عورت کہانی : میری جدوجہد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد میں اکثر اوقات سنٹرل جیل پشاور جایا کرتی تھی۔ وہاں پر میری ملاقات شمع پروین نامی عورت سے ہوئی جو حدود آرڈینینس کے ایک کیس میں قید تھی۔ وہ پاگل سی لگتی تھی کیونکہ اس پر اتنے مظالم ڈھائے گئے تھے جس میں بندہ پاگل ہی ہوجاتا ہے۔
میں نے چونکہ یونیورسٹی سے نئی نئی ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی تھی اس لئے میرے پاس لا ئسینس نہیں تھا لیکن کسی طریقے سے میں نے اپنے ایک سینئر وکیل کے ذریعے سے شمع پروین کی رھائی کے لئے کیس درج کیا۔ پھر یہ ہوا کہ میں اس کی سرپرست بن گئی کیونکہ شمع پروین کے ماں باپ نے ان کو لینے سے انکار کیا تھا اور میں اٹھارہ سال کی عمر میں ایک پچیس سالہ خاتون کی سرپرست بن گئی۔ میں ہفتے میں ایک بار ضرور جیل جاتی، شمع پروین سے ملتی اوراسے تسلیاں دیتی۔ شمع پروین کو کئی بار جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا جسکی وجہ سے وہ پاگل ہوگئی تھی تاہم ہم نے اس کو مینٹل ہسپتال میں داخل کروایا اور اس کا علاج کروایا۔ بعد میں وہ رھا ہوگئی اور بالکل ٹھیک ہوگئی۔ اس کے خطوط اکثر اوقات آتے رہتے ہیں ایک دفعہ اس نے میرے لئے سوجی کا حلوہ بناکر بھیجا۔ بنیادی طور پر میں ایک وکیل ہوں لیکن شمع پروین کے کیس نے میری زندگی پر گہرے اثرات مرتب کئے اور مجھے اس بات پر مجبور کیا کہ وکالت کے ساتھ ساتھ خواتین کے لئے بھی ایک ایسی تنظیم ہونی چاہیے جو اس قسم کے لاچار اور معاشرے کی ٹھکرائی ہوئی خواتین کے لئے امید کی کرن ثابت ہو۔ چنانچہ میں نے پشاور میں عورت فاونڈیشن کی بنیاد رکھی۔ میرا تعلق حسن ابدال سے ہے۔ ابتدائی تعلیم میں نے یہیں سے حاصل کی اور بی اے گورنمینٹ ڈگری کالج پنڈی سے کیا جبکہ ایل ایل بی خیبرلا کالج پشاور سے کیا۔ میں یونیورسٹی کے زمانے سے سیاست میں سرگرم تھی۔ کچھ عرصہ میں پی ایس ایف اور پھر ڈیموکریٹک سٹوڈنٹس فیڈریشن میں رہی۔ تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد میں نے وکالت شروع کی اور اس کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ بھی رابطہ رہتا تھا۔ میں اور میری دوست ساجدہ شاہ سرحد سے پہلی دو خواتین تھیں جو انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے ممبران بنیں۔ میں نے انیس سو ترانوے میں جب عورت فاؤنڈیشن کی بنیاد ڈالی تو مجھے کئی قسم کی مشکلات اور مصائب کا سامناکرنا پڑا۔ لوگوں کا خیال تھا کہ پنجاب سے آئی ہوئی خاتون پختونوں کے معاشرے میں آکر کیا عورتوں کے حقوق کے لئے لڑے گی لیکن میں نے درپیش تمام خطرات کے باوجود اپنا کام جاری رکھا۔ انیس سو چورانوے میں صوابی کی ایک خاتون کمریہ بی بی پر غیراخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا۔ اس کے جرگے نے بال کٹوائے اور گاؤں بدر کردیا۔ میں نے صوابی جاکر بھرے جرگے کے سامنے اس کا کیس پیش کیا۔ اسے گاؤں میں رہنے کی اجازات دے دی گئی لیکن بعد میں کمریہ بی بی کو کسی نے قتل کر دیا۔ جب پہلی دفعہ قبائلی علاقہ جات میں عام لوگوں کو ووٹ کا حق دیاگیا تو مقامی جرگے ہوئے جس میں فیصلہ ہوا کہ فاٹا کے کسی علاقے میں خواتین کے ووٹ کا اندراج نہیں ہوگا۔ ہم نے اس کے خلاف بھوک ہڑتال کی۔ میں ایک ساتھی خاتون بیگم جان کو لیکر خیبرایجنسی میں بیٹھ گئی اور دس دن میں ہم نے عورتوں کے تین ہزار ووٹ رجسٹر کرائے۔
پہلے میں خواتین کے سلسلے میں بڑی جذباتی ہوا کرتی تھی۔ اگر کسی پر ظلم ہوتا تو میں اتنی گہرائی تک جاتی کہ مجھے خود بھی ہوش نہیں رہتا تھا۔ کئی بار مجھے قتل کی دھمکیاں بھی ملیں۔ ایسا بھی ہوا کہ جس متاثرہ خاتون کے لئے ہم لڑ رہے ہوتے وہ خود پیچھے ہٹ جاتی جس سے مجھے بہت دکھ ہوتا تھا۔ ایک لڑکی نغمانہ جس کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی اس کو ہم نے عدالت کے ذریعےسے انصاف فراہم کرنے کے لئے بہت کام کیا اور ایک وقت آیا کہ ملزمان جو بااثر تھے گرفتار ہونے والے تھے لیکن نغمانہ نے آخری وقت میں دباؤ میں آکر اپنا بیان تبدیل کردیا۔ مجھے اتنا افسوس ہوا کہ میں کئی راتوں تک نہ سو سکی۔ ہم نے خواتین کے لئے پشاور میں ’میراگھر‘ بنایا ہے جس پر متحدہ مجلس عمل نے بہت شور واویلا مچایا۔ ’میراگھر‘ کے افتتاح کے لئے جرمن سفیر کو آنا تھا لیکن ایم ایم اے نے دباؤ ڈال کر ان کو نہیں آنے دیا۔ حدود قوانین میں جماعت اسلامی بہت آگے آگے ہے اور اس کی یہ خصوصیت ہے کہ شروع میں فوجی حکومت کی مخالفت کرتے ہیں بعد میں ان سے مل جاتے ہیں جس طرح حال ہی میں ایل ایف او کے سلسلے میں انہوں نے کیا۔ میری عمر اس وقت سینتیس سال ہے- ہم گیارہ بہن بھائی ہیں میرا نمبر آخری ہے۔ میں نے ابھی تک شادی نہیں کی جس کی وجہ یہ ہے کہ اگر میں شادی کرتی تو عورتوں کے حوالے سے جو کام کر رہی ہوں یہ میرے لئے ناممکن ہوجاتا۔ نوٹ: رخشندہ ناز نے یہ گفتگو ہمارے نمائندے رفعت اللہ اورکزئی سے کی۔ اگر آپ بھی اپنی آپ بیتی ہمارے قارئین تک پہنچانا چاہیں تو ہمیں لکھ بھیجیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||