BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میری ڈائری: ڈگری اور تعلیم؟

عاصم ضیاء
’میں بدعنوان فرد نہیں بننا چاہوں گا‘

میں ایرو سپیس انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کرنا چاہتا تھا لیکن پاکستان میں کوئی ادارہ اس شعبے میں تعلیم نہیں دیتا۔ اس لئے میں نے انیس سو اٹھاسی میں یونیورسٹی آف انجینیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور میں مکینیکل انجینیئرنگ کے شعبے میں تعلیم حاصل کرنے کا آغاز کیا جس کے ساتھ ساتھ میں ادبی سطح پر بھی سرگرم رہا اور ڈرامے لکھنے میں دلچسپی لیتا رہا۔

اس وقت یونیورسٹی میں ہر وقت سیاسی کشمکش اور ہنگامہ آرائی جاری تھی جس کے باعث مجھے شدید مایوسی ہوئی اور میں نے تقریباً تین برس بعد مکینیکل انجینیئرنگ کی تعلیم کو خیرباد کہا اور لاہور پنجاب یونیورسٹی سے پرائیویٹ سٹوڈنٹ کی حیثیت سے فلسفہ اور ماس کمیونیکیشن کے شعبے میں بی اے کی ڈگری حاصل کی۔

اس کے بعد انیس سو بانوے میں سول سروسز کا امتحان پاس کرنے کے بعد وزرات خزانہ اور معاشی امور کے ساتھ کام کا آغاز کیا۔ اس دوران میں نے انیس سو چھیانوے میں فلسفے میں ایم اے کی ڈگری بھی حاصل کر لی۔

کیا فرق ہے کہ۔۔۔؟

 اگر میں پاکستان میں پی ایچ ڈی مکمل کرتا تو غالباً اپنے شعبے کے عملی پہلو میں اس قدر ہنر مند نہ ہو پاتا جس قدر مغربی ممالک میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد ہو جاؤں گا۔

عاصم ضیاء

ایم اے کے بعد میں نےجرمنی میں منعقدہ ایک کانفرنس میں شرکت اور ایک ماہ جرمنی ہی میں رہا۔ اس دوران میں نے جرمنی کی ہائڈلبرگ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرنے کا فیصلہ کیا اور اگلے دو برس کے دوران ماحولیات اور معاشیات کے مختلف شعبوں میں تحقیق کا کام کرنے کے بعد اب امریکہ میں پی ایچ ڈی کا بقایا حصہ مکمل کر رہا ہوں۔

تعلیمی اور پیشہ ورانہ سرگرمیوں کے دوران میں نے محسوس کیا کہ میں نے پاکستان میں بھی حصول تعلیم کے دوران بہت کچھ سیکھا اور اس لئے میں پاکستان کے نظام تعلیم کو محض تنقید کا ہی نشانہ نہیں بنانا چاہوں گا۔

میرے خیال میں پاکستان کا نظام تعلیم اب بھی لارڈ میکالے کے نظام تعلیم کی شبیہ ہے کیونکہ ہمارے ملک میں اب بھی ’رٹا بازی‘ پر زور دیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ عملی زندگی میں قطعی کارآمد ثابت نہیں ہوتا۔

میں نے سول سروسز کے دوران محسوس کیا کہ میں نے جو تعلیم حاصل کی تھی وہ بہت اچھی تھی لیکن اس کا اطلاق بہت مشکل تھا۔

یہ فرق ہے

 مغربی ممالک کے تعلیمی اداروں میں اس پہلو پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے کہ ’مسئلے کا حل‘ کیا ہونا چاہئے جبکہ ہمارے ہاں محض ڈگری کا عنوان ہی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔

عاصم ضیاء

اس کے برعکس بیرونی ممالک میں جو فرق میں نے محسوس کیا وہ یہ تھا کہ ان ممالک میں اس پہلو پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے کہ ’مسئلے کا حل‘ کیا ہونا چاہئے جبکہ ہمارے ہاں محض ڈگری کا عنوان ہی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔

میرے خیال میں اگر میں پی ایچ ڈی پاکستان میں مکمل کرتا تو غالباً میں اپنے شعبے کے عملی پہلو میں اس قدر ہنر مند نہ ہو پاتا جس قدر مغربی ممالک میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد ہو جاؤں گا۔

اس کی وجہ پاکستان میں تعلیم کے میدان میں فنڈز کی کمی ہے جس کی وجہ سے اساتذہ کو مناسب تنخواہیں نہیں مل پاتیں اور ان کی دلچسپی جاتی رہتی ہے اور جس کا تمام تر اثر طلباء پر پڑتا ہے۔

پاکستان کے نظام تعلیم کے حوالے سے میں یہ کہنا چاہوں گا کہ حکومت کو ملک میں کوئی مخصوص زبان نافذ کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔ تاہم تمام تعلیمی اداروں کو ایک خاص معیار برقرار رکھتے ہوئے تمام علاقائی زبانوں کو فروغ دینے میں مدد کرنی چاہئے۔ اور یہ سب کرنا ممکن ہے کیونکہ مغربی ممالک نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد میں ’بقائے ہمالیہ‘ کے پروجیکٹ پر کام کرنا چاہتا ہوں جس میں نہ صرف پاکستان بلکہ جنوبی ایشیا کے بیشتر ممالک آتے ہیں۔

میں پاکستان میں سول سروسز یا شہری انتظامیہ کا حصہ بن کر اسلام آباد میں زندگی گزار سکتا ہوں اور گزارنا چاہوں گا بھی لیکن میں کبھی بھی معاشرے کا بدعنوان فرد نہیں بننا چاہوں گا۔

لیکن ان سب باتوں کے باوجود میرا دل چاہتا ہے کہ میں پاکستان جاؤں اور اپنی مادری زبان میں شعر و شاعری اور ڈرامہ نگاری کے شوق پورے کروں۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد