| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لڑکی پنجابن کی عید بھی، کرسمس بھی
لالی وڈ کی فلم نگری اس سال عیدالفطر کے موقع پر اس وقت ایک تاریخی سنگ میل عبور کر ےگی جب یہاں پر تیار ہونے والی فلم ’لڑکی پنجابن‘ پاکستان سے پہلے بھارت اور برطانیہ میں نمائش کے لئے پیش کر دی جائے گی۔ فلمساز افضل ایم خان نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ برطانوی سنسر بورڈ پہلے ہی فلم کی نمائش کی اجازت دے چکا ہے جبکہ بھارت میں بھی فلم کو سنسر بورڈ کے سامنے پیش کیا جا چکا ہے۔ اگر بھارتی سنسر بورڈ نے فلم کو پاس کر دیا تو یہ فلم گزشتہ چالیس سال میں بھارت میں ریلیز ہونے والی پہلی پاکستانی فلم ہوگی۔ پاکستان اور بھارت کے مابین سن انیس سو پینسٹھ تک فلموں کی درآمد و برآمد کا معاہدہ موجود تھا جسے پاکستانی فلم انڈسٹری کے مطالبے پر ختم کر دیا گیا۔
افضل ایم خان کے مطابق ’لڑکی پنجابن‘ ہندوستان اور برطانیہ میں اکیس نومبر کو نمائش کے لئے پیش کی جائے گی جبکہ پاکستان میں اس کی ریلیز پچیس دسمبر سے ہوگی۔ برطانیہ میں سنسر بورڈ نمائش کی اجازت دیتے وقت فلم میں جنس اور تشدد کے مناظر کو سامنے رکھتے ہوئے اسے بارہ سال، پندرہ سال یا اٹھارہ سال سے زائد عمر کے افراد کے لئے موزوں ہونے کا سرٹیفکیٹ بھی جاری کرتا ہے۔ برطانیہ کے سنسر بورڈ نے فلم ’لڑکی پنجابن‘ کو بارہ سال سے زائد عمر کے افراد کے لئے موزوں قرار دیا ہے یا دوسرے لفظوں میں اسے ایک فیملی فلم کے طور پر پاس کیا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں افضل ایم خان نے بتایا کہ ان کی خواہش تھی کہ فلم انٹرنیشنل سرکٹ کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی عیدالفطر پر ہی ریلیز ہو لیکن ملک میں ڈیجیٹل سینماگھروں کی عدم دستیابی کی وجہ سے پاکستان میں اس کی نمائش کو مؤخر کرنا پڑا۔ فلم کے ہدایت کار سیدنور نے اس امر کی تردید کی کہ سکھ برادری کے احتجاج پر فلم کی کہانی کو بدل دیا گیا ہے اور کہا فلم کی کہانی وہ ہے جو پہلے دن شوٹ کی گئی تھی۔ تاہم انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ بعض سکھوں نے فلم کی کہانی پر اعتراض کیا تھا لیکن اکتوبر میں جب برطانیہ میں فلم کا پریمیئر کیا گیا تو سکھ برادری کے مقتدر افراد کو بھی مدعو کیا گیا اور انہوں نے کہانی پر اطمینان کا اظہار کیا۔
سید نور نے کہا کہ پاکستان فلم انڈسٹری کی بقاء کے لئے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ پاکستانی فلمیں انٹرنیشنل مارکیٹ میں نمائش کے لئے پیش کی جائیں۔ فلم ’لڑکی پنجابن‘ کو ایک برطانوی ادارے پیراگون پکچرز انٹرنیشنل نے پروڈیوس کیا ہے جو معروف بھارتی ہدایت کار ششی لال نائر کا نام فلم کے پیش کار کے طور پر استعمال کر رہا ہے تاکہ بھارت میں فلم کی نمائش کے موقع پر فلم بینوں کی توجہ حاصل کی جا سکے۔ سن انیس سو سینتالیس میں ہونے والے فسادات کے پس منظر میں بننے والی اس فلم کی کہانی اپنے خاندان سے بچھڑی ہوئی ایک سکھ لڑکی کے گرد گھومتی ہے جسے لاہور میں ایک مسلمان نے پناہ دی تھی۔ مسلمان خاندان کے حسن سلوک سے متاثر ہو کر سکھ لڑکی نے بعد میں اسلام قبول کر لیا اور اپنے میزبان سے شادی کر لی۔ پچاس سال گزرنے کے بعد اس کے دل میں یہ شدید خواہش پیدا ہوتی ہے کہ وہ اپنے خاندان سے ملے جو مشرقی پنجاب کے دارالحکومت چندی گڑھ میں آباد ہے۔
وہ اپنے خاندان کو پاکستان آنے کی دعوت دینا چاہتی ہے لیکن اسے یہ بھی خدشہ ہے کہ جب اس کے خاندان کے افراد کو اس کے قبول اسلام کے بارے میں پتا چلے گا تو وہ اس سے منہ موڑ لیں گے۔ وہ اپنی سگی بہن کی ایک بچھڑی ہوئی سہیلی بن کر اس سے رابطہ کرتی ہے اور اسے لاہور آنے کی دعوت دیتی ہے۔ جب سکھ خاندان ننکانہ صاحب کی یاترا کے سلسلے میں پاکستان کا دورہ کرتا ہے تو لاہور میں دونوں بہنوں کی ملاقات تو ہوتی ہے لیکن دو بچھڑی ہوئی سہیلیوں کے طور پر۔ اسی دوران تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے اور چندی گڑھ سے آئے ہوئے سکھ خاندان کی بیٹی پریتم کو میزبان مسلمان خاندان سے تعلق رکھنے والے شامل خان سے پیار ہو جاتا ہے۔ سکھ خاندان کی چندی گڑھ واپسی کے بعد بھی پریتم اور شامل خان کا ایک دوسرے سے رابطہ برقرار رہتا ہے اور پیار کا بندھن اور مضبوط ہوتا ہے۔ پریتم اور شامل کا خاندان انہیں انگلینڈ بھیج دیتا ہے لیکن دونوں کی ملاقات صرف اس وقت ہوتی ہے جب چند دن بعد ہی پریتم کی اپنے منگیتر سے شادی ہونا ہوتی ہے۔ دونوں کے دل میں طرح طرح کے خیالات جنم لیتے ہیں۔ کیا کریں؟ بھاگ جائیں یا تقدیر کے اس فیصلے کو بلا چون چرا مان لیں؟ پریتم اور شامل کیا کرتے ہیں، یہ تو اب فلم کی نمائش کے بعد ہی معلوم ہو سکے گا۔ ’لڑکی پنجابن‘ کے ہدایت کار چوڑیاں جیسے کامیاب فلم کے خالق سید نور ہیں جبکہ کہانی اور مکالمے رخسانہ نور نے لکھے ہیں۔ فلم کے اداکاروں میں صائمہ، شامل خان، بابرعلی، راشد محمود، رشیدناز، طارق محمود، طارق شاہ، بہار بیگم، نغمہ بیگم اور حبیب شامل ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||