BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 30 December, 2003, 14:42 GMT 19:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سارک کے ترجیحی تقاضے

نومبر دوہزار ایک: کٹھمنڈو سارک اجلاس
دوہزار ایک: کٹھمنڈو سارک اجلاس

سری لنکا کے سابق وزیرخارجہ لکشمن کدِرکامر کا خیال ہے کہ جنوبی ایشیا میں ہم آہنگی کے فروغ کیلئے دو نکات اہم ہیں: حکومتوں کا سیاسی عزم، اور اس بات کا اعتراف کہ وسائل، معیشت اور جغرافیائی لحاظ سےہندوستان کو خطے میں ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے جو تبدیل نہیں کی جاسکتی۔ تو کیا جنوبی ایشیا کے رہنما کدِرکامر کی رائے سے اتفاق رکھتے ہیں؟

اسلام آباد میں چار جنوری سے منعقد ہونیوالے سہ روزہ سارک اجلاس سے قبل پاکستانی رہنماؤں کے بیان سے لگتا ہے کہ وہ اس اجلاس کی کامیابی کا تہیہ کیے ہوئے ہیں جبکہ حکومتِ ہند اس بات پر اصرار کررہی ہے کہ وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی پاکستان سے دوطرفہ معاملات پر گفتگو نہیں کریں گے۔ تو کیا ماضی کی طرح ایک بار پھر جنوبی ایشیا کے عوام علاقائی یکجہتی کے فروغ کیلئے اپنے رہنماؤں کا منہ تکتے رہیں گے اور ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگے گی؟

سارک اجلاس کے ایجنڈے پر سب سے اہم معاملہ جنوبی ایشیا میں آزادانہ تجارت کو فروغ دینے والا معاہدہ یعنی سافتا کے مسودے پر اتفاق کی ضرورت ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ آزادانہ تجارت اور اقتصادی ڈِپلومیسی مستقبل میں دوطرفہ اختلافات کو بےمعنی بنانے میں کامیاب رہے گی۔ حالیہ دنوں میں ہندوستان، پاکستان، سری لنکا، بنگلہ دیش، بھوٹان، نیپال اور مالدیپ ساپتا یعنی جنوبی ایشیا میں ترجیحی تجارت کے معاہدے کے تحت ٹیکس کم کرکے دوطرفہ تجارت کو فروغ دیتے رہے ہیں۔ لیکن اصل مقصد سافتا کا حصول ہے اور اس میں رکاوٹ بڑے اور چھوٹے کی تفریق نظر آتی ہے۔

جنرل مشرف نے تنازعۂ کشمیر پر لچک کا مظاہرہ کیا ہے
جنرل مشرف نے تنازعۂ کشمیر پر لچک کا مظاہرہ کیا ہے

علاقائی تعاون کی تنظیم سارک میں چار ایسے ممالک شامل ہیں جنہیں اقوام متحدہ کے اقتصادی معیار کے تحت انتہائی غریب ملک کہا جاتا ہے: بنگلہ دیش، بھوٹان، نیپال اور مالدیپ۔ ان کی معیشتیں اتنی کمزور اور چھوٹی ہیں کہ سافتا کے قیام کے بعد انہیں ہندوستان، پاکستان اور سری لنکا کے تاجروں سے خطرات کا سامنا ہوگا۔ یہ چاروں ممالک مطالبہ کررہے ہیں کہ سافتا کے مسودے میں انہیں ترجیحی اختیارات دیے جائیں تاکہ ان کے تاجروں کو علاقائی منڈی میں تحفظ حاصل ہوسکے۔ لیکن بڑے ممالک ہندوستان، پاکستان اور سری لنکا یہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

اور یہی وجہ تھی کہ گزشتہ چوبیس دسمبر کو جب ان ملکوں کے کامرس سیکریٹریوں نے اسلام آباد میں اپنا دوروزہ اجلاس ختم کیا تو سافتا کے مسودے پر اتفاق نہیں ہوسکا، اور عین ممکن ہے کہ سارک سربراہی اجلاس میں بھی ان ملکوں کے رہنما کسی سمجھوتے کے بغیر واپس چلے جائیں، بالکل ویسے ہی جیسے اس سال میکسیکو کے شہر کین کن میں ہونے والے بین الاقوامی تجارتی مذاکرات بڑے ملکوں کی لالچ کی نذر ہوگئے تھے۔

اس طرح کے بین الاقوامی مذاکرات کامیاب بھی ہوتے ہیں اور ناکام بھی۔ لیکن ہر حال میں اتنا ضرور ہوتا ہے کہ ایسے مواقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے شرکاء اپنے دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن وزیراعظم واجپئی اسلام آباد میں پاکستانی رہنماؤں سے دوطرفہ مذاکرات نہیں کرینگے۔ کیوں؟

کیا وزیراعظم واجپئی کوئی تاریخ ساز قدم اٹھائیں گے؟
کیا وزیراعظم واجپئی کوئی تاریخ ساز قدم اٹھائیں گے؟

کیا ہندوستان کے سفارت کار صرف پاکستان میں شدت پسندی، سری لنکا میں تامل باغی تحریک، نیپال میں ماؤنواز گوریلوں، بنگلہ دیش میں القاعدہ عناصر کی مبینہ موجودگی، اور بھوٹان میں ہندوستان مخالف باغیوں کے بارے میں ہی فکرمند رہیں گے؟ یا ہندوستان ان پڑوسی حکومتوں کے ساتھ مل کر سافتا جیسے مشترکہ لائحہ عمل کے ذریعے ان ملکوں میں استحکام اور عوام کی خوشحالی کا بھی خواہاں ہوگا؟

وزیراعظم واجپئی نے بھلے ہی یورپی یونین کی طرز پر اس علاقے میں ایک مشترکہ کرنسی رائج کرنے کی تجویز پیش کی ہو، لیکن جنوبی ایشیا میں یکجہتی اور آزادانہ تجارت کے فروغ کے لئے ضروری ہوگا کہ اس علاقے کے بڑے ممالک ہندوستان، پاکستان اور سری لنکا دیگر چار انتہائی غریب ملکوں کو تجارتی ترجیحات فراہم کریں تاکہ سافتا کا قیام ممکن بنایا جاسکے۔ بین الاقوامی سطح پر اچھا دِکھائی دینے کے لئے صرف بیان دے دینا کافی نہیں ہوتا۔

پاکستانی رہنماؤں نے جنوبی ایشیا میں ہندوستان کی مرکزی حیثیت کا اعتراف یہ کہہ کر تو کرلیا کہ وہ ہندوستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے خواہاں ہیں اور یہ کہ تنازعۂ کشمیر سارک اجلاس میں زیربحث نہیں ہوگا۔ لیکن کیا وزیراعظم واجپئی اس سیاسی عزم کا مظاہرہ بھی کریں گے جس کا ذکر سری لنکا کے سابق وزیر خارجہ کدِر کمار نے اخبار ’ہندو‘ میں شائع ہونے والی پنی ایک تحریر میں کیا ہے؟

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد