| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنسی صحت کی تعلیم؟ آپکی رائے
پس منظر ایڈز ہمارے عہد میں ایک وبا کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اگرچہ پاکستان میں عمومی تاثر یہ ہے کہ یہ ایک ایسی بیماری ہے جس کا شکار صرف مغربی ممالک کے افراد ہوتے ہیں تاہم یہ تاثر درست نہیں ہے۔ ایڈز کے سب سے زیادہ شکار افراد کا تعلق غریب ترین براعظم افریقہ سے ہے۔ صحت کے ماہرین نے پاکستان میں اس کے ممکنہ خطرات کے بارے میں خبردار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس وبا سے متعلق جو توہمات پھیلے ہوئے ہیں ان کے باعث یہ محض بدنامی کا ایک دھبہ بن کے رہ گئی ہے اور اس کا تدارک مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ایڈز کے شکار افراد کے حوالے سے پاکستان کا پڑوسی بھارت دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے جبکہ سعودی عرب میں بھی، جہاں بہت سے پاکستانی کام کرتے ہیں، ہزاروں افراد اس کا شکار ہو چکے ہیں۔ کیا ایڈز پاکستان پر اثر انداز ہوسکتی ہے؟ کیا ایڈز کے خطرات کے پیشِ نظر جنسی صحت پر تعلیم شروع کی جانی چاہئے؟ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں
نہیں نہیں، یہ درست نہیں ہے اورر ہمارا مذہب ہمیں اس کی اجازت نہیں دیتا۔ اس کی کیا ضمانت ہے کہ جنسی تعلیم سے ایڈز رک جائے گی۔ یہ ناممکن ہے۔ جتنا میڈیا دکھاتا ہے اگر اس پر ہی لوگ عمل کر لیں تو بچ سکتے ہیں۔ یہ میری ضمانت ہے۔ نہیں تو جس کو بیماری ہونی ہے وہ تو کسی طرح بھی ہو سکتی ہے۔ علی احمد، سرگودھا، پاکستان ہسپتالوں کے عملے کی تربیت بھی بہت ضروری ہے تاکہ وہ مریضوں کو خون دیتے وقت اور سرنج استعمال کرتے وقت احتیاط سے کام لے سکیں۔ شکیل ملک، واہ کینٹ، پاکستان اگر ہم اسلام کو اپنائیں تو تمام برائیاں ختم ہوسکتی ہیں۔ جیسے ہی لڑکے اور لڑکیاں بالغ ہوں ان کی شادیاں کردی جائیں اور جنسی تعلیم بھی ضروری ہے کیوں کہ ہر چیز تعلیم مانگتی ہے۔
ندیم محمود، ٹورانٹو، کینیڈا میرے خیال میں ایڈز کے بارے میں معلومات اسکول اور کالج کے نصاب کا لازمی جزو ہونی چاہئیں تاکہ نئی نسل کو اس موذی مرض سے بچایا جا سکے۔ ہمیں غیر تعلیم یافتہ ملا حضرات کی باتوں پر کان نہیں دھرنے چاہئیں۔ سفیر جان، پاکستان ایڈز کے بارے میں تعلیم فراہم کیا جانا لازمی ہے کیونکہ اگر اب بھی ایسے اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ اس مسئلے پر قابو پانا ناممکن ہو جائے گا۔
نسیم رانا، پاکستان جنسیات کے بارے میں تعلیم دینا لازمی ہے لیکن اس کا آغاز والدین کی جانب سے ہونا چاہئے۔ مائیں عموماً اپنی بچیوں کو خواتین کے مسائل سے آگاہ کرتی ہیں اور اگر وہ ایڈز کے مسئلے سے بھی آگاہ ہوں تو بچیوں کو اس بیماری کے بارے میں معلومات بھی فراہم کس سکتی ہیں۔ بالکل اسی طرح والد اپنے بیٹوں کو جنسیات کے متعلق معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔ لیکن میرے خیال میں جنسیات کی تعلیم کا آغاز اگر تعلیمی اداروں کی سطح سے کیا گیا تو اس سے بہت سی دشواریاں پیدا ہوں گی۔
