم کرسکتی ہے۔ مسعود احمد، کوئٹہ: سارک کانفرنس اسی وقت کامیاب ہوگا جب ہندوستان اور پاکستان اپنے اختلافات ختم کریں اور تنازعۂ کشمیر کا حل تلاش کریں۔ لیکن امریکہ اور دیگر طاقتیں انہیں ایسا نہیں کرنے دیں گی۔ دانش، لاہور: اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جائے۔ اس کے بعد ایک کرنسی کی طرف پیش قدمی کی جائے۔ خلیق اللہ محمد، نیوجرسی: دوقومی نظریہ برقرار رہنا چاہئے۔ کرنسی ایک نہیں ہونا چاہئے، آزاد تجارت کے ذریعے پاکستان نقصان میں رہے گا۔ مغرب کی دنیا نے اپنے بڑے بڑے مسائل حل کرلیے، کشمیر کا مسئلہ حل کیوں نہیں ہورہا ہے؟ عاصم محمود مرزا، گجرات، پاکستان: جب تک بھارت کا رویہ تبدیل نہیں ہوتا، خطے میں کسی مثبت تبدیلی کا امکان دور دور تک نہیں ہے۔ اس لئے کون سی کرنسی؟ اور کون سا نام؟ کرنسی کا نام دینے سے پہلے اس کے لئے زمینی سطح پر تیاریاں کی جائیں۔ محمد محی الدین شاہ، چکوال: اس کرنسی کا نام سارکو saarco ہونا چاہئے۔ زاہد خان، سعودی عرب: ہمیں صرف صدر پرویز مشرف پر اعتماد کرنا چاہئے۔ وجیہ واجو، ٹھٹہ: کرنسی کا نام سارکپیا saarcpia رکھا جائے۔
تکلم بیگ، ٹورانٹو: گزشتہ پچاس برسوں میں مسئلہ کشمیر اور تین جنگوں نے جنوبی ایشیا کو سوائے خسارے کہ اور کچھ بھی نہیں دیا اور اب چوتھی جنگ سب کے لئے تابوت میں آخری کِیل ثابت ہوگی۔ آزاد تجارت اور مشترکہ کرنسی ایک مثبت تجویز ہے مگر اس سے پہلے ایسے اقدامات ضروری ہیں جن سے اس تجویز کے پائیدار اور دوررس نتائج کی ضمانت مل سکے۔ سیدہ بتول، امریکہ: میرے خیال میں کرنسی کا نام فضا fiza ہونا چاہئے کیونکہ دونوں ملکوں کے لوگ ایک ہی فضا میں سانس لیتے ہیں۔ سعید چٹھہ، برامٹن، کینیڈا: عوام اتنی مشکل میں ہیں کہ انہیں یقین نہیں آرہا ہے کہ پاکستان اور انڈیا امن کی بات کررہے ہیں۔ مشیر انجم جوسیف، اونٹاریو: میرے خیال میں رنگ، ذات پات، سیاسی مسائل کو تاک پر رکھ کر سارک کے ذریعے علاقائی یکجہتی کو فروغ دیا جائے۔ یہ عوام کی سماجی اور معاشی ترقی کے لئے اچھا فیصلہ ثابت ہوگا۔ اور کرنسی کا نام saarc dollar سارک ڈالر رکھا جائے۔ سجاد گجرانوالہ: میں سمجھتا ہوں کہ کرنسی کا نام روپیہ rupee ہی ہونا چاہئے کیونکہ علاقے کے بیشتر ملکوں میں رائج الوقت سکہ روپیہ ہی ہے۔ ندیم ہمیا، ہنزہ: میرے خیال میں کرنسی کا نام سارپ sarpیعنی ساؤتھ ایشین روپی آف پیس یعنی جنوبی ایشیا میں امن کی کرنسی۔ نامعلوم: ہم سیاست دانوں پر اعتماد نہیں کرسکتے، وہ بات کچھ اور کرتے ہیں، اور کام کچھ اور کرتے ہیں۔ وہ صرف عوام کو خوش رکھنے کے لئے بیانات دیتے ہیں۔ یہ اجلاس صرف سارک کو زندہ رکھنے کے لئے منعقد کیا گیا ہے، عوام کے مسائل کے حل کے لئے۔ ریحان احمد، فیصل آباد: اس کرنسی کا نام ساؤتھ ایشین روپیہ ہونا چاہئے۔ راؤ لئیق احمد، گِلگِت: جب بھی کوئی ایسا موقع آتا ہے ہمارے لیڈر ایسا ظاہر کرتے ہیں کہ بس مسئلہ کشمیر حل ہوگیا۔ لیکن انڈین لیڈرس واپس جاکر اپنا بیان بدل دیتے ہیں اور ہمارے رہنما اپنی سیاست چمکانے کے لئے پھر سے ایک موقع کا انتظار کرتے ہیں۔ فرید خٹک، سرحد: سارک اجلاس سے کسی پیش رفت کی امید نہیں۔ میرے خیال میں روپیہ اس خطے کی کرنسی ہو۔ یونس بارائی، کراچی: کشمیر جو کہ متنازعہ علاقہ ہے اور جس کو بھارت خود اقوام متحدہ میں لیکر گیا اور جس کی اقوام متحدہ کی قراردادیں شاہد ہیں، اور آج بھی بھارت کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ کہتا ہے اور کشمیریوں پر مظالم ڈھاہ رہا ہے۔ ایسی صورت میں مشترکہ کرنسی کی تجویز دیوانے کا خواب معلوم ہوتی ہے۔ وسیم قاضی، پاکستان: اس کرنسی کا نام اشرفی ہونا چاہئے۔ فواد محمود، کراچی: مجھے ساک اجلاس سے کوئی امید نہیں ہے جب تک کہ پاکستان اور ہندوستان تنازعۂ کشمیر کا حل نہ کریں۔ اس مسئلے کے حل کے بعد ہی آزادانہ تجارت اور مشترکہ کرنسی کی تجاویز کامیاب ہوسکتی ہیں۔ فدا ایم زاہد، کراچی: نئی کرنسی کا نام سار saar ہونا چاہئ یعنی ساؤتھ ایشین روپیہ۔ غلام حیدر، امریکہ: میرا تعلق بالتِستان شمالی علاقے سے ہے، اگر مسئلہ کشمیر حل ہوجائے تو میرے علاقے کو بہت فائدہ ہوگا۔ خان اظفر، ٹورانٹو: معاشی معاملہ تو بڑا گمبھیر ہوتا ہے۔ غلط فیصلے کیے جائیں تو پورا ملک ہی ہڑپ ہوسکتا ہے۔ امیرالدین خواجہ، مظفرآباد: سیم یعنی ساؤتھ ایشیا منی۔ ثمیر کھتلانی، سرینگر: مسئلہ کشمیر کا حل تمام دشواریوں کا اہم ترین حل ہوگا۔ نعمت دِنگلالا، ہانگو: ہمیں سارک اجلاس سے کسی مثبت نتائج کا امکان نہیں ہے۔ یہ اجلاس بھی کچھ قراردادوں کے بعد ختم ہوجائے گا۔ سارک کا مسئلہ یہ ہے کہ اس میں دوطرفہ معاملات پر بحث نہں ہوسکتی، جیسے کشمیر پر۔ طاہر، کوئٹہ: میں سمجھتا ہوں کہ مسئلہ کشمیر کا حل ناممکن ہے کیونکہ پاکستان کے رہنما خود اپنے ملک کے ساتھ مہربان نہیں ہیں۔ باقی مسائل کون حل کرے گا؟ جیسے بلوچستان کا مسئلہ۔
شفیق احمد، شارجہ: پاکستان کو کشمیر پالیس میں نرمی لانے کی ضرورت ہے کیونکہ اس مسئلے نے عوام کو آج تک کچھ بھی نہیں دیا ہے۔ اس کی وجہ سے ہر سال ڈیفنس بجٹ بڑھ جاتا ہے، کشمیر ہمارا تھا، نہ ہوگا۔ میرے خیال میں کرنسی کا نام روپیہ ہی رہے۔ قیصر صدوزئی، پاکستان: میں ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ دوستی چاہتا ہوں۔ عبدالرحیم، کینیڈا: صرف بنگلہ دیش کو چھوڑ کر سارک ممالک میں روپیہ ہی کرنسی ہے۔ بلکہ بنگلہ دیش میں بھی تو ایک وقت روپیہ ہی کرنسی تھا۔ لیکن کشمیر کے بعد بلوچستان کا بھی مسئلہ حل ہونا چاہئے۔ ذیشان شیخ، ماڈل ٹاؤن، لاہور: میری رائے میں چونکہ دونوں ممالک کی کرنسی کا نام روپیہ ہے، لہذا نئی کرنسی روپیہ ہی رہے۔ سلطان روم، کراچی: کرنسی کا نام اشرفی ہونا چاہئے۔ نامعلوم: میں آزاد تجارت کے حق میں نہیں ہوں کیونکہ یہ پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔ اس لئے مشترکہ کرنسی کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہونا چاہئے۔ پاکستان کی کمزور صنعتیں ہندوستان کی اشیاء کا سامنا نہیں کرپائیں گی۔ فیصل تقی، کراچی: میں اگر پاکستان کا صدر ہوتا، تو واجپئی کے ساتھ ملک کر کشمیر مسئلے کو ہمیشہ کے لئے حل کردیتا۔ میں کرنسی کا نام بھی ’واجپئی‘ یا ’کشمیر‘ رکھتا۔ خلیل اخون، بہاول نگر: اس کرنسی کا نام روپیہ rupee ہی ہونا چاہئے۔ اعجاز مہر، ہالینڈ: میرے خیال میں ہندوستان اور پاکستان کو ایک ساتھ امن کے ساتھ رہنا چاہئے۔ میں صدر پرویز مشرف اور وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کو مبارکباد دیتا ہوں کہ وہ خطے میں تعاون کو فروغ دےرہے ہیں۔ میرے خیال میں کرنسی روپیہ rupeeہی ہونا چاہئے۔ ڈاکٹر افضال ملک، راولپنڈی: سارک ممالک میں چونکہ پاک بھارت نمایاں ملک ہیں، لہذا نئی کرنسی کا نام پاکاندو pakindo ہونا چاہئے۔ طارق خان، شکارپور سندھ: کرنسی کا نام رکھنا اتنا اہم نہیں ہے، سارک کے ممالک صرف یہ عہد کرلیں کہ ایک دوسرے کے ساتھ بزنس میں تعاون کریں گے۔ میرے خیال میں اس سے اقتصادی طور پر پاکستان کو بہت بڑا فائدہ ہوگا اور پھر ایک وقت ایسا آئے گا جب ہم ان قرضوں سے نجات حاصل کرسکیں گے جو ہمارے سرپر تلوار کی طرح لٹک رہے ہیں۔ شاہینہ عوان، کینیڈا: مجھے شرمندگی ہورہی ہے کہ صرف بھارتی وزیراعظم واجپئی سے ملاقات کے لئے ہماری حکومت کیا کیا نہیں کررہی ہے۔ سعید خٹک، نوشہرہ: کرنسی کا نام سارک روپیہ saarc rupee ہونا چاہئے، علاقے میں آزادانہ تجارت کے لئے سب سے پہلے اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ افضال احمد، جہلم: میں ہندوستان کے رہنماؤں کی فطرت جانتا ہوں۔ واجپئی مشرف سے ملنے کی بات ضرورت کریں گے، لیکن جب ہندوستان واپس جائیں گے سب کچھ بھول جائیں گے۔ وسیم انصاری، فیصل آباد: اگر ہم اپنے بڑے مسائل حل کرلیں تو یورپ کی طرح ترقی کرسکتے ہیں۔ کرنسی کا نام روپیہ rupee ہونا چاہئے۔
