BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 25 January, 2004, 16:28 GMT 21:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عورت: سیاست اہم مگرگھر بھی

فرح عاقل شاہ
فرح عاقل شاہ
میں نے کھبی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں سیاست میں آؤں گی۔ بچپن سے میرا رحجان تعلیم کی جانب تھا اور میری خواہش تھی کہ تعلیم کے شعبہ میں کچھ کرنا چاہیے۔ اسی مقصد کے لئے میں نے بچوں کی ایک نرسری بھی بنائی جس میں ہم مفت تعلیم فراہم کرتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ نادار اور غریب بچوں کو کتابیں اور یونیفارم بھی مفت دیتے ہیں۔

میری پیدائش کوہاٹ میں ہوئی لیکن چونکہ میرے والد ائیرفورس میں تھے اس لئے میری ابتدائی تعلیم پشاور میں ہوئی۔ بی اے میں نے اسلام آباد سے کیا جبکہ ایم اے پشاور یونیورسٹی سے نفسیات کے مضمون میں کیا۔ انیس سو پچاسی میں میری شادی پشاور کے ایک نامی گرامی سیاسی خاندان میں ہوگئی۔ میرے شوھر سید عاقل شاہ جو خود بھی سینیڑ رہ چکے ہیں، کا شمار عوامی نیشنل پارٹی کے اہم رہنماؤں میں ہوتا ہے۔

شادی کے بعد میں نے بھی سیاست میں دلچسپی لینی شروع کی۔ اکتوبر دو ہزار دو کے عام انتخابات میں پہلی مرتبہ پارلیمنٹ کی ممبر بننے کے لیے بی اے کی شرط لازمی قرار دی گئی۔ جب خواتین کے لئے مخصوص نشستوں کا مرحلہ آیا تو میں نے بھی ٹکٹ کے لئے درخواست دے دی جس کو پارٹی نے منظور کرلیا اور اسی طرح میں صوبائی اسمبلی کی رکن منتخب ہوگئی۔

اسمبلی میں آکر۔۔۔۔
 اسمبلی میں آکر مجھے معلوم ہوا کہ ہمارے معاشرے میں عورتوں کے کتنے بڑے مسائل ہیں۔ ہمارا جو معیار تعلیم ہے وہ انتہائی پست ہے خصوصاً بچیوں کی تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے۔

اسمبلی میں آکر مجھے معلوم ہوا کہ ہمارے معاشرے میں عورتوں کے کتنے بڑے مسائل ہیں۔ ہمارا جو معیار تعلیم ہے وہ انتہائی پست ہے خصوصاً بچیوں کی تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہاں پر مردوں کو امتیازی حثیت حاصل ہے اور خواتین کے ساتھ گھر کے لونڈیوں جیسا سلوک کیاجاتا ہے۔ ان کو وہ حق نہیں دیا جاتا جن کی وہ حقدار ہیں۔ حدود اور وراثت کے امتیازی قوانین ہیں جس کے زریعے سے عورتوں کا استحصال کیا جارہاہے۔ حق مہر جو خاتون کا تحفہ ہوتا ہے اسے طلاق کے ساتھ جوڑ دیا گیاہے جو سراسر ناانصافی ہے اور اس کی وجہ سے طلاق کی شرح میں روزبروز اضافہ بھی ہورھاہے۔

مرد کو یہ حق دیا گیا ہے کہ تین الفاظ کہہ کر عورت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رخصت کردے لیکن اس کے مقابل عورت کو کوئی تحفظ حاصل نہیں۔ عدالتی نظام میں بھی لاتعداد خامیاں ہیں۔ میرے پاس کئی ایسے کیس آئے ہیں جس میں طلاق کے بعد شوھر بیوی بچوں کا خرچہ نہیں اٹھاتا اور بیوی بچاری دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوتی ہے۔

حدود آرڈنینس کے سلسلے میں بھی بڑا کنفیوژن ہے۔ ہمیں یہ کہا جارھاہے کہ یہ اللہ تعالی کے حدود اور ضابطے ہیں ان کو چیلنج کرنا گناہ ہے۔ اس سلسلے میں ابہام ہے اور اس کو واضح کرنا چاہیے۔ وراثت کے قوانین بھی توڑمروڑ کرکے پیش کیے جارہےہیں۔ جب عورت کے حصے کی بات آتی ہے تو پھر نہ اسلام سے رہنمائی حاصل کی جاتی ہے نہ قانون اور نہ روایات سے۔

سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت کا موقف خواتین کے حقوق کے حوالے سے بالکل بھی واضح نہیں تاھم انھوں نے ابھی تک اس سلسلے میں مداخلت بھی نہیں کی۔ وہ غیر اہم چیزوں پر توجہ دے رہے ہیں۔ مثلاً یہ کہ نئے سال کے سلسلے میں کوئی تقریب نہیں ہوگی اور اسمبلی سے قرارداد بھی پاس ہوگئی۔ یہ تو انفرادی مسئلہ ہے کہ کوئی نیا سال مناتا ہے یا نہیں، ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ہونا چاہیے۔

نئے سال پر قرارداد یا۔۔۔؟
 ان حالات میں ہمیں نیا سال منانے کے خلاف قرارداد پاس کرنی چاہیے یا عوام کے ان بنیادی مسائل پر توجہ دینا چاہیے؟

عوام فاقے کررہے ہیں، ہزاروں لوگ بے روزگار ہیں، منہگائی نے ان کی کمر توڑدی ہیں، بھوک ہے افلاس ہے، تعلیم کی کمی ہے، لوگوں کو پانی جیسی بنیادی ضرورت میسر نہیں اور صحت عامہ کے مسائل اس کے علاوہ ہیں۔ ان حالات میں ہمیں نیا سال منانے کے خلاف قرارداد پاس کرنی چاہیے یا عوام کے ان بنیادی مسائل پر توجہ دینا چاہیے؟

پہلے خواتین کا سیاست میں آنا برا سمجھا جاتا تھا لیکن اب تو عورت کو سیاسی عمل کا اہم حّصہ تصور کیاجاتاہے۔ ہر عورت تو گھر سے نہیں نکل سکتی کیونکہ ان کو بھی معاشرتی اور گھریلو مسائل درپیش ہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ خاتون سب کچھ چھوڑ کر سیاست کرے، اس کو گھر کے امور، بچوں کی دیکھ بھال، امورخانہ داری جیسے اہم مسائل پر بھی توجہ دینی چاہئے۔

میری ایک بیٹی ہے جسکی عمر دس سال ہے۔ میں صبح سویرے اٹھتی ہوں، بچی کو تیار کرتی ہوں، اس کو سکول چھوڑنے کے بعد واپس گھر آتی ہوں اور گھریلوں کاموں میں مصروف ہوجاتی ہوں۔ ایم پی اے بننے کے بعد میری مصروفیات بڑھی ضرور ہیں لیکن اس کے باوجود میں اپنی بیٹی اور گھریلو کاموں کے لئے وقت نکال لیتی ہوں۔


نوٹ: فرح عاقل شاہ نے یہ گفتگو ہمارے نمائندے رفعت اللہ اورکزئی سے کی۔ اگر آپ بھی اپنی آپ بیتی ہمارے قارئین تک پہنچانا چاہیں تو ہمیں لکھ بھیجیں۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد