| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک ماں کی لاش۔۔۔
پائلٹ بتارہا ہے کہ ہوائی طیارہ چند منٹوں میں بام کے ہوائی اڈے پر اترنے والا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ کیا امید کرنی چاہئے۔ جب جہاز اترا، ہم باہر آئے۔ اس اڈے پر صرف ایک رن وے ہے جس کے پاس چھوٹے اور بڑے ملٹری اور شہری طیارے موجود ہیں۔ کچھ مشکلات کے ساتھ امدادی کارکنوں کا ہمارا گروپ ایک بس تلاش کرکے بام کی طرف روانہ ہوا۔ بام ہوائی اڈے سے کافی دور ہے۔ بام میں بیشتر مکانات مٹی سے بنے ہوئے ہیں جیسا کہ عموما یہاں رواز ہے۔ یہ مکان کافی کمزرو ہیں جس کی وجہ سے وہ زلزلے کی وجہ سے کھنڈرات میں تبدیل ہوگئے۔ لوگ سڑکوں پر گھوم رہے ہیں، ان کی آنکھوں میں خوف ہے۔ ہم امدادی کارکنوں کے کیمپ پہنچتے ہیں اور پانچ افراد کے گروہ میں کام کرنا شروع کرتے ہیں۔ ہر گروہ بام کے مختلف علاقوں کی طرف جاتا ہے۔ ہماری کار بام کے قلعے کی جانب بڑھ رہی ہے، ایک شخص ہمیں روکتا ہے۔ وہ زاروقطار رورہا ہے، اور ملبے سے اپنے بیٹوں کی تلاش کے لئے امداد کی بھیک مانگ رہا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ وہ اپنے بیٹوں کی آوازیں سن سکتا ہے۔ خود اسے بھی اس ملبے کے نیچے سے نکالا گیا ہے۔ وہ زخمی ہے۔ ہمیں اس کے گھر کی جانب پیدل چل کر جانا پڑتا ہے کیونکہ ملبے کی وجہ سے ہماری کار ادھر نہیں جاسکتی۔ ہم اس کے گھر تک پہنچ گئے ہیں۔ کچھ بھی نہیں بچا ہے، صرف مٹی کے ٹکڑے ہی دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے احاطے میں کھجور کی ٹوٹی ہوئی درخت مجھے بام کے کھجوروں کی یاد دلاتی ہے۔ اس کے مکان کی کچھ دیواریں جو بچ گئی ہیں میں ان پر چسپاں ایک پوسٹر میں جانوروں کی تصویریں دیکھ سکتا ہوں۔ وہ شخص ہمیں بتاتا ہے کہ اس کے تمام بچوں نے یونیورسٹی تک تعلیم حاصل کی تھی اور اس کا ایک بیٹا شہر میں جانوروں کا ڈاکٹر تھا۔ ہم نے گھنٹوں تک کھدائی کی، ہماری امیدیں ختم ہوچکی ہیں، لیکن اس شخص کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر ہم اپنی کوشش جاری رکھتے ہیں۔ وہ بھی اپنی امیدیں کھو چکا ہے۔ ملبہ ایک پہاڑ کی طرح ہے، ہمیں ایک بلڈوزر کی ضرورت ہے، یہ ممکن ہے کہ اس کے بچوں کی لاشیں بلڈوزروں کی زد میں آکر ٹکڑے ہوگئی ہوں۔ جب بلڈوزر ملبے میں کھدائی کرتا ہے، اس کے بیٹوں کی لاشیں برآمد ہوتی ہیں۔ وہ ہوش و حواس کھوبیٹھتا ہے، اس کی زندگی کی تمام کوششیں صرف چند سیکنڈوں میں تباہ ہوگئی ہیں۔ یہ منظر دیکھ کر میں اپنا کنٹرول کھو بیٹھتا ہوں، میری آنکھوں سے آنسو نکل کر میرے چہرے پر بہہ رہے ہیں۔ گھنٹوں کی کوششوں کے بعد ہم ناکام اپنے کیمپ واپس لوٹتے ہیں۔ اندھیرا ہوچکا ہے، ریت کی سردی شروع ہورہی ہے۔ ہمیں ابھی ٹینٹ اور کمبل نہیں ملا ہے۔ ایک امدادی کارکن اور میں ٹینٹ اور کمبل کی تلاش میں چلتے ہیں۔ زلزلے کے لاتعداد متاثرین ایک ٹرک کی طرف ٹوٹ پڑتے ہیں جو کمبل اور دیگر امدادی اشیاء لارہا ہے۔ جو لوگ کمزرو ہیں وہ بھیڑ کے نیچے دب جاتے ہیں۔ ایک شخص کمبل کے لئے اسٹوریج روم میں کود پڑتا ہے، اور پھر بےہوش ہوجاتا ہے۔ جب وہ باہر آتا ہے صرف اپنے بچوں کے بارے میں بات کرتا ہے جو سردی میں ٹھٹھر رہے ہیں۔ ان بچوں نے گزشتہ شب اپنے گھر کے ملبے میں پناہ لی تھی۔ اس کا سب کچھ کھوگیا ہے، اب صرف ایک کمبل چاہتا ہے۔ ہم روپڑتے ہیں۔ ہم بھول گئے کہ ہم کمبل کے لئے آئے تھے۔ یہ تیسرا دن ہے۔ لاشوں سے بدبو آرہی ہے، اس شہر میں سانس لینے میں پریشانی ہے۔ ہر گلی سڑکوں میں ہم لاشیں ہی لاشیں دیکھتے ہیں۔ بلڈوزر ملبے لے جاتے ہیں جن میں لاشیں بھی کٹ جاتی ہیں، بہت برا منظر ہے۔ جب میں ایک ماں کی لاش اپنے ہاتھوں سے باہر نکال رہا ہوں، سوچتا ہوں: میں کیا کروں اگر میری ماں کے ساتھ ایسا ہوا؟ میرے دل میں ایک خوف ہے۔ میں نے یہ کام کرنے کے لئے سو گھنٹے کی تربیت حاصل کی تھی۔ لیکن اب جب ایک سب کچھ سامنے ہے، مجھے کچھ بھی نہیں سمجھ میں آتا۔ خدا نہ کرے میرے یا میرے گھر والوں یا کسی کے ساتھ ایسا ہو۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||