عمران شاہد، بریڈفورڈ، انگلینڈ: ہندوستان اور پاکستان سارک کے اہم ممالک ہیں، دونوں کے درمیان تعلقات میں ایک بڑی خلیج ہے جس کو کم کیے بغیر کسی آزادانہ تجارت اور علاقائی یکجہتی کو فروغ نہیں مل سکتا۔ کشمیر کے بارے میں پوری قیادت مبہم بات کررہی ہے۔ شاہد بٹ، طائف، سعودی عرب: میں جنوبی ایشیا میں آزادانہ تجارت کے حق میں ہوں۔ محمد یومان، میرپور خاص، پاکستان: تمام سارک کانفرنس کے سربراہان کی نظریں پاکستان اور انڈیا پر لگی ہوئی ہیں۔ ان دونوں ممالک کو چاہئے کہ اب امن و سکون سے رہیں۔ نفرتیں ختم کریں۔ کرنسی کا نام روپیہ rupee رکھیں۔ سید سبزواری، اونٹاریو: میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ممکل دوستی چاہتا ہوں۔ ساحل اعجاز، پاکستان: سب سے پہلے تنازعۂ کشمیر حل کیا جائے۔ شاہ ڈاہر، دوبئی: مشترکہ کرنسی کا کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے، اصل بات ہے کہ اعتماد کی ضرورت جو دونوں ممالک کے درمیان بالکل نہیں ہے۔ جب تک اعتماد کی فضا بحال نہیں ہوتی، تب تک کوئی بھی معاہدہ کامیاب نہیں ہوگا۔ عبدالشکور، ریڈِنگ، برطانیہ: میرے خیال میں اس کرنسی کا نام ایشین ڈالر Asian Dollar ہونا چاہئے۔ اویس احمد، پاکستان: اگر کوئی ہندوستانی سیاست دان پاکستان کے ساتھ تنازعۂ کشمیر پر نتیجہ خیز بات چیت کرسکتا ہے تو وہ ہیں وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی، وہ جنرل مشرف سے ضرور ملیں گے۔ اقبال ملک، اسلام آباد: جو ممالک اپنے علاقائی مسائل حل نہیں کرسکتے ان کی کرنسی ایک نہیں ہوسکتی، پہلے اپنے دل تو صاف کرلیں۔
ابرار، بالٹی مور، امریکہ: سارک اجلاس سے ہمیں فوری طور پر بڑے نتائج کی امید نہیں کرنی چاہئے، لیکن یہ اجلاس اہم ضرور ہے۔ کرنسی کا نام تو جو بھی رکھ دیا جائے لیکن اس کرنسی پر کس کی تصویر ہونی چاہئے؟ کسی ایسے رہنما کی تصویر ہونی چاہئے جو غیرمتنازعہ ہوں۔ علی اصغر کھوسو، جعفرآباد: اگر یہ اجلاس کامیاب ہوبھی گیا تو بڑے نتائج کی امید نہیں ہے۔ میں ایک دیہات میں رہتا ہوں، پلیز میرا میل ضرور شامل کریں۔ محمد ارسلان، امریکہ: مجھے امید ہے کہ جموں و کشمیر آزاد ہوجائے۔ ایج شیراز عبدالوحید، پاکستان: جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوجاتا تب تک کوئی بھی معاہدہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔ کشمیر مسئلہ حل ہوجانے کے بعد بھی ہندوستان ہمیشہ اپنے مفاد مقدم رکھے گا۔ دنیا کے بڑے ممالک کا مقابلہ کرنے کے لئے سارک ممالک میں اعتماد ناگزیر ہوگیا ہے۔ سعید احمد تالپور، حیدرآباد: میرے خیال میں جنوبی ایشیا کے لئے نئی کرنسی کا نام سیکو siko ہونا چاہئے۔ علی رضا علوی، اسلام آباد: ہمیں جنوبی ایشیا میں یورپی یونین کی طرح مشترکہ مفادات کے لئے متحد ہوجانا چاہئے، پانچ عشروں سے لوگوں کے جذبات سے کھیل کر جائیدادیں بنانے کا ڈرامہ بہت ہوچکا۔ چونکہ بڑے ممالک ہندوستان اور پاکستان کی کرنسی روپیہ ہے، اس لئے نئی کرنسی کا نام بھی روپیہ رہے۔
