| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بغاوت کے الزام پر آپ کی رائے
مسلم لیگ (ن) کے رہنما جاوید ہاشمی کو پاکستانی فوج میں تفریق پھیلانے اور بغاوت کے الزامات کے تحت گرفتار کرلیا گیا ہے۔ حزب اختلاف نے ان کی گرفتاری کی مذمت کی ہے اور اسے سیاسی جبر کی کارروائی قرار دیا ہے۔ حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ جنرل مشرف کی حکومت اور ایل ایف او کے خلاف احتجاج جاری رہے گا۔ جاوید ہاشمی اور حزب اختلاف کے دیگر رہنماؤں نے گزشتہ ہفتے ایک اخباری کانفرنس میں کہا تھا کہ ان کو ایک خط دستیاب ہوا ہے جس میں فوج کے جونیئر افسروں نے جنرل پرویز مشرف اور ان کی پالیسیوں کی مذمت کی ہے۔ اس خط پر کسی فوجی کا دستخط نہیں ہے۔ حکومت کے ترجمان نے ان کی گرفتاری کو صحیح قرار دیا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ انہیں ایک شہری کی جانب سے عائد کیے جانے والے ایک مقدمے کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔ جاوید ہاشمی کی گرفتاری پر آپ کا کیا ردعمل ہے؟ کیا آپ کے خیال میں ان پر بغاوت کا الزام صحیح ہے؟ ----------------- یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں------------------ محمد حسن، امریکہ جس ملک میں لاقانونیت ہو، وہاں سب ممکن ہے۔ اگر کوئی وہاں سے فرار ہو سکے تو یہی اس کے لئے بہتر ہے۔ فصیح الحسن، متحدہ عرب امارات یہ سب لوگ چور ہیں، ان کو جیل ہی میں رہنا چاہئے۔ سردار حیدر، بلوچستان، پاکستان فوج قانون نہیں جانتی اس لئے قانون کا پاس نہیں کرتی۔ چوہدری محمد حسن، پاکستان حکومت کا یہ اقدام درست ہے۔ سیاستدان ملک سے مخلص نہیں ہیں وہ صرف اسے لوٹنا چاہتے ہیں۔ احمد ملک، کینیڈا جاوید ہاشمی اس بدعنوان سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں نواز شریف کی واپسی کے بعد سب سے بڑا حصہ ملنے کی امید ہے۔ عرفان فضل، مالاکنڈ، پاکستان باکل ٹھیک ہوا ہے کیونکہ سیاستداں مکمل طور پر بدعنوان ہیں اور ملک کو لوٹ رہے ہیں۔ ہمارے ملک کے لئے فوج ٹھیک ہے۔ محمد رویس خان، نارتھ کیرولائنا، امریکہ جاوید ہاشمی کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
محمدہارون، نیویارک، امریکہ پاکستان کی نڈر فوج اور عظیم عدلیہ نے محض اسلام آباد اور ان سیاستدانوں پر غلبہ حاصل کیا ہے جن پر اس وقت الزام عائد کیا گیا جب وہ اقتدار سے باہر تھے۔ یہ کیسا ملک ہے؟ یہ کیسی فوج ہے اور کہاں کی جمہوریت ہے؟ فی الوقت جنرل پرویز مشرف کی اولین ترجیح ہر قیمت پر اپنے اقتدار کا تحفظ کرنا ہے۔ زیادہ تنخواہوں اور پلاٹوں کے حصول سے جج حضرات کی انا میں اضافہ ہوتا ہے۔ ججوں کو علم ہے کہ اس وقت جنرل صاحب کو ان کی ضرورت ہے۔ مستقبل قریب میں جاوید ہاشمی جیسے بہت سے واقعات دیکھنے میں آئیں گے۔
محمد عاطف، اسلام آباد اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوج اور سول انتظامیہ دو علیحدہ طبقات کے نام ہیں کیونکہ جاوید ہاشمی کو تو گرفتار کر لیا جاتا ہے لیکن اس جنرل کو گرفتار نہیں کیا جاتا جس کا ڈرائیور ایک ایسے فرض شناس پولیس کانسٹیبل نذیر کی پٹائی کر دیتا ہے جو محض اپنا فرض نبھاتا ہے۔
عامر ہاشمی، گوجرانوالہ، پاکستان کسی بھی بڑے سیاستدان کی گرفتاری سے پہلے مکمل تحقیق کرنی چاہیئے تھی خاص طور پر ایسے وقت میں جب حکومت اور حزب اختاف میں چپقلش جاری ہے۔ بعد میں جو حکومت جاوید ہاشمی کو رہا کرے گی اس لیے انہیں گرفتار کرنا ہی نہیں چاہیئے تھا۔ حزب اختلاف کے کسی بھی رہنما کو گرفتار کرنے سے پوری دنیا کی نگاہیں اس ملک کی سیاست پر لگ جاتی ہیں اور ماشا اللہ پاکستان کی سیاست پر پہلے ہی بہت تنقید کی جا رہی ہے۔
صغیر اہیر، پاکستان میرے خیال میں جاوید ہاشمی صحیح راستے پر ہیں جبکہ فوج اور حکومت ان کے اور حزب اختلاف کے ساتھ اچھا نہیں کر رہے۔ میرے خیال میں یہ اقدام ایک محب وطن کے خلاف حکومت کی سوچی سمجھی سازش ہے۔ ہم وزیراعظم سے التجا کرتے ہیں کہ وہ پاکستان میں بلاشرکتِ فوج اصل جمہوریت قائم کریں۔
اورنگ زیب خان، متحدہ عراب امارات پاکستان کے سیاستدانوں نے ملکی سیاست کو کاروبار بنا رکھا ہے۔ ان سب کو ان کے خاندانوں سمیت ایک ڈبے میں ڈال کر سمندر میں پھینک دیا جائے اور ان کی جگہ نئی نسل آگے آ جائے۔ یہ سب کچھ جاوید ہاشمی کا ڈرامہ ہے۔ یہ لوگ حکومت میں آتے ہیں اور پیسہ کما کر چلے جاتے ہیں۔ اس وقت سب کی نظریں بارہ ارب ڈالر پر لگی ہیں۔ ایسے سیاستدانوں کو ووٹ دینے والوں پر تف ہے۔ خدا کے لیے ان سے چھٹکارا حاصل کریں کیونکہ صرف یونہی ہماری قسمت جاگ سکتی ہے ورنہ پاکستان میں یہی سب ہوتا رہے گا۔
وسیم احمد، پاکستان غدار جاوید ہاشمی نہیں بلکہ جنرل مشرف ہیں جنہیں سب سے پہلے کیفر کردار تک پہنچانا چاہیے کیونکہ انہوں نے غداری سے جمہوریت کا خاتمہ کیا اور تین سال کا وعدہ کر کے کرسی سنبھال لی اور اب جونک کی طرح کرسی سے چپک گئے ہیں۔
ایس خان، دبئی جنرل صاحب ایسے ہتھکنڈوں سے ملک کے رہنماؤں اور عوام کو ہراساں کر رہے ہیں۔ انہیں اللہ کی بڑائی اور ملک کے سابق آمر کا خاتمہ بھولنا نہیں چاہیے۔
شاہد میر، شارجہ کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر ہے نہ کبھی ہو گا۔ اگر جاوید ہاشمی کسی سیاسی جماعت کے رہنما ہیں تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ ملکی آئین کی خلاف ورزی کر سکتے ہیں۔ دراصل پاکستان کے سیاستدانوں کا یہ مسئلہ ہے کہ جب انہیں انتخابات میں ناکامی ہوتی ہے تو وہ بازاری شہرت حاصل کرنے کے لیے بلاسوچے سمجھے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینا شروع کر دیتے ہیں۔ جاوید ہاشمی نے بھی ایسا ہی کیا ہے اور اس اعتبار سے ان کا گرفتار کیا جانا بالکل جائز ہے۔ انہیں اس بات کی سخت سزا ملنی چاہیے۔ عامر ممتاز، قطر مقدمہ ان فوجی جرنیلوں پر چلنا چاہیے جنہوں نے پاکستان بنانے والوں کو پچپن برس سے اغوا کر رکھا ہے۔
نعیم اکرم، کراچی، پاکستان آج اگر کوئی فوج پر الزام لگاتا ہے تو وہ باغی کہلاتا ہے۔ فوج کے ٹھیکے داروں سے صرف ایک سوال ہے کیا ان کی عزت نعوذ باللہ پیغمبر اسلام سے زیادہ ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک اور پاکستان میں اسلام اور نبی کو برا بھلا کہا جاتا ہے لیکن کوئ آواز نہیں اٹھاتا لیکن جب فوج پر بات آتی ہے تو پوری انتظامیہ میں کھلبلی مچ جاتی ہے۔ خدا فوجی حکام کو ہدایت دے یا پھر موت دے دے۔
ہمیں پاکستانی سیاست دانوں اور حکومت پر سنجیدگی سے غور نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے دو چہرے ہیں۔ جب کچھ صحافیوں نے جاوید ہاشمی سے کہا کہ وہ لفافہ دکھائیں جس پر پوسٹل ڈپارمنٹ کی مہر ہو تو وہ نہ دکھا سکے۔ میری خواہش ہے کہ ہمارے سیاست دان اور جمہوریت ملک میں ترقی پائیں۔ عبدالرزاق راجہ، دبئی اگر حکومت کے پاس کوئی شواہد ہیں تو ان کے خلاف قانون کے تحت قانونی چارہ جوئی کی جائے۔ افتخار علی خان، چین یہ کارروائی جمہوریت اور پاکستان کے لئے اچھی نہیں ہے۔ محسن جعفری، چکوال فوجی حکومت نے اپنی خود ساختہ جمہوریت کی اصلیت آشکار کر دی۔ دنیا کی جمہوریت پسند قوموں کو جاوید ہاشمی کے بلاجواز گرفتاری پر احتجاج کرنا چاہئے اور میں سمجھتا ہوں کہ پرویز مشرف کو اب پاکستانی عوام کی جان چھوڑ دینی چاہئے۔ خان، کویت ایسے لوگوں کے ساتھ یہی کارروائی بہتر ہے۔ علی ارباز، کینیڈا پاکستان میں صرف ایک ادارہ خود کو محب وطن سمجھتا ہے، باقی سب غدار ہیں۔ جاوید ہاشمی نے خط پریس کو دکھاکر خود کو مصیبت میں ڈال دیا لیکن اب وہ زندگی بھر اس خط کو اصلی ثابت نہیں کرسکتے۔ پاکستانی عدلیہ میں بھی تو کم ہی کوئی غیرت مند جج موجود ہے جو صحیح فیصلہ کرسکے گا۔ یہاں فیصلہ لکھے ہوئے ملتے ہیں۔ اطہر، ملتان مشرف صاحب اپنی کرسی بچانے کے لئے الزام لگارہے ہیں۔ منظور حسین، کوئٹہ جاوید ہاشمی کی گرفتاری قانون کے خلاف ہے۔ نیشنل اسمبلی کے اسپیکر کو اعتماد میں لیے بغیر ان کی گرفتاری پاکستان میں جمہوریت کو ایک اور دھچکا ہے۔
اشرف محمود، لاہور غدار جاوید ہاشمی نہیں بلکہ یحیٰ خان، ایوب خان، ضیاء الحق اور پرویز مشرف ہیں۔ تمام امیروں نے آئین کی پامالی کی اور معاشرے میں نفرت کو فروغ دیا۔ بغاوت کا مقدمہ آئین توڑنے والوں پر چلنا چاہئے نہ کہ ان لوگوں پر جو آئین بحال کروانے کے لئے جدوجہد کررہے ہیں۔ راشد، لاہور غداری کے مقدمے میں سب سے پہلے تو جنرل مشرف اور ان کے مرسینری جرنیلوں کو پھانسی دیدی جانی چاہئے۔ شفقت مغل، راولپنڈی میں سمجھتا ہوں کہ جاوید ہاشمی کی گرفتاری غیرمنصفانہ ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ آئی ایس آئی والوں نے خود خط لکھ کر جاوید ہاشمی کو پھنسانے کی کوشش کی کیونکہ قومی اسمبلی میں وہ کافی سرگرم تھے۔ یہ سب سیاسی کارروائی ہے۔ فوجی حکومت عدالت اور بین الاقوامی ذرائع کے سامنے اس کی وضاحت کرے۔ جے غفور، کینیڈا اس خط سے واضح ہوگیا ہے کہ جنرل مشرف ایک سنگین خطرے میں ہیں۔ اس بات کی امید کریں کہ ایک سولین حکومت ان کی جگہ اقتدار سنبھالے۔
ظفر ملک، متحدہ عرب امارات مخدوم صاحب کی گرفتاری کی خبر سن کر کافی صدمہ پہنچا۔ ہماری فوج نے ہمیشہ ملک پر حکومت کیا ہے، ہم ان کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں۔ حکومت انہیں فوری طور پر رہا کرے۔ صدر مشرف ایک سمجھدار شخص ہیں اور سمجھداری کا مظاہرہ کریں۔ میں ان کی حکومت کو ماضی کی تمام سولین حکومتوں سے بہتر سمجھتا ہوں۔ فوج وہ کام کرے جو اس کا کام ہے، یعنی ملک کی حفاظت۔ ضیاء المصطفیٰ، راولپنڈی جاوید ہاشمی کی گرفتاری ایک اچھا فیصلہ نہیں ہے۔ حکومت تمام سیاسی گروہوں کچلنا چاہتی ہے۔ چودھری بابر، امریکہ تمام سیاست دان چور ہیں۔ انہوں نے ملک کو ان حالات میں پہنچا دیا ہے اور اب وہ ان لوگوں پر انگلیاں اٹھارہے ہیں جن کو انہوں نے جیل میں بھیجنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||