| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
شیخ رشید کی جگہ شوکت عزیز
حکومت پاکستان نے شیخ رشید احمد کو بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی میزبانی سے ہٹا دیا گیا ہے اور ان کی جگہ وزیر خزانہ شوکت عزیز کو میزبان وزیر کے فرائض سونپے گئے ہیں۔ شیخ رشید احمد چند دن پہلے ہی بھارتی وزیرِ اعظم کے وزیر مہمان داری مقرر ہوئے تھے۔ لیکن جمرات کو بغیر کوئی وجہ بتائے ان کو تبدیل کر دیا گیا۔ جب شیخ رشید احمد سے، جو اپنے آّپ کو موجودہ حکومت کے ترجمان گردانتے ہیں، رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ بات ٹھیک ہے کہ اب انہیں بھارتی وزیر اعظم کے وزیر مہمان داری کے فرائض سے ہٹا دیا گیا ہے اور اس کی اطلاع ان کو ایک فیکس کے ذریعے ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے اور نہ ہی وہ اس پر کوئی تبصرہ کریں گے‘۔ وفاقی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ فیصلہ بھارتی وزارت خارجہ کی طرف سے شیخ رشید کی نامزدگی پر اعتراز کے بعد کیا گیا تھا۔ شیخ رشید احمد کچھ عرصے سے بھارتی نائب وزیر اعظم لال کرشن ایڈوانی کے بیانات کے مقابلے میں بیانات دے رہے ہیں اور خاص طور پر ان کا وہ بیان کافی متنازعہ بنا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر بھارت نے پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو اس کو اس طرح تباہ کیا جائے گا کہ وہاں گھاس بھی نہیں اگے گی۔ اس کے بعد شیخ رشید کو بیان بازی سے روک دیا گیا تھا اور وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا تھا کہ شیخ رشید نے یہ بیان کسی ذاتی حیثیت میں دیا ہو گا اور وہ حکومت پاکستان کی ترجمانی نہیں کرتے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||