BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 04 January, 2004, 19:41 GMT 00:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سارک ڈائری: پاسپورٹ کی ضرورت

وزیراعظم واجپئی کا سارک اجلاس سے خطاب
وزیراعظم واجپئی کا سارک اجلاس سے خطاب

چار جنوری: ایک پاسپورٹ

آج عوامی اجلاس کا آخری دن تھا۔ میں اسلام آباد میں کچھ پاکستانی دوستوں سے ملی۔ بنگلہ دیش کا نام سنتے ہی لوگوں نے کافی دلچسپی دکھائی۔ لیکن گفتگو سے یہ بات ابھر کر آئی کہ پاکستان میں عورتوں پر مردوں کا زیادہ کنٹرول ہے۔ ایک لڑکی نے بتایا: ’ابا کہتے ہیں کہ تم کوئی کام نہیں کرسکتی، ہاں غیرسرکاری اداروں کے لئے وقتا فوقتا کچھ کرلو۔‘ بنگلہ دیش میں لڑکیاں اپنے کام کے بارے میں خود فیصلہ کررہی ہیں۔ پاکستان میں ایسا نہیں ہے۔ لیکن جو پاکستانی خواتین کام کررہی ہیں وہ بنگلہ دیشی خواتین کی بہ نسبت زیادہ اسمارٹ ہیں۔

میں آج ٹیکسلا بھی گئی، کار سے صرف تیس۔چالیس منٹ کا راستہ ہے، یہاں گوتم بدھ کی ہزاروں سال پرانی یادداشتیں ہیں، ایک میوزیم بھی ہے۔

عوامی اجلاس میں شرکاء کا خیال تھا کہ یورپی یونین کی طرح سارک علاقے میں لوگوں کو ویزہ کے بغیر سفر اور کام کی اجازت دی جائے۔ ہمارے ساتھیوں کا کہنا تھا کہ آزادانہ تجارت کے معاہدے سافتا کے ذریعے ہی ڈبلیو ٹی او یعنی عالمی تجارتی تنظیم پر اثرانداز بڑے ممالک کی کمپنیوں کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ ورنہ بڑی بڑی غیرملکی کمپنیاں ہمارے بازاروں میں اثر انداز ہوجائیں گی۔

سری لنکا سے آئے ہوئے ہمارے ساتھی کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا میں انسانی وسائل کی کمی نہیں، اگر اس کا مشترکہ طور پر استعمال کیا جائے تو ہم لوگ بھی ترقی یافتہ ممالک کے شانہ بشانہ چل سکیں گے۔ پھر دنیا چل کر ہمارے پاس آئےگی۔

شرکاء کا خیال تھا کہ سارک میں چھوٹے ممالک کے مسائل پر بات نہیں ہورہی ہے۔ جیسے بنگلہ دیش میں لوگ فکرمند ہیں کہ اگر ہندوستان اپنی اس تجویز پر عمل شروع کردیتا ہے جس کے تحت گنگا کی پچپن معاون دریاؤں کو جنوبی بھارت کی جانب موڑ دیا جائے گا، تو بنگلہ دیش میں سوکھا پڑ جائے گا۔ لیکن سارک اجلاس میں اس پر کوئی بھی بات نہیں کررہا ہے۔ عوامی اجلاس میں شرکاء کا خیال تھا کہ انڈیا کافی بااثر ہے، کافی بڑا ہے، جو چاہتا ہے کرلیتا ہے۔ ہمیں یورپی یونین کی طرح سارک میں مساوی حیثیت ملنی چاہئے۔

جنوری تین: پاکستانی کباب

آج میں راولپنڈی گئی، پہلی بار احساس ہوا کہ اسلام آباد کتنا ڈل ہے۔ راولپنڈی میں زندگی کی رونق ہے، سڑکوں پر عام آدمی ہیں، ہرطرف گہما گہمی ہے، لوگ موٹر سائکل سے جارہے ہیں، سڑکوں پر بسیں، تانگے دکھائی دیے، بازار دیکھا۔ جبکہ اسلام آباد میں صرف بڑی بڑی عمارتیں، خوبصورت کاریں، اور چاروں طرف فوجی موجود ہیں۔

