BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 January, 2004, 12:56 GMT 17:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عوامی اور صحافی سارک اجلاس

سرکاری اجلاس سے قبل عوامی اجلاس

سرکاری سارک اجلاس سے قبل ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی سول سوسائٹی کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ماہرین کی غیر سرکاری اور عوامی سارک اجلاس دو سے چار جنوری کے درمیان اسلام آباد میں شروع ہورہا ہےـ

عوامی سارک اجلاس کے تمام انتظامات مکمل کرلئےگئے اور سارک کے رکن ممالک سے تعلق رکھنے والے ممالک سے پچاس کے قریب مندوب ماہرین شرکت کررہے ہیں جبکہ لگ بھگ اتنی ہی تعداد میں میزبان ملک پاکستان کے ماہرین شرکت کریں گے۔

ساؤتھ ایشیاء پارٹنرشپ ـ پاکستان (سیپ) اور ساؤتھ ایشیاء پارٹنر شپ انٹرنیشنل کے زیر انتظام منعقد ہونے والے اس عوامی اجلاس سمٹ کے اہتمام کے لئے گیارہ دیگر غیر سرکاری ادارے اور تنظیمیں تعاون کررہی ہیں جن میں ایکشن ایڈ (ایشیاء) عورت فاؤنڈیشن، کرسچن سٹڈی سینٹر، سول جنکشن ، سیچٹ (SACHET) ساؤتھ ایشیاء الائنس فار پاورٹی ایراڈیکیشن، ایس پی او، سنگی ڈولپمنٹ فاؤنڈیشن اور دی نیٹ ورک شامل ہیں ـ

بارہواں سرکاری سربراہی سارک اجلاس اسلام آباد میں چار جنوری کو شروع ہو رہا ہے اور چھ جنوری کو ختم ہوگا۔ جبکہ چوتھا عوامی سارک اجلاس اس دن ختم ہوگا جس دن سرکاری اجلاس شروع ہوگا۔ عوامی سمٹ میں سرکاری اجلاس کیلئے سفارشات مرتب کی جائیں گے تاکہ عوامی مسائل کے حل اور فلاح و بہبود کیلئے فیصلے کئے جاسکیں۔

عوامی اجلاس کا افتتاحی اجلاس نیشنل لائبریری ہال میں دوجنوری سے ہورہا ہے جس سے سیپ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد تحسین، سیپ انٹرنیشنل کی چیئرپرسن بشرٰی گوہر کے علاوہ بنگلہ دیش سے آئی ہوئی طالیہ رحمان، بھارت کے بابو میتھیو، نیپال کے ڈاکٹر روہت کمار نیپالی، پاکستان کے کرامت علی اور سری لنکا کے سارتھ فرنانڈو خطاب کر رہے ہیں۔

عوامی سارک سمٹ کا بنیادی مقصد ہے کہ تمام رکن ممالک میں سِول سوسائٹی کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ماہرین حکومتی سارک سمٹ کے لئے سفارشات مرتب کریں تاکہ عوام کے حقیقی مسائل پر ہی توجہ مرکوز کی جاسکے۔

چوتھی عوامی سارک سمٹ کا پانچ نکاتی ایجنڈا واضح کیاگیا ہے جن میں غربت کے خاتمے اور جینے کی ضمانت، اقتصادی تعاون، سافٹا اور ڈبلیو ٹی او، امن اور انسانی تحفظ، سماجی ترقی، عورتوں اور بچوں کی سمگلِنگ (ٹریفکنگ) کی روک تھام شامل ہیں۔

عوامی سمٹ کے رضا کار شیراز راج، مصطفٰی نذیر احمد اور مظہری عارف سے جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ سیپ کی طرز کی تنظیمیں بنگلہ دیش، نیپال، پاکستان، سری لنکا اور بھارت میں قائم ہیں جو مشترکہ کوششیں کرکے عین عوامی فلاح بہبود اور فوری مسائل پر توجہ مرکوز کرانےکیلئےکوشاں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ آٹھ سے دس دسمبر دوہزار کو کولمبو میں جب گیارہویں سارک سربراہ اجلاس منعقد ہونا تھا اور وہ بعض وجوہات کی بنا پر ملتوی کردیا گیا تھا تو بھی پہلا عوامی سارک اجلاس منعقد ہوا تھا۔ جس میں امن اور علاقائی تعاون کے فروغ، مقامی اور علاقائی حکمرانی کے معاملات ، انسانی حقوق اور انسانی ترقی، عورتوں کو بااختیار بنانا اور بچوں کے حقوق کے مسائل پر فوری توجہ کیلئے سفارشات مرتب کی گئی تھیں۔

دوسرا عوامی اجلاس چار سے چھ جنوری دو ہزار ایک کو کٹھمنڈو میں منعقد ہوا جس میں جنسی مقاصد کیلئے عورتوں اور بچوں کی سمگلنگ (ٹریفکنگ) کو روکنے، چھوٹے ہتھیار اور اسلحہ کے کاروبار کا خاتمہ اور عالمگیریت (گلوبلائزیشن) کے منفی اثرات کا مقابلہ کرنے کےنکات پر فوکس کیا گیا تھا۔

تیسرا عوامی اجلاس گیارہ سے تیرہ جنوری دو ہزار تین کو بارہویں سرکاری اجلاس کے موقعہ پر اسلام آباد میں منعقد کیا گیا تھا۔ سرکاری سمٹ تو ملتوی ہوگئی لیکن عوامی سمٹ اس جذبے کے تحت منعقد کی گئی کہ ان دنوں میں کشیدہ حالات کے پیش نظر اگر حکومتی سربراہ نہیں مل رہے تو کیوں نہ سول سوسائٹی کے نمائندے مل بیٹھیں اور مسائل کے حل کے لئے سفارشات مرتب کریں۔

بارہویں سارک سربراہی سمٹ کے موقعہ پر جنوبی ایشیاء کے میڈیا کے تعاون کی تنظیم ساؤتھ ایشیاء فری میڈیا ایسوسی ایشن (سیفما) بھی صحافیوں کا اجلاس راولپنڈی میں دو سے چار جنوری کے درمیان ’سارک جرنلسٹ سمٹ‘ منعقد کررہا ہےـ جس میں بھی سارک کے رکن ممالک سے پچاس سے زائد وفود شریک ہورہے ہیں، اس کانفرنس کا موضوع ’آزادنہ معلومات تک رسائی‘ ہے۔

سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ سرکاری نمائندے تو مصلحتوں کا شکار ہوتے ہیں لیکن سول سوسائٹی کے نمائندے وہ صحافی ہوں یا سماجی سائنسدان یا ترقیات کے ماہرین ان کے مل بیٹھنے سے ایک دوسرے کے مسائل کو سننے سمجھنے اور ان کے ممکنہ حل کیلئے مشترکہ لاحیہء عمل بنانے میں مدد ملتی ہے۔

سول سوسائٹی کی ان تنظیموں کے مختلف پلیٹ فارم سے بعض اوقات یہ مطالبے بھی ماضی میں ہوتے رہے ہیں کہ جنوبی ایشیاء کو جوہری بموں سے پاک کیا جائے۔

مذہبی جنونیت اور شدت پسندی کے خاتمے کیلئے باہمی تعاون کو وسیع کیا جائے اور تمام ممالک اس ضمن میں فوری اقدامات اٹھائیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد