| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیفڈیک کی قبر پر فلم سٹی؟
تین دہائی پہلے نیشنل فلم ڈیویلپمنٹ کارپوریشن یا نیفڈیک کا قیام پاکستان کی فلمی صنعت کو ان مشکلات سے نکالنے کے لئے عمل میں لایا گیا تھا جب سے وہ آج بھی دوچار ہے۔ نیفڈیک کا قیام کسی شخصی فیصلے کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے پاکستان کی فلمی صنعت کی ترقی کی خواہش اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ہونے والی منصوبہ بندی کارفرما تھی۔ انیس سو اٹھاون سے انیس سو انہتر کے ایوب خان دور میں پہلی بار محسوس کیا گیا کہ فلمی صنعت کو تقویت ملنی چاہیے۔ چنانچہ اس دور میں فلمی صنعت کی بہتری اور بہبود کے لیے ایک جامع رپورٹ تیار کی گئی جسے این ایم خان رپورٹ کہا جاتا ہے۔ بھٹو دور میں این ایم خان رپورٹ کی بنیاد پر فلم ترقیاتی کارپوریشن اور نیفڈیک کی بنیاد رکھی گئی۔ نیفڈیک کو چلانے کے لیے امریکی فلمسازوں کا ایوب دور میں منجمد شدہ سرمایہ استعمال کیا گیا۔
ساڑھے چار کروڑ روپے کی منجمد رقم نیفڈیک کو اس شرط پر واگزار کر دی گئی کہ اس رقم کا سود امریکی فلمسازوں کو واپس کیا جائے گا۔ نیفڈیک جو ملکی فلم انڈسٹری کی ترقی و بہبود کے لیے وجود میں لائی گئی تھی لیکن اسے ایک کاروباری ادارہ بنا دیا گیا اور اس ادارے کو چلانے کے لیے کسی فزیبیلیٹی کے بغیر کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں دفاتر قائم کیے گئے اور وافر عملہ ملازم رکھ لیا گیا۔ نیفڈیک نے ابتدا میں ہی غلط بخشیاں شروع کر دی۔ مثلاً جمیل دہلوی کو لندن میں ’فائیو ریورز‘ کے نام سے لاکھوں روپے فنانس کر دیے گئے۔ اسی طرح اے جے کاردار کو ’دور ہے سُکھ کا گاؤں‘ بنانے کے لیے خاصی رقم دے دی گئی اور دونوں فلمیں نامکمل رہیں اور تمام سرمایہ ڈوب گیا۔ اسی طرح ’خاک اور خون‘ کے نام سے ایک فلم مکمل کی گئی جو ُبری طرح ناکام ہوئی۔ دو تین پاکستانی فلموں، موم کی گڑیا وغیرہ ڈسٹری بیوشن کے لیے حاصل کی گئیں جو ناکام ہو گئیں۔ اسی دور میں پرائیویٹ چینل پر انگریزی فلموں کی درآمد بندد کر کے نیفڈیک نے امریکی فلموں کی تقسیم کا کام شروع کر دیا۔ اسلام آباد میں غیر آباد جگہ پر دو سنیما بنا لیے اور لاہور میں الفلاح سنیما ٹھیکے پر حاصل کر لیا گیا۔ اسی دور میں وہ تمام سرمایہ برباد کر دیا گیا جو امریکی فلمسازوں سے حاصل کیا گیا تھا۔ نیفڈیک گھاٹے میں جانے لگی۔
ضیاءالحق کا دور آیا تو اس میں کچھ اصلاحات پر غور کیا گیا۔ فلمی صنعت کی بہتری کے لیے فلمسازوں کی رجسٹریشن اور نیشنل فلم ایوارڈ کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ لیکن نیفڈیک کے حالات دن بدن بگڑتے چلے گئے۔ بے نظیر اور نواز شریف کے دونوں ادوار میں نیفڈیک کی اصلاح نہ ہو سکی۔ چنانچہ مشرف دور میں اسے مکمل طور پر بند کر دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس دور میں نیفڈیک کے چیئرمین میجر جنرل(ر) عنایت اللہ نیازی کی کوششوں سے فلم انڈسٹری میں بہتری کی کچھ صورت پیدا ہوئی۔ انہوں نے فلم ٹریڈ پر نافذ متعدد ٹیکس ختم کرا دیے۔ تفریحی ٹیکس کو فکس ٹیکس کی شکل دے دی گئی۔ لیکن دیکھا گیا کہ فلمی صنعت یا فلمسازوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکا۔ نیفڈیک ختم کرنے کے بعد نئی حکومت نے اس کے اثاثے بائیس کروڑ میں فروخت کر دیے ہیں۔ اور اب فلمی صنعت کی نظر ان بائیس کروڑ پر لگی ہے۔ میجر جنرل(ر) عنایت اللہ خان نیازی گو کسی دوسرے محکمہ میں چلے گئے ہیں لیکن ان کی ہمدردیاں بہرحال پاکستانی فلمی صنعت کے ساتھ ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ وہ جیسے تیسے فلم اکیڈمی اور فلم سٹی قائم کروا دیں جس کا کہ مطالبہ فلم انڈسٹری کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔ فلمی صنعت کے موجودہ کرتا دھرتا اس سلسلے میں وزیر ثقافت و سیاست رئیس منیر احمد سے بارہا میٹنگ کر چکے ہیں جس میں وزیر موصوف نے اس مطالبے کو منظور کرنے اور پایہ تکمیل تک پہنچانے کا وعدہ کیا ہے۔ فلمی حلقوں کے بعض سنجیدہ اور سینیئر افراد کا خیال ہے کہ بھٹو دور میں نیفڈیک پر جو ساڑھے چار کروڑ روپے خرچ کیے گئے تھے اس کا فلمی صنعت کو کیا فائدہ پہنچا اور اب اگر نیفڈیک کے اثاثے فروخت کر کے حکومت بائیس کروڑ روپے حاصل کر چکