| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
سارک کیلئے صحافیوں کی بارات
بارہواں سارک سربراہی اجلاس اسلام آباد میں چار سے چھ جنوری کو منعقد ہوگا لیکن ہندوستان کے ذرائع ابلاغ میں سارک سے متعلق خبریں گزشتہ کئی ہفتوں سے ہی صفحۂ اول کی زینت بنی ہوئی ہیں۔ سارک اجلاس کے بارے میں اس قدر دلچسپی ہے کہ دو سو سے زیادہ صحافی اجلاس کی کوریج کے لئے اسلام آباد جارہے ہیں۔ دوسال کے وقفے کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان فضائی رابطہ پہلی جنوری سے بحال ہورہا ہے۔ پہلی جنوری کو پاکستان جانیوالی پی آئی اے کی جو پہلی پرواز ہوگی اس میں بھی ایک بڑی تعداد صحافیوں کی ہوگی۔ انڈین ایئرلائنز نے صحافیوں کے لئے دو جنوری کو نئی دہلی سے اسلام آباد کے لئے خصوصی پرواز کا بھی بندوبست کیا ہے۔ ہندوستان کے ہندی، انگریزی اور دیگر زبانوں کے کم از کم دس نیوز چینل کے نمائندے اسلام آباد جارہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ملک کے ایک سرکردہ ٹیلی ویژن نیٹ ورک نے اکیلے ہی تیس نامہ نگاروں اور تکینیکی ماہرین کے لئے دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن سے ویزے کی درخواست کی تھی۔ اخباروں کے صحافیوں کی تعداد بھی بہت زیاد ہے۔ پاکستان میں صدر پرویز مشرف پر حال میں قاتلانہ حملوں کے مدنظر سلامتی کا سوال بھی بہت اہم بن گیا ہے اور صحافیوں کو ویزہ دینے سے لیکر ان کے پاس وغیرہ جاری کرنے میں دونوں حکومتیں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کررہی ہیں۔ بیشتر صحافیوں کے لئے یہ پاکستان کا پہلا سفر ہوگا۔ دارالحکومت نئی دہلی کے صحافتی حلقوں میں کافی جوش و خروش ہے۔ نئے سال کے جشن کے ساتھ متعدد صحافی اسلام آباد کے سفر کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ کہنے کو تو جنوبی ایشائی ملکوں کی تعاون کی تنظیم سارک کا یہ سربراہی اجلاس ہے لیکن گزشتہ دو برسوں کی زبردست تلخی کے مدنظر یہ ایک طرح سے ہند پاک اجلاس بن کر رہ گیا ہے۔ ہندوستان کے اخباروں اور ٹیلی ویژن چینلوں پر اس طرح کے موضوعات پر بحث ہورہی ہے کہ کیا جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم ظفراللہ جمالی سے ہندوستان کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی ملاقات کریں گے یا نہیں۔ اس اجلاس سے دونوں ملکوں کے تعلقات بہتر ہوں یا نہ ہوں، اتنا ضرور ہے کہ صحافیوں میں کافی جوش و خروش ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||