’ہندوستان اور پاکستان کا مسئلہ ختم ہونے میں ہی سب کا بھلا ہے‘
’ہندوستان اور پاکستان کا مسئلہ ختم ہونے میں ہی سب کا بھلا ہے‘

غیرسرکاری اداروں کے ہمارے اجلاس میں آج سارک ممالک کے درمیان ویزہ کی ضرورت ختم کرنے کی افادیت پر بات ہوئی۔ ہمارے ساتھیوں کا خیال تھا کہ سارک حکومتیں اس سمت میں قدم اٹھائیں اور پورٹ آف اِنٹری جیسے ہوائی اڈوں پر پہنچنے پر ان ملکوں کے لوگوں کو ویزہ دینے کی سہولت فراہم کی جائے۔ ہندوستان سے آئے ہوئے ہمارے ساتھی نے بتایا کہ انہیں ویزہ ملنے میں کتنی پریشانیاں ہوئیں جس کی وجہ سے وہ دیر سے پہنچے۔

میں آج پی ٹی وی کے ایک پروگرام میں شریک ہوئی جس میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تنازعات پر بات چیت ہوئی۔ ہمارا خیال تھا کہ کشمیر کی بنیادی وجہ سے سارک علاقائی تعاون کے عمل میں پیش رفت نہیں ہورہی ہے اور اسے حل کرنے کی ضرورت ہے۔

ہمارے اجلاس میں ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں ہم لوگوں نے کہا ہے کہ دہشت گردی کا لفظ کشمیر کے حوالے سے استعمال نہ کیا جائے، دہشت گردی کی صرف امریکی تشریح قبول نہیں کی جانی چاہئے۔ ہم نے دہشت گردی پر اضافی معاہدے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ ہمارے ساتھیوں نے ایک قرارداد منظور کی جس میں ہم نے سارک ممالک سے غیرقانونی چھوٹے ہتھیاروں کا خاتمہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں چھوٹے ہتھیاروں کی موجودگی کی وجہ سے عام فرد کو تشدد کرنے کا حوصلہ مل جاتا ہے۔ ہم نے اسے دہشت گردی کی بنیادی وجہ قرار دیا۔

ہم لوگوں نے سافتا یعنی آزادانہ تجارت کے معاہدے کی حمایت کی لیکن ہم نے اس بات کا مطالبہ کیا ہے کہ اس میں خواتین مزدوروں کے لئے خصوصی امداد فراہم کی جائے۔ نیپال، بنگلہ دیش، مالدیپ، انڈیا، پاکستان کے نمائندوں نے سارک ممالک میں مزدوروں کے لئے یکساں حقوق کی افادیت پر زوردیا۔ مالدیپ کے ہمارے ساتھی کا خیال تھا کہ اس سے ان کے یہاں بعض سماجی مسائل کا ازالہ ہوسکتا ہے۔

نیپال کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ سارک میں ہندوستان اور پاکستان پر توجہ کی وجہ سے ان کے اقتصادی مسائل پر کوئی بات نہیں کرتا اور انہیں سفارتی اور اقتصادی طور پر نظر انداز کیا جارہا ہے، صرف اس لئے کہ نیپال ایک چھوٹا ملک ہے۔

ہمارا عوامی اجلاس کل بھی جاری رہے گا۔ آج کے دن ہم نے کافی مسائل پر روشنی ڈالی۔ کھانے پینے کا اچھا انتظام تھا، شام کا کھانا اچھا ملا، بالخصوص پاکستانی کباب جو مجھے بنگلہ دیش میں نہیں ملتا۔

دو جنوری: عوامی ضرورت

ہم ڈھاکہ سے چار لوگ سارک سربراہی کانفرنس کے ساتھ ساتھ غیرسرکاری اداروں کی جانب سے منعقد کی جانیوالی عوامی اجلاس میں شرکت کے لئے اسلام آباد پہنچے، کُل سولہ گھنٹے لگے کیونکہ براہ راست کوئی پرواز نہیں تھی۔ اس لئے ہم نے پہلی بات سارک ممالک کے اندر براہ راست پرواز کی ضرورت پر کی۔

اسلام آباد پہنچنے پر وزیراعظم واجپئی اپنے پاکستانی ہم منصب ظفراللہ خان جمالی کے ساتھ
اسلام آباد پہنچنے پر وزیراعظم واجپئی اپنے پاکستانی ہم منصب ظفراللہ خان جمالی کے ساتھ

ہندوستان، نیپال، سری لنکا اور دیگر سارک ممالک سے غیرسرکاری اداروں کے کارکن اس عوامی کانفرنس میں شرکت کررہے ہیں۔ سب کا یہی مسئلہ تھا، براہ راست فلائٹ کا نہ ہونا۔ یہ چوتھی پیپلز سمِٹ ہے۔ جو دوجنوری سے چار جنوری تک منعقد ہورہی ہے۔ اس سے قبل تین عوامی اجلاس کولمبو، دہلی، اور اسلام آباد میں ہوئے ہیں۔

پاکستان کا یہ میرا پہلا سفر نہیں ہے، لیکن اسلام آباد پہلی بار آئی ہوں۔ کافی کھلی جگہ ہے، ڈھاکہ میں کافی بھیڑ ہوتی ہے۔ یہاں آنے کے بعد تھوڑا سکون محسوس ہوا۔ یکم جنوری کو یہاں ہمارے ساؤتھ ایشیا پارٹنرشِپ کے ساتھیوں نے ہمیں خوش آمدید کیا۔

یکم جنوری کو ہم لوگوں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا، جہاں ہم نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ہم سارک ممالک کے لوگوں سے مل رہے ہیں جبکہ سارک سربراہی اجلاس میں ان ممالک کے رہنما عوام سے نہیں صرف رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔ مجھے تعجب ہوا کہ کسی بھی صحافی نے اس پریس کانفرنس کے دوران عوامی اجلاس یعنی پیپلز سمِٹ میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔

اسلام آباد کے پبلِک لائبریری آڈوٹیریم میں دو جنوری کو ہمارے سہ روزہ عوامی اجلاس کا افتتاح ہوا۔ نیپال، سری لنکا، ہندوستان، پاکستان کے نمائندوں نے ان ملکوں کے رہنماؤں پر عوام کی ضروریات کو واضح کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انڈیا سے جو کارکن آئے ہوئے ہیں انہوں نے معذرت کی کہ وہ گزشتہ عوامی اجلاس میں وہ شریک نہیں ہوسکے تھے، کیونکہ اسلام آباد میں سارک کا سربراہی اجلاس ہندوستان پاکستان کشیدگی کی وجہ سے نہیں ہو سکا تھا لیکن عوامی اجلاس ہوا تھا۔

اس سال عوامی اجلاس میں غیرسرکاری اداروں کے دو سو سے زائد کارکن شامل ہوئے ہیں۔ صرف بھوٹان سے کوئی نمائندہ نہیں آیا۔

سارک سربراہی اجلاس کی مناسبت سے ہم عوام کے مسائل پر بات کررہے ہیں، ان سبھی ملکوں میں عوام کے مسائل ایک ہی جیسے ہیں۔ اور پہلے روز ہم نے اس بات کی ضرورت پر زوردیا کہ سبھی ملکوں میں ایک عوامی تنظیم قائم کی جائے جو باضابطگی سے عوام کی ضروریات کو ملکی رہنماؤں پر واضح کرے۔

نوٹ: طالیہ رحمان ڈھاکہ میں غیرسرکاری تنظیم ڈیموکریسی واچ کی سربراہ ہیں اور وہ روزانہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے لئے ڈائری لکھ رہی ہیں۔ سارک اجلاس کے بارے میں آپ بھی اپنی رائے ہمیں لکھ کر بھیج سکتے ہیں۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد