BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تعلیم کی خاطر

عزت بی عمر
میری والدہ کہتی تھیں ’میں اپنے بیٹے کو دینی تعلیم دلاؤں گی‘۔
(عزت بی عمر: کراچی میں عربی یونیورسٹی میں زیرِتعلیم ملیشیائی طالب علم)

شور شرابہ، بھاگتے ہوئے قدموں کی آوازیں، دروازوں کا شور اور وہ اپنی زبان میں کچھ کہہ رہے تھے، جومیں سمجھ نہیں پا رہا تھا، وہ تمام لوگ بندوقیں تانے ہوئے تھے۔ باہر سے پولیس موبائل کےسائرن کے شور نے ایک عجیب کشمکش میں ڈال دیا تھا اور کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا ہونے والا ہے مگر مجھے تھوڑی ہی دیر میں اندازہ ہوگیا کہ یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے۔

چند لوگ میرے ہم جماعت ساتھیوں کو پکڑ کر لے جا رہے تھے، لڑکے کافی پریشان تھے کہ کیا ہوا ہے جو ہمیں پکڑا گیا ہے۔ میں ایک جگہ سہما ہوا کھڑا تھا اور سب کچھ دیکھ رہا تھا، اور خوف یوں بھی تھا کہ جانے میری باری کب آ جائے لیکن انہوں نے مجھے نہیں پکڑا۔

میرے کچھ دوست کہہ رہے تھے، ہمیں اسلامی تعلیم حاصل کرنے کا یہ صلہ دیا جارہا ہے۔ ہماری غلطی تھی کہ ہم نے پاکستان میں تعلیم حاصل کی اور ہماری وہاں کی زندگی ہی اچھی تھی، یہاں ہمارے گھر والے پیسے بھیجتے ہیں، ہم اُس میں گزارہ کرتے ہیں۔ یہ ہمارے ساتھ کیا ہورہا ہے؟ اس واقعے کو کافی دن گزر چکے ہیں مگر آج بھی ڈرا ڈرا رہتا ہوں۔

بیٹا دنیا سب نے دیکھی ہے۔۔۔
 ساری دنیا کمپیوٹر کی تعلیم کی طرف بھاگ رہی ہے، میں اپنے بیٹے کو دینی تعلیم دلاؤں گی۔
عزت بی عمر کی والدہ

میں کوالالمپور ٹیکنیکل اسکول میں پڑھتا تھا۔ میری والدہ ہمیشہ یہ کہا کرتی تھیں کہ بیٹا دنیا سب نے دیکھی ہے ساری دنیا کمپیوٹر کی تعلیم کی طرف بھاگ رہی ہے، میں اپنے بیٹے کو دینی تعلیم دلاؤں گی۔

وہاں اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ فٹ بال اور گھرمیں دوسرے کھیل کھیلا کرتا تھا۔ صبح پڑھنے جاتا، واپس آ کر جھوٹی بہن کے ساتھ کھیلا کرتا جو بہت پیاری ہے۔ اُسے میں ہمیشہ بہت یاد کرتا ہوں۔ وہ مجھ سے کوئی چیز مانگتی تھی تو اسے دلواتا تھا، اپنی جمع پونجی میں سے۔

والد صاحب انجینئر تھے، صبح جاتے شام میں آتے مگر انہوں نے ہماری زندگی کی تمام ضروریات کو پورا کیا ہوا تھا۔ چاہتا تو یہی ہوں کہ وہ زندگی لوٹ آئے مگر بچپن کے دن تو بچپن کے دن ہی ہوتے ہیں۔ اب پتہ نہیں کب اپنے ملک واپس جاؤں گا۔ ابھی میری عمر بیس سال ہے اور بہن کی اب سترہ ہوگئی ہے، جاؤنگا تو اس کی شادی کریں گے ،کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ اس کو ہمیشہ خوش دیکھوں، ابھی بھی فون کرتا ہوں تو وہ خوشی سے پاگل ہو جاتی ہے۔ فون پر کہتی ہے بھیا تین سال سے نہیں آئے ہو اب تو آ جاؤ۔

مجھے تو کچھ معلوم نہیں تھا کہ داخلہ کیسے لیتے ہیں اور آگے کیا پڑھنا ہے، مگر ماں کی خواہش کو دیکھ کر میں ہمیشہ پڑھنے کی خواہش کیا کرتا تھا۔(اُسی خواہش کی وجہ سے میں اپنے ملک سے اتنا دور آیا ہوں)

ہمارے کچھ رشتہ داروں میں سے کچھ لوگ پاکستان سے پڑھ کر گئے تھے۔ میرے والدین نے سب سے مشورہ کرکے طے کیا، اور مجھے مدینہ بھجوانے کی کوششیں شروع کردیں جس کا پہلا مرحلہ یہ طے کیا گیا کہ کراچی کی جامعہ ابی بکر میں عربی پڑھی جائے جسکی سند کو مدینہ منورہ میں مانا جاتا ہے۔ اُس کی بنیاد پر مجھے داخلہ مل سکتا ہے۔ پھر میرے والد نے مجھے یہاں بھیجا، داخلہ بھی بہت مشکلوں سے ملا جبکہ اگر مصر میں داخلہ لیتا تو شاید اتنی دقت نہیں ہوتی۔

ہم اپنے پیسے خرچ کرتے ہیں، سب کچھ کرتے ہیں، پھر بھی سوچتے ہیں کہ آخر اتنی مشکلات کیوں؟ پہلے ملک کے سفارتخانے سے اجازت نامہ لو اور پھر وہیں پاکستانی سفارتخانے سے اجازت لو، یہاں پر تمام کاروائیوں کو پورا کرو جس میں تقریباً چھ ماہ لگ جاتے ہیں ایک اچھی یونیورسٹی میں داخلہ لینے کی وجہ سے میں نے یہ تمام مشلات برداشت کیں۔

اپنے گھر والوں کو مسلسل یاد کرتا ہوں اور اُن کو کبھی کبھار فون کرتا ہوں، یہ تمام مشکلات صرف اسلامی تعلیم حاصل کرنے کے لئے برداشت کر رہا ہوں۔

کچھ بھی ہو مگر ان مشکلات سے گھبراتا نہیں ہوں۔ کوشش کرونگا کہ شادی کے بعد اپنے بچوں کو بھی اسلامی تعلیم دلواؤں، کیونکہ یہ سب سے اہم ہے ۔ اتنی اتنی سی مشکلات سے گھبرانا نہیں چاہئے اپنے دوستوں کو بھی کوشش کرونگا کہ یہاں بھجواؤں اور وہاں جاکر لوگوں کو بھجواؤنگا کہ جائیں پاکستان میں اسلامی تعلیم حاصل کریں۔


نوٹ: عزت بی عمر نے جو کراچی میں عربی یونیورسٹی میں زیرِتعلیم ملیشیائی طالب علم ہیں، ہمارے نامہ نگار محمد ارسلان کو یہ آپ بیتی رقم کروائی۔ اگر آپ بھی ایسے ہی حالات سے دوچار ہیں یا کبھی رہے ہیں، تو ہمیں اپنی کہانی کم سے کم الفاظ میں لکھ کر بھیجئے۔ اگر آپ چاہیں گے تو ہم آپ کا نام نہیں شائع کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد