BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 16 September, 2003, 14:46 GMT 18:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بھارتی رویے سے مایوسی ہوئی‘
پاکستان کے وزیرخارجہ خورشید قصوری
پاکستان کے وزیرخارجہ خورشید قصوری

پاکستان کے وزیرخارجہ خورشید قصوری نے کہا ہے کہ مذاکرات کے بارے میں بھارت کے منفی رویئے سے مایوسی‘ ہوئی ہے تاہم وہ پرامید ہیں۔

سری لنکا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات بحال ہونے چاہیے ہیں اور ان کا ملک لائن آف کنٹرول کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے سارک ممالک سے مبصرین کی آمد کو خوش آمدید کہے گا۔

دوسری طرف بھارتی وزیر خارجہ یشونت سنہا نے کہا ہے کہ ضروری نہیں کہ جنوری میں پاکستان میں مجوزہ سارک ممالک کا اجلاس پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کی بحالی کا موقع یا ماحول فراہم کرسکے۔

پاکستان سے شائع ہونے والے انگریزی اخبار ’دی نیوز‘ کو دیئے گئے انٹرویو میں یشونت سنہا نے کہا کہ متنازعہ امور پر تبادلۂ خیال کے لئے دونوں ممالک کے رہنماؤں کی ملاقات سے قبل ’مناسب اور ضروری تیاریاں‘ لازمی طور پر کی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ غیر ضروری توقعات وابستہ نہ کی جائیں۔ سارک ساؤتھ ایشیئن ایسوسی ایشن فار ریجنل کوآپریشن (جنوبی ایشائی تنظیم برائے علاقائی تعاون) ایک کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے جس میں سات ممالک شامل ہیں اور اس کا یہ قطعاً مطلب نہیں ہے کہ اس تنظیم کے اجلاس میں پاکستان اور بھارت کے درمیان دو طرفہ تعلقات پر مذاکرات بھی کئے جائیں گے۔‘

سارک ممالک کا بارہواں اجلاس جنوری میں پاکستان میں متوقع ہے اور بھارت نے عندیہ ظاہر کیا ہے کہ بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی اس اجلاس میں شرکت کے لئے پاکستان جائیں گے۔

یشونت سنہا نے کہا کہ ’سارک اجلاس میں اب زیادہ وقت نہیں رہ گیا ہے اور یہ قلیل مدت دونوں ممالک کے مذاکرات کے لئے ناکافی ہے۔‘

سارک ممالک کا یہ اجلاس اصل میں گزشتہ جنوری میں ہونا تھا تاہم بھارت کی جانب سے پاکستان سے تعلقات اس وقت کشیدہ ہونے کے سبب اس اجلاس میں شرکت سے انکار پر اس کو مؤخر کردیا گیا تھا۔

دو روز قبل پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید قصوری نے کہا تھا کہ وہ وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کو سارک اجلاس میں شرکت کی دعوت دینے کے لئے اگلے ماہ ہندوستان جائیں گے۔

انہوں نے یہ بات نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو میں ایک بیان میں بتائی۔ پاکستانی وزیر خارجہ آئندہ سارک سربراہ اجلاس میں شرکت کی دعوت کے لئے رکن ممالک کا دروہ کر رہے ہیں۔

تاہم ان کے اس بیان پر بھارتی سیکریٹری خارجہ کنول سیبال کا کہنا تھا کہ ’اس اجلاس میں شرکت کے لئے ذاتی طور پر دعوت نامہ دینا کوئی ضروری نہیں ہے۔‘

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد