BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 05 November, 2003, 14:46 GMT 19:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لالی وڈ بمقابلہ بالی وڈ : آپ کی رائے
لالی وڈ بمقابلہ بالی وڈ
لالی وڈ بمقابلہ بالی وڈ

لالی وڈ کی فلم نگری اس سال عیدالفطر کے موقع پر ایک تاریخی سنگ میل عبور کر جائیگی جب یہاں پر تیار ہونے والی فلم ’لڑکی پنجابن‘ پاکستان سے پہلے بھارت اور برطانیہ میں نمائش کے لئے پیش کر دی جائے گی۔

اگر بھارتی سنسر بورڈ نے فلم کو پاس کر دیا تو یہ فلم گزشتہ چالیس سال میں بھارت میں ریلیز ہونے والی پہلی پاکستانی فلم ہوگی۔ پاکستان اور بھارت کے مابین سن انیس سو پینسٹھ تک فلموں کی درآمد و برآمد کا معاہدہ موجود تھا جس کے تحت پاکستانی فلمیں بھارت اور بھارتی فلمیں پاکستان میں دکھائی جاتی تھیں۔

اس معاہدے کو پاکستانی فلم انڈسٹری کے مطالبے پر ختم کر دیا گیا تھا کیونکہ پاکستانی فلم انڈسٹری کا مؤقف تھا کہ پاکستانی فلمیں بھارتی فلموں کا مقابلہ نہیں کر سکتیں تاہم اس کے نتیجے میں پاکستانی فلمیں بھارت میں دنیا کی سب سے بڑی مقامی فلمی منڈی سے محروم ہو گئیں۔

کیا بھارتی فلموں کی نمائش پر پابندی سے پاکستانی فلمی صنعت کو فائدہ ہوا؟ پاکستانی فلمی صنعت کی پسماندگی کی کیا وجوہات ہیں؟ کیا حالیہ فلم کی نمائش کے بعد یہ امید کی جا سکتی ہے کہ پاکستان میں لالی وڈ ایک منافع بخش فلمی صنعت بن سکے گی؟

----------------- یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں------------------

عاصم علی، لاہور، پاکستان

میرے خیال میں اگر بھارتی فلموں کو سینسر کر کے پاکستان میں نمائش کے لیے پیش کیا جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کیونکہ اس کا فائدہ ہمیں ہی ہو گا۔ اب جو لوگ گھر بیٹھ کر وی۔سی۔آر پر فلمیں دیکھ رہے ہیں وہ سنیما جا کر دیکھیں گے جس سے پاکستانی فلموں کو بھی بڑی مارکیٹ میں مقابلہ کرنے کا موقع ملے گا اور زیادہ سرمایہ حاصل ہو گا۔

سماجی مسائل کی بات کہاں؟

 پاکستانی فلمی صنعت کوئی انڈسٹری نہیں بلکہ چند ماجھے ساجوں کا کاروبار ہے۔

محمد اعظم

محمد اعظم، فیصل آباد، پاکستان

پاکستانی فلمی صنعت کوئی انڈسٹری نہیں بلکہ چند ماجھے ساجوں کا کاروبار ہے جو نوجوانوں کو بےراہ رو کر رہے ہیں۔ ہر فلم کی تقریباً ایک ہی سی کہانی ہوتی ہے۔ فلم کا نصف حصہ مزاحیہ ہوتا ہے جبکہ دوسرا نصف حصہ ٹریجڈی پر مبنی ہوتا ہے، ایک لڑکی کے عشق میں مار دھاڑ ہوتی ہے اور کچھ جنسیاتی طرز کے ناچ گانے فلمائے جاتے ہیں۔ عجیب بات ہے کہ فلموں میں سماجی مسائل اجاگر کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی ہے۔

کمار سانو کا نام کیوں نہیں لیتے؟

 جو بھارتی فلمی صنعت کے مقابلے کی کوشش کرتا ہے وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے۔

طاہر فاروقی

طاہر فاروقی، کراچی، پاکستان

پاکستان اور بھارت کی فلمی صنعت میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ جو بھی بھارتی فلمی صنعت کے مقابلے کی کوشش کرتا ہے وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ ہم تکنیکی اعتبار سے صفر ہیں اور دوسری یہ کہ ہماری فلمی صنعت میں کوئی شخص بھی پڑھا لکھا نہیں ہے۔ ہماری فلمی صنعت مبینہ طور پر کمار سانو کےگانے فلموں میں استعمال کرتی ہے اور ان کا نام نہیں لیتی۔

سیدہ تنویر فاطمہ، بہاول نگر، پاکستان

دو ہمسایہ ممالک کے درمیان دوستی کے فروغ کا یہ ایک اور طریقہ ہے اور مختلف ثقافتوں کے قریب آنے سے فلمی سرکٹ وسیع تر ہو گا۔

کم خرچ، بالا نشین

 وہ زیادہ منافع بخش بھی ہیں اور ان میں کم اخراجات سے زیادہ معیاری کام ہو سکتا ہے۔

محمد خرم خان، کراچی، پاکستان

محمد خرم خان، کراچی، پاکستان

اس صنعت کو بند کرکے اپنی ساری توانائی ٹیلی ویژن اور لائیو شوز کی طرف صرف کرنا چاہئے۔ وہ زیادہ منافع بخش بھی ہیں اور ان میں کم اخراجات سے زیادہ معیاری کام ہو سکتا ہے۔ یہ پابندی اگر ختم ہو گئی تو پاکستانی فلمی صنعت ختم تو نہیں ہوگی البتہ ممبئی ضرور منتقل ہوجائے گی۔

محمد جمیل احمدانی، ڈیرہ غازی خان، پاکستان

اس صنعت کو بند کردینا چاہئے۔

محمد عظیم، لاہور، پاکستان

پاکستانی فلمی صنعت کو بند کر دینا چاہئے کیونکہ جو فلمیں آج کل بن رہی ہیں، انہیں فلمیں نہیں کہا جا سکتا۔

ادریس قاضی، کراچی، پاکستان

جب تک صنعت میں تعلیم یافتہ افراد نہیں آئیں گے یا بڑی سرمایہ کاری نہیں کی جائے گی یہ بہت مشکل ہے۔ حال ہی میں یہ دل آپ کا ہوا بہت کامیاب ہوئی تھی جس کی وجہ بہترین معیار، ڈیجیٹل ساؤنڈ اور زیادہ پیسے لگانا تھا۔

محمد افضل خان، اٹک، پاکستان

اگر پاکستانی فلمیں بھارت میں چلیں تو بہت فائدہ ہوگا کیونکہ بھارت بہت بڑی منڈی ہے۔

چاند کا مسئلہ

 وہ چاند پر پہنچ گئے ہیں اور ہم چاند ابھی تک دیکھ نہیں پائے،

بلال کاہلوں، پاکستان

حسین بخاری، بہاول نگر، پاکستان

لڑکی پنجابن بھارت میں دکھا کر ہم اپنی ثقافت وہاں متعارف کروا سکتے ہیں اور منافع بھی کما سکتے ہیں۔

بلال کاہلوں، پاکستان

وہ چاند پر پہنچ گئے ہیں اور ہم چاند ابھی تک دیکھ نہیں پائے، ہم دونوں کا کیا مقابلہ۔

میڈم صائمہ

میڈم صائمہ جو ساٹھ سال کی عمر میں اپنے آپ کو سولہ سال کی بچی سمجھتی ہیں، ان کی فلم آخر کون دیکھنے جائے گا۔

رضا نعمان، کراچی، پاکستان

رضا نعمان، کراچی، پاکستان

اگر بھارت کوئی فلم بھیجنی بھی تھی تو کوئی ڈھنگ کی فلم بھیجی ہوتی، میڈم صائمہ جو ساٹھ سال کی عمر میں اپنے آپ کو سولہ سال کی بچی سمجھتی ہیں، ان کی فلم آخر کون دیکھنے جائے گا۔

