| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان آ رہا ہوں: واجپئی
بھارت کے وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپئی نے اپنے پاکستانی ہم منصب کو ایک خط لکھا ہے جس میں انہوں نے تصدیق کی ہے کہ وہ آئندہ ماہ اسلام آباد میں ہونے والی سارک سربراہ کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ یہ کانفرنس چار جنوری سے شروع ہو رہی ہے۔ تاہم ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ کیا بھارتی وزیرِاعظم صدر جنرل پرویز مشرف سے بھی بات چیت کریں گے یا نہیں۔ اس سے قبل بھارت نے پاکستان کے ساتھ اعلیٰ سطح پر بات چیت کے امکان کو مسترد کر دیا تھا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ واجپئی کے پاکستان دورے سے دونوں ممالک کے درمیان حالیہ امن کوششوں کو تقویت ملے گی۔ پاکستان کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد وزیرِ اعظم واجپئی نے اخبار نویسوں کو بتایا تھا کہ وہ پاکستان جا کر اپنے ہم منصب ظفراللہ جمالی سے ملنے کے لئے تیار ہیں۔ اب بھارتی وزیرِ اعظم نے وزیرِ اعظم جمالی کو ایک خط لکھا ہے جس میں انہوں نے سارک کانفرنس میں شرکت کی تصدیق کی ہے۔
پاکستان کے جنگ بندی کے فیصلے پر دونوں اطراف کے لوگوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ کئی برس سے یہ لوگ بارود کی گونج میں زندگی گزار رہے ہیں۔ تاہم بھارت نے خبردار کیا ہےکہ جب تک پاکستان کشمیر میں بھارتی حکمرانی کے مخالف شدت پسندوں کو لگام نہیں ڈالتا جنگ بندی کا اعلان کی حیثیت کافی کمزور رہے گی۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کا شدت پسندوں پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ پاکستان کے کنٹرول لائن پر جنگ بندی کے اعلان کے بعد دنوں ملکوں کے درمیان امن کوششوں میں کافی تیزی آئی ہے۔ دونوں ملک سفری اور تجارتی رابطے بہتر بنانے کے طریقوں پر بھی غور کر رہے ہیں۔ اگلے ماہ کی سارک کانفرنس میں بنیادی طور پر تجارت کے معاملات پر بات چیت ہوگی لیکن اس کانفرنس کے دوران پاکستان اور بھارت دونوں کے اعلیٰ اہلکارووں کو اس بات کا بھی موقع ملے گا کہ وہ حساس نوعیت کے ان مسائل پرگفتگو کریں جو ان کے درمیان مختلف تنازعات کا سبب ہیں۔ اس سے قبل اعلیٰ سطح پر دنوں ملکوں کے درمیان رابطہ اس وقت ہوا تھا جب پاکستان کے صدر اور بھارت کے وزیرِ اعظم نے آگرہ میں ملاقات کی تھی۔ البتہ یہ مذاکرات کشمیر کے مسئلے پر متنازعہ موقف کے باعث بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||