آفتاب احمد ابڑو، جامشورو، پاکستان پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں کی سطح پر جنسیات کی تعلیم کا آغاز موزوں نہیں ہو گا۔ لیکن بالغوں کے لیے یہ معلومات بہت مفید ثابت ہو سکتی ہیں خصوصاً ایسے افراد کے لیے جو جسم فروشی کے دھندے سے وابستہ ہیں۔ میاں ابو محسن، سرگودھا، پاکستان حکومتِ پاکستان اس ضمن میں پہلے ہی عوام کو معلومات فراہم کر رہی ہے جو کہ کافی نہیں ہے۔ البتہ اس مقصد کے لیے ٹی وی کا استعمال کیا جانا مناسب دکھائی نہیں دیتا کیونکہ ٹی وی پر اس موضوع پر تفصیلاً گفتگو کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہ کام مشکل تو ہے لیکن یہ کرنا ضروری بھی بہت ہے۔
ڈاکٹر علی گُل، چین پاکستان میں ایڈز کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے اس مرض کے بارے میں آگہی پھیلانے کی مہم کا آغاز کر دینا چاہئے۔ پاکستان میں عوامی صحت عامہ کا ریکارڈ کبھی بھی قابل ستائش نہیں رہا اس لیے یہاں فوری اقدامات کی ضرورت ہے ورنہ حالات قابو سے باہر ہو جائیں گے۔ بابر صدیقی، راولپنڈی، پاکستان ہمیں ہر ایک کو ایڈز پر تعلیم فراہم کرنی چاہئے۔ ہر جماعت میں استادوں کو صحت کے متعلق طلبہ کو تعلیم مہیا کرنی چاہئے جن میں اس طرح کے مضوعات بھی شامل ہونے چاہئیں تاکہ بچے اپنی صحت کے تحفظ کے طریقہ کار سے آگاہ ہوسکیں۔
سلیم محمد، راولپنڈی، پاکستان اسلام ایک مکمل دین ہے لیکن ہمارے مولویوں نے اسے ایک جادو بنا رکھا ہے۔ لوگوں کو اسلام کی اصل تعلیمات کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیمات بھی دی جانی چاہئیں۔ جنسی تعلیم بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی کہ ریاضی، طبیعات اور مطالعہِ پاکستان۔ علی رضا علوی، اسلام آباد، پاکستان ہمارا معاشرہ منافقت سے بھرا ہوا ہے۔ ایک طرف تو یہاں دس سال سے بارہ سال کا بچہ خود سے بڑے دوستوں اور سہیلیوں سے جنس کے متعلق کافی حد تک سیکھ چکا ہوتا ہے۔ اگر عملی طور پر نہ صحیح تو زبانی کلامی کی حد تک۔ دوسری طرف ایک شوہر اپنی بیوی کے لئے زیر جامہ کپڑے خریدتے ہوئے شرماتا ہے۔ پھر اسلام کی تبلیغ کرنے والے سرِ عام جنابت سے لیکر مجامعت اور زنا کی سزا پر تقاریر کر رہے ہوتے ہیں، درس دیتے ہیں کیونکہ اسلام اس سے منع نہیں کرتا۔ لحکن اگر ان سے جنسی تعلیم دینے کی بات کی جائے تو باقاعدہ بھڑک اٹھتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ایڈز کے متعلق ایک طریقہ کار کے تحت آہستہ آہستہ تعلیم ضرور شروع کرنی چاہئے۔ خلیل، بہاول نگر، پاکستان اس پر تعلیم دینے میں کوئی حرج تو نہیں ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ نوجوان کہیں اس کا غلط فائدہ نہ اٹھائیں۔ بہتر یہ ہے کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں سمجھایا جائے۔