منور زمان، کمالیہ، پاکستان

اگر پاکستانی فلم کو بھارت میں دکھایا گیا تو مقابلے کا صحیح پتہ چلے گا اور پاکستانی اداکار ٹھیک سے کام کرسکیں گے۔ ایسی فلمیں بہت ضروری ہے جن میں حقیقت دکھائی جائے، پاکستانی فلموں میں حقیقت ہوتی ہے لیکن بھارتی فلموں میں حقیقت بہت کم ہوتی ہے۔ بحرحال یہ بہت اچھا قدم ہے۔

’چل یار فلم بناتے ہیں‘

کسی کے پاس اگر پیسا آیا تو ’چل یار فلم بناتے ہیں‘ اور یوں فلم بن جاتی ہے جس کا مقصد پیسہ ہی کمانا نہیں ہوتا بلکہ ریما اور دیگر ٹاپ اداکاراؤں کے قریب آنا بھی ہوتا ہے۔

راشد سید، کراچی، پاکستان

راشد سید، کراچی، پاکستان

میرا خیال ہے کہ ہمیں پاکستان کی فلمی صنعت کو بند ہی کر دینا چاہیے۔ ہماری فلمی صنعت میں تعلیم یافتہ لوگوں کا آگے آنا بہت ضروری ہے۔ تعلیم کے علاوہ بھی ایک چیز کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ ہے ٹیلینٹ لیکن ہمارے یہاں ان دونوں کو بیکار سمجھا جاتا ہے۔ کسی کے پاس اگر پیسا آیا تو ’چل یار فلم بناتے ہیں‘ اور یوں فلم بن جاتی ہے جس کا مقصد پیسہ ہی کمانا نہیں ہوتا بلکہ ریما اور دیگر ٹاپ اداکاراؤں کے قریب آنا بھی ہوتا ہے۔ جب تک باصلاحیت لوگ آگے نہیں آئیں گے اس وقت تک ہم بالی وڈ کی دھول کو بھی نہیں پہنچ سکتے۔

جمالی قریشی، نیویارک، امریکہ

میرے خیال میں یہ ایک بہت اچھا قدم ہے۔ ہمیں چاہیے کہ غیر ملکی فلمسازوں کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ پاکستان میں اپنی فلموں کی نمائش کریں۔ اس طرح پاکستان میں ایک مقابلے کی فضا پیدا ہو گی اور ہم فلمی صنعت کو درپیش بحران کا خاتمہ کر کے اس کاروبار کو منافع بخش بنا سکیں گے۔

محسن شریف، عمان

پاکستان کی فلمی صنعت کو بہت سی ناانصافیوں کا سامنا ہے مثال کے طور پر سینسر بورڈ کی پالیسیاں اور جاگیردار حضرات کے فلمی ہیروئینوں کے ساتھ معاشقوں جیسے معاملات۔ نہ صرف یہ بلکہ فلموں کی غیر معیاری کہانیاں اور تکنیکی سہولیات کا فقدان مسائل میں مزید اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ ان تمام مسائل کا بغور جائزہ لے کر سخت قوانین مرتب کرنے ہوں گے اور ان پر عمل درآمد کرانا ہو گا۔

پورا کاروبار

 بھارتی فلموں پر پابندی کے باوجود وہاں کی فلمیں پاکستان میں پورا کاروبار کرتی ہیں۔

شیما صدیقی، کراچی، پاکستان

شیما صدیقی، کراچی، پاکستان

پاکستانی فلم کی بھارت میں نمائش ضرور ہونی چاہیے کیونکہ بھارتی فلموں پر پابندی کے باوجود وہاں کی فلمیں پاکستان میں پورا کاروبار کرتی ہیں۔ جب یہ کاروبار ختم نہیں کیا جا سکتا تو پھر ہماری حکومت کو بھی منافع کما لینا چاہیے۔ پاکستانی فلم کے زوال کی ایک وجہ مقابلے کا فقدان ہے۔