ابو الحسن، ایبٹ آباد: مشترکہ کرنسی وہاں ہوتی ہے جہاں اعتماد ہو۔ یہاں یہ حال ہے کہ سارک کے رکن ممالک اپنے باہمی اختلافات تک زیر بحث نہیں لا سکتے تو اس صورت میں سارک اجلاس سے زیادہ توقعات وابستہ نہیں کی جا سکتیں۔ محمد انوار، بارسلونا: کرنسی کی بجائے نفرت کو بدل کر اس کا نام محبت رکھ دیا جائے اور اس پر باہمی عمل کیا جائے تو ہم آنے والوں کے لئے مشعل راہ چھوڑ جائیں گے۔ جان رضوان، سپین: سارک ممالک کی کرنسی کا نام ’ایشیا (asia)‘ کرنسی ہونا چاہئے۔
نامعلوم: وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی اور بھارت امن نہیں ہونے دیں گے۔ ان کے حالیہ بیانات نے تمام کوششوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ خواجہ امیر، مظفرآباد: تمام سارک ارکان کو آپس میں تعاون کرنا چاہئے تاکہ تمام علاقائی سیاسی مسائل کا حل ممکن بنایا جا سکے خصوصاً تنازعہ کشمیر ختم ہو سکے۔ عقیل احمد تالپور، حیدرآباد: میں تہہ دل سے دعا کرتا ہوں کہ سارک اجلاس پوری دنیا کے لئے امن کا گہوارہ بنے۔ تسکین فاطمہ، چین: پاکستان اور بھارت کے درمیان سب سے اہم اور بنیادی مسئلہ کشمیر ہے۔ اگر سربراہان مخلص ہیں تو انہیں ترجیحی بنیادوں پر کشمیر کا تنازعہ حل کرنا چاہئے۔
یاسر ممتاز، رنالا خرد: ’دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے۔‘ سب کہنےکی باتیں ہیں کیونکہ کشمیر کا مسئلہ تو حل ہوگا نہیں اور دوسرا یہ کہ ہندو بہت مکار ہیں۔ مشترکہ کرنسی سے دو قومی نظریہ، جو پاکستان کی اساس ہے، ختم ہو جائے گا اور کوئی بھی پاکستانی جس کے سینے میں دل ہے، ایسا ہونے نہیں دے گا۔ فہد سعید، راولپنڈی: نئی کرنسی کا نام ’ایشیئن روپی (asian rupee)‘ ہونا چاہئے۔ عبدالغفور، ٹورانٹو: میرے خیال میں اب وقت آ گیا ہے کہ دونوں ممالک کے سربراہان اس حقیقت کو سمجھیں اور قبول کریں کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ اختلافات اور لڑائی جھگڑے کی بنا پر زندگی نہیں گزاری جا سکتی۔ اگر جنوبی ایشیا میں معیشت مستحکم ہوتی ہے تو اس سے خطے میں امن کو فروغ ملے گا۔
عباس ہامیہ، ہنزہ: اللہ کرے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان یہ دوستی ہمیشہ برقرار رہے۔ پتہ نہیں کہ آگے کیا ہو گا۔ دونوں ممالک کو غریب عوام پر مزید توجہ دینی چاہئے۔ نئی کرنسی کا نام ’ساؤتھ ایشیئن ریجنل کرنسی آف پِیس (sarcop)‘ ہونا چاہئے۔ محمد عامر: اس کانفرنس کا انجام بھی وہی ہونا ہے جو اس سے پہلے ہوتا رہا ہے۔ میں جنوبی ایشیا کے رہنماؤں سے کسی مثبت نتیجے کی امید نہیں رکھتا۔ عنبرین بنگش، ٹورانٹو: اس خطے کے لئے کرنسی کا نام ’روپی (rupee)‘ ہی ہونا چاہئے۔ سارک ممالک کے درمیان آزادانہ تجارت اور یکجہتی صرف اسی صورت میں حاصل ہو سکتی ہے اگر تمام رکن ممالک سارک کے اصولوں پر عمل کریں۔ اسامہ خان، ملتان: کسی بات کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہ محض نشست گفت برخاست۔ نشاط کھوسو، نواب شاہ: خدارا کانفرنس کو کھانے پینے کی نذر نہ کرنا بلکہ مخلصانہ طور پر سوچ بچار کریں۔ انجم ملک، ہالینڈ: سارک ممالک کی نئی کرنسی کا نام ’روپی (rupee)‘ ہونا چاہئے۔ محبوب شفقت، پاکستان: نئی کرنسی ضرور متعارف کرانی چاہئے اور اس کا نام ’روپی (rupee)‘ ہی ہونا چاہئے۔
انصاری، شکاگو: نئی کرنسی کا نام ’روپی (rupee)‘ ہی ہونا چاہئے اور تمام سارک ممالک کو نیفٹا کی طرح آزاد تجارت کا کوئی طریقہ وضع کرنا چاہئے۔ دونوں ممالک کے درمیان سب سے بڑا مسئلہ اور کانٹا کشمیر ہے۔ کشمیر کو خود مختار ریاست بنا کر یہ کانٹا نکال باہر کرنا چاہئے۔ محمد فدا، ٹورانٹو: ایک کرنسی بنانا دانشمندانہ قدم ہو گا تاہم ایسا کرنے کے لئے بہت سوچ بچار اور غور کرنےکی ضرورت ہو گی۔ مبارک چوہدری، لاہور: اگر دونوں ممالک قیام امن کی کوششیں کرتے ہیں تو یہ مستقبل کے لئے بہت اچھا ثابت ہو گا۔ نئی کرنسی کا نام ’روپی (rupee)‘ ہی ہونا چاہئے۔ محمد عارف، نیوجرسی: سارک کانفرنس مبارک ثابت ہو اور آزاد تجارت شروع ہو اور اس کے بعد کشمیر کا مسئلہ حل ہو اور اس کے بعد نئی کرنسی کا نام بھی ’سارک (saarc)‘ ہو۔
ساحر، کراچی: میرے خیال میں نئی کرنسی کا نام ’ساؤتھ ایشیئن ڈالر (SAD)‘ ہونا چاہئے کیونکہ طاقت اور امریکی اجازت کے بغیر کچھ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ رمضان نعیم، برسلز: کرنسی کا نام ’روپی (rupee )‘ ہی رہے تو اچھا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت متحدہ ہو جائیں تاکہ جنوبی ایشیا بھی ایک طاقت بن کر ابھرے۔ ڈاکٹر محمد جمیل ہاشمی، مسیساگا: مسئلہ کشمیر حل کرنا اولیں ترجیح ہونی چاہئے تاکہ سارک ممالک کے درمیان آزاد تجارت کو ممکن بنایا جا سکے۔ اس کام کے لئے بھارتی وزیراعظم کو انتہائی ذمہ دارانہ رویے کا اظہار کرنا چاہئے۔
محمد علی، میرپور خاص: اگر دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ اقتصادی روابط برقرار کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس سے باہمی تنازعات میں بہت کمی آئے گی۔ کیونکہ میری رائے میں اقتصادی صورت حال سیاسی حالات کی ماں ہے۔ بقول شخصے دوست یا دشمن نہیں بلکہ قومی مفادات مستقل ہوتے ہیں۔ طفیل سومرو، شیخوپورہ: کرنسی کا نام بدلنے سے عوام کی حالت بہتر نہیں کی جا سکتی۔ ہارون رشید، سیالکوٹ: چونکہ سارک کے تین رکن ممالک کی کرنسی کا نام روپی ہے اس لئے نئی کرنسی کا نام بھی ’روپی (rupee)‘ ہی ہونا چاہئے۔ شاہ جہاں، اسلام آباد: میرے خیال میں مشترکہ کرنسی اچھی چیز ہے اور اس سے دونوں ممالک میں تجارت کو فروغ ملے گا۔ کرنسی کا نام ’پاکو (pako)‘ ہونا چاہئے۔ ناصر افضل، اسلام آباد: نئی کرنسی کا نام ’سارکو (saarco)‘ ہونا چاہئے۔
ثاقب محی الدین، اٹلانٹا: ہم نے امیدیں کرنی چھوڑ دی ہیں بس یہ دعا کرتے ہیں کہ کشمیر کے معاملے میں تیرا میرا کرنے کی بجائے کچھ ایسے فیصلے کئے جائیں جس سے ایشیا میں پائی جانے والی غربت کم ہو اور عام انسان کو جینے کا حق ملے اور تمام مذاہب کے پیروکاروں کو مذہبی آزادی حاصل ہو سکے۔ شیریار خان، سنگاپور: یہ دونوں ممالک کے لئے اچھا موقع ہے کہ وہ اپنے سیاسی اور اقتصادی تنازعات ختم کر کے ایک دوسرے کے قریب آئیں۔ میرے خیال میں نئی کرنسی کا نام ’ آزاد روپی (azad rupee)‘ ہونا چاہئے۔ البتہ دونوں ممالک کی موجودہ قیادت کے حوالے ایسی کوئی پیش رفت ناممکن دکھائی دیتی ہے۔ سید عمیر شاہ، نیویارک: پاکستان کے عوام کو او آئی سی کے حوالے سے ماضی اور حال کو نظر میں رکھنا چاہئے۔ بہرحال پاکستان اس وقت بالکل صحیح سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔
نعیم میمن، امریکہ: تمام سارک ممالک کے عوام کو یہ بات قبول کرنی ہو گی کہ وہ ہمیشہ کے لئے ہمسائے بن جائیں گے اس لئے انہیں ایک دوسرے کا ہر حال میں احترام کرنا چاہئے۔ انہیں یہ بات بھی فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ یورپ میں صدیوں کی جنگی تاریخ کے باوجود جس میں دو عالمی جنگیں بھی شامل ہیں، انہوں نے یہ بات اچھی طرح سیکھ لی ہے کہ ایک دوسرے کا احترام بہت ضروری ہے۔ میں یہی کہنا چاہوں گا کہ عبرت لیجئے نہ کہ عبرت بنیئے۔ ہاشمی، پاکستان: یہ سب بالکل ناممکن ہے۔
سراج الدین، برطانیہ: میرے خیال میں یورو کرنسی کے اعتبار سے سارک ممالک کی کرنسی کا نام ’سارو (saro)‘ کرنسی ہونا چاہئے۔ ندیم اقبال، اسلام آباد: میرے خیال میں مشترکہ کرنسی سے دونوں ممالک کو فائدہ پہنچے گا اور کرنسی کا نام سارو ہونا چاہئے۔ ظفر حسین، فیصل آباد: کرنسی روپیہ ہی ہونی چاہئے۔ آزاد تجارت کے لئے بھارت کو کشمیر کے مسئلے پر ہٹ دھرمی چھوڑنی ہو گی۔
سننی، نیویارک: میرے خیال میں دنیا کے طاقتور ممالک چاہتے ہیں کہ ہندوستان اور پاکستان امن کے ساتھ رہیں۔ لیکن اگر ہم امید کریں کہ سارک کی وجہ سے ہمارے ملکوں کی قسمت بدل جائے گی، تو یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ طاقتور ممالک ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ گن پت سِنگھ راجپوت، جام شورو، پاکستان: ان دونوں ملکوں کے درمیان ایک ہی نام کی کرنسی ہونی چاہئے۔ کیونکہ پاکستان اور انڈیا دونوں ملکوں میں روپیہ رائج الوقت سکہ ہے۔ دوسرے ممالک بھی کرنسی کا یہی نام رکھیں تاکہ جنوبی ایشیا میں ایک ہی سکہ ہو۔ محمد خلیق الرحمان، کراچی: آزاد تجارت تو ہو سکتی ہے لیکن کرنسی ایک نہیں ہو سکے گی۔ سب سے بڑا مسئلہ جو سامنے آئے گا وہ ہے کشمیر کا۔ رابعہ نظیر، ناروے: امیدیں تو اچھی ہیں لیکن اب انجام بھی اچھا ہونا چاہئے۔ کرنسی روپیہ ہی رہے تو اچھا ہے۔ الطاف حسین، لطیف آباد، پاکستان: سارک کانفرنس دوطرفہ مسائل پر گفتگو کے لئے اچھا موقع ہے، اس کے ذریعے تنازعۂ کشمیر کا بھی حل ہوسکتا ہے۔ دونوں ملکوں کے عوام امن چاہتے ہیں۔
سعید احمد چشتی، پاک پٹن: کرنسی کا نام جو بھی اصل مقصد تو یہ ہونا چاہئے کہ دونوں ملک اپنے عوام کے فائدے کے لئے کام کریں۔ مگر افسوس اس بات کا ہے کہ دونوں ممالک کی حکومتیں لایعنی معامالات میں الجھی ہوئی ہیں اور دونوں ملکوں کے عوام بھوک سے مر رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کو حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرنا چاہئے تاک غریب لوگ دو وقت کی روٹی کھا سکیں اور جنوبی ایشیا میں امن قائم رہ سکے۔ میں اللہ سے بھی دعاگو ہوں کہ ہمارے خطے میں امن و سکون اور سلامتی کا دور دورہ ہو۔
سلمان ظفر، کینیڈا: سب سے پہلے تو میں تمام سارک ممالک کے رہنماؤں کا شکرگزار ہوں، بالخصوص بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کا جو اس اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔ میں ہندوستان اور پاکستان کے رہنماؤں کی تعریف کرتا ہوں کہ وہ اس خطے میں امن و امان قائم کرنے کا عہد کیے ہوئے ہیں۔ سارک کانفرنس ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دوستانہ روابط قائم کرنے میں اہم ثابت ہوسکتا ہے۔ میں نئی کرنسی کا نام سیوsave رکھنا چاہوں گا جس کا مطلب ہے ساؤتھ ایشیا ویلیو ایکونامی۔ جاوید اقبال، سالمیہ، کویت: کشمیر مسئلے پر پیش رفت کی کوئی امید نہیں ہے۔ اگر آزادانہ تجارت پر کچھ معاہدہ ہوا بھی تو اس کا فائدہ ہندوستان کے تاجروں کو ہوگا۔ صالح محمد، راولپنڈی: کرنسی کا نام تو روپیہ rupee ہی ہونا چاہئے۔ تمام دنیا اپنے اپنے مسائل حل کررہے ہیں، پاکستان اور انڈیا کو بھی اب حقیقت پسندی کا ثبوت دینا ہوگا۔ اس خطے کے عوام بہت غریب ہیں۔ خدا را کچھ تو ان کا خیال کر لیں۔ مظہر زیدی، لندن: میرے خیال میں چونکہ اس علاقائی تنظیم کا نام سارک ہے، اس لئے نئی کرنسی کا نام سارکو saarco ہونا چاہئے۔ جاوید اختر، پشاور: پاکستان کی کرنسی روپیہ rupee ہے۔ نئی کرنسی کا نام بھی روپیہ رہنے دیا جائے۔ بھارت میں بھی روپیہ ہی رائج ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||