سرفراز صدیقی، ٹورنٹو، کینیڈا جی ہاں، بالکل دینی چاہئے لیکن اس احتیاط کے ساتھ کہ اس میں ہماری فطری شرم اور جھجھک ختم نہ ہوجائے جو کہ کسی حد تک ضروری ہے اور الحمد اللہ ہمارے مذہب کی وجہ سے ابھی تک قائم ہے۔ ویسے پاکستان میں ایڈز زیادہ تر ہسپتالوں میں بے قاعدگی کی وجہ سے پھیل رہی ہے۔ فضل حبیب، دیر، پاکستان پاکستان میں یہ تعلیم صرف بازارِ حسن کو چاہئے کہ یہ اس کا اثاثہ ہے۔ افضل حسین سید، کراچی، پاکستان غیر محفوظ جنسی عادات اور رویئے کے نقصانات کے بارے میں تعلیم جنوبی ایشیا کی ہمیشہ سے ضرورت رہی ہے۔ سید خالد حسین جعفری، حیدر آباد، پاکستان پاکستان میں ایڈز کی تعلیم صرف بازارِ حسن کے لوگوں کو دی جانی چاہئے کیونکہ عام شہریوں کو اس کی تعلیم کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمایوں ارشد نیل، کراچی، پاکستان جی ہاں! جنسی صحت پر تعلیم ہونی چائے۔ اسلامی تعلیمات میں تو استنجا، طہارت اور ہم بستری کے بارے میں بھی رہنما اصول موجود ہیں، ہم جنسی صحت سے پریشان کیوں ہوتے ہیں؟ عثمان خان، لندن، برطانیہ ایڈز کی بیماری پاکستان میں اس لیے بڑھ جائے گی کیونکہ وہاں مناسب طبی سہولیات میسر نہیں ہیں اور غیر تربیت یافتہ افراد ڈاکٹر بنے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں استعمال شدہ طبی آلات کے بار بار استعمال کے باعث ایڈز ایک سے دوسرے شخص تک منتقل ہو رہی ہے۔ اس لیے صحت عامہ کے ضمن میں مثبت پیش رفت کے لیے ایک بڑی تعلیمی مہم چلانے کی اشد ضرورت ہے۔
عبدالرحیم احمد، واٹرلو، کینیڈا میرے خیال میں آپ کا سوال نامکمل ہے کیونکہ یہ واضح نہیں کہ سوال جنسیات کی تعلیم کے بارے میں ہے یا ایڈز کی معلومات کی فراہمی کے بارے میں اور یہ رائے کس عمر کے بچوں کو معلومات فراہم کرنے کے بارے میں مانگی گئی ہے۔ البتہ میں ذاتی طور پر ایڈز کے بارے میں آگہی پھیلانے کی مہم کے بھرپور حق میں ہوں کیونکہ یہ کوششیوں معاشرے سے ایڈز کی لعنت ختم کرنے کے علاوہ سوسائٹی میں کثیر جنسی تعلقات کے پھیلتے ہوئے رجحان پر بھی قابو پانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ احمد جمیل، پاکستان اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں ایڈز نہ پھیلنے پائے تو ہمیں جنسیات پر دنیاوی تعلیم کی بجائے اس کو اسلام کے حوالے سے لوگوں کو سمجھانا چاہئے۔ سید نعیم الحق، سعودی عرب پاکستان تیسری دنیا کا وہ ملک ہے جہاں ستر فیصد آبادی تعلیم سے بےبہرہ ہے۔ بیرونی ممالک کی مدد سے چلنے والی غیر سرکاری تنظیموں کے اہلکار غریبوں کے پیسے سے اپنی جیبیں بھر رہے ہیں۔ ایسی صورت حال میں ایڈز کی تعلیم ایسا خواب لگتا ہے جو کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔ لیکناگر حکومت حقیقتاً اس معاملے میں مخلص ہے تو ایڈز اور بنیادی صحت کی تعلیم کو نصاب کا لازی جزو بنائے تاکہ بچے صحت اور تحفظ کے امور سے واقف ہوں اور یہ لعنت معاشرے میں نہ پھیل سکے۔ قیصر بٹ، لاہور، پاکستان میرے خیال میں یہ بات بالکل درست ہے کہ ایڈز ایک وبا کی شکل اختیار کر چکی ہے اور یہ کہنا کہ ایڈز کا شکار صرف یورپی ممالک ہیں، جاہلانہ بات ہے۔ لہذا ایڈز سے متعلق معلومات اگر سکول کی سطح پر فراہم کی جائیں تو یہ ہمارے ملک کے لیے بہتر ہو گا ورنہ ہمارا حال بھی سعودی عرب کا سا ہو جائے گا یا اس سے بھی ابتر۔ سفیر جان، پاکستان ایڈز کے بارے میں تعلیم فراہم کیا جانا لازمی ہے کیونکہ اگر اب بھی ایسے اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ اس مسئلے پر قابو پانا ناممکن ہو جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||