ندیم اللہ، لاہور، پاکستان

پاکستان اور بھارت کی فلمی صنعتوں کا ملاپ ہونا چاہیے۔

راحیل قمر، اسلام آباد، پاکستان

پاکستانی فلمی صنعت کو بند کر دینا چاہیے کیونکہ اس کا یہی ایک علاج ہے۔

ابو انتظام سید، فیصل آباد، پاکستان

میرے خیال میں پاکستانی فلمی صنعت کوئی قابلِ رشک کردار ادا نہیں کر رہی بلکہ نوجوانوں کے اخلاق ہی بگاڑ رہی ہے اس لئے اس کی چھٹی کرا دینی چاہیے۔

چھٹی کرا دینی چاہئے

 میرے خیال میں پاکستانی فلمی صنعت کوئی قابلِ رشک کردار ادا نہیں کر رہی بلکہ نوجوانوں کے اخلاق ہی بگاڑ رہی ہے اس لئے اس کی چھٹی کرا دینی چاہئے۔

ابو انتظام سید، فیصل آباد، پاکستان

عثمان خان، برطانیہ

بھارتی فلموں پر پابندی سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ضحاءالحق کے دنوں میں میڈیا پر سخت کنٹرول نے بھی اسے بہت نقصان پہنچایا۔ لڑکی بنجابن کی نمائش سے پاکستانی فلمی صنعت کو فائدہ پہنچے گا کیونکہ جنرل مشرف پاکستان کو واپس اعتدال پسندی کی طرف لے جا رہے ہیں۔

وسیم ارشد، مونٹریال، کینیڈا

پاکستانی فلموں کے اداکار غیرپیشہ ورانہ، ان پڑھ اور غیرتربیت یافتہ ہیں۔ ان میں جدت کی صلاحیت نہیں ہے جو اچھی فلموں کے لئے بہت اہم ہے اور وہ رواج کی اندھا دھند تقلید کرنے والوں میں سے ہیں۔ ہماری فلمی صنعت میں ابھی بھی پیسہ لگایا جا سکتا ہے لیکن ہمیں انتہائی باصلاحیت، پیشہ ور اور قابل موسیقاروں، کیمرہ مینوں ، لکھنے والوں اور ہدایت کاروں کی ضرورت ہے جو فی الحال مہیا نہیں ہیں۔ میرے خیال میں ساٹھ کی دہائی تک بھارتی اور پاکستانی فلمی صنعتیں ایک حد تک ایک دوسرے کا مقابلہ کر رہی تھیں لیکن خواجہ خورشید انور جیسے لوگوں کے جانے کے بعد ہم نیچے کی طرف اور بھارتی فلمیں اوپر کی طرف جا رہی ہیں۔

امید کی کوئی کرن نہیں

 اس وقت پاکستانی فلمی صنعت کو ان پڑھ ہدایت کاروں اور ان پیسہ لگانے والوں نے ہائی جیک کیا ہوا ہے جو اپنے کالے پیسے کو سفید بنانے کے چکر میں ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ پاکستانی فلموں کے لئے مستقبل میں کوئی امید کی کرن ہے۔

طاہر چوہدری، امریکہ

طاہر چوہدری، امریکہ

بھارتی فلموں پر پابندی کے بعد ستر کی دہائی کے آخر تک پاکستانی فلموں میں خاصی بہتری آئی۔ لیکن بعد میں اداکاری اور ہدایت کاری دونوں کا معیار خراب ہوا۔ پاکستان ٹیلی ویژن نے بھی بہت سے فلم کے شائقین کو سینماؤں سے اپنی طرف راغب کرلیا کیونکہ ٹی وی پر کہانیوں اور اداکاری کا معیار بہت بہتر تھا۔ اس وقت پاکسانی فلمی صنعت کو ان پڑھ ہدایت کاروں اور ان پیسہ لگانے والوں نے ہائی جیک کیا ہوا ہے جو اپنے کالے پیسے کو سفید بنانے کے چکر میں ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ پاکستانی فلموں کے لئے مستقبل میں کوئی امید کی کرن ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد