BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میری ڈائری: برطانیہ اور پاکستانی

عاصم الدین
عاصم الدین

میری عمر ستائیس سال ہے، میں یونیورسٹی میں آف ایسٹ لندن میں بزنس انفارمیشن سِسٹم میں ایم ایس سی کا طالب علم ہوں۔ یہاں یونیورسٹی میں اتنی سہولیات ہیں کہ ہم ان کا پاکستان میں تصور بھی نہیں کرسکتے جیسے اسٹوڈنس یونین، ٹیچر، وکیل اور یونیورسٹی کے اہلکار کافی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ جبکہ پاکستان میں کسی طالب علم کو اپنے ٹیچر سے بات کرنے میں بھی سوچنا پڑے۔

ڈھائی سال قبل یہاں آنے سے پہلے میں کراچی میں میں لیکچرار تھا۔ میں پاکستان واپسی پر ایک ٹیچر کی حیثیت سے اپنے طالب علموں کے ساتھ اسی طرح کا کھلا رویہ اختیار کرنا چاہوں گا۔

پاکستان کی نسبت برطانوی معاشرے میں جو فرق مجھے نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ یہاں لوگ گول مول بات نہیں کرتے۔ عوام میری بات پر اعتماد کرتے ہیں، سچائی بہت ہے، لوگوں کا رویہ حقیقت پسندانہ ہے۔ پاکستان میں اپنے ایم این اے اور ایم پی اے سے ملنا بہت مشکل ہوتا ہے لیکن برطانیہ میں اپنے منتخب نمائندوں سے ملنا اتنا آسان ہے کہ ہم ایسا سوچ بھی نہیں سکتے۔

سنا تھا کہ گورے لوگ سبھی کام خود ہی کرتے ہیں، یہاں آنے کے بعد پتہ چلا۔میں نے پاکستان میں کبھی کھانا نہیں بنایا تھا لیکن یہاں آنے کے بعد گھر کے چھوٹے موٹے سبھی کام خود ہی کرنے پڑتے ہیں۔ اس طرح کا رویہ معاشرے کی بہتری کے لئے اچھا ہے۔ پاکستان میں بھی گھر کے چھوٹے موٹے کام خود کرنے کی عادت ڈالی جائے تو معاشرے میں کافی تبدیلی آسکتی ہے۔ یہاں سڑکوں پر صفائی ہے، کچڑہ گھر کے باہر نہیں جمع رہتا۔

یہاں پر پاکستانی طالب علموں کی زندگی بہتر ہے۔ برطانیہ یا دیگر مغربی ملکوں کی کامیابی کی وجہ شاید یہ ہے کہ اگر آپ یہاں کچھ کرنا چاہیں تو وہ ممکن ہے، لیکن پاکستان میں اگر کوئی اچھا کام بھی آپ کرنا چاہیں گے تو چینج یا تبدیلی کے لئے کوئی تیار نہیں ہوگا۔ یہاں ویسا نہیں ہے۔

یہاں کے معاشرے میں مسائل ہیں، جیسے نسلی امتیاز سے متعلق خبریں سننے کو ملتی ہیں۔ لیکن سب کو یہ بھی معلوم ہے کہ اس کے خلاف سخت قوانین ہیں، عوام کے اندر احساس ہے کہ قانون اس سے نمٹے گا۔ جبکہ مثال کے طور پر پاکستان میں ٹریفِک کا قانون ہے لیکن اس کی خلاف ورزی ہوتی رہتی ہے۔۔۔

یہاں کے معاشرے میں محنت کرنے والا آدمی کامیاب ہوتا ہے۔ پاکستان کی طرح نہیں ہے کہ ایک آدمی کماتا ہے اور دس آدمی کھاتا ہے۔ یہاں اگر ایک شخص ایک ماہ کے لئے بھی بے روز گار ہوجائے تو اس کے لئے مشکلات پیدا ہوجائیں گی۔

برطانیہ میں جو پاکستانی نژاد لوگ ہیں وہ لگ بھگ پچیس تیس سال پہلے آئے تھے۔ اب ان کی تیسری نسل ہے جو پاکستان اور برطانیہ دونوں سے خود کو قریب محسوس کرتی ہے۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ پچیس تیس برس پہلے آنے والے یہ لوگ اگر طالب علم ہوتے تو ہوسکتا ہے کہ ان لوگوں نے پاکستان اور برطانیہ کی زندگی میں بہتر کردار ادا کیا ہوتا۔ ہندوستانیوں اور افریقیوں نے کافی محنت کی ہے، لیکن ان کی جو نسل یہاں آئی تھی وہ تعلیم یافتہ تھی۔

یہاں آنیوالے پاکستانی طالب علموں سے میں یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ وہ یہاں آنے پر کسی خصوصی مضمون میں اسپیشلائزیشن ضرور کریں۔

نوٹ: کیا آپ بھی پاکستان یا دنیا کی کسی اور یونیورسٹی میں طالب علم ہیں؟ کیا آپ بھی کچھ کہنا چاہیں گے؟ ہمیں لکھئے، ہم آپ کی بات شائع کریں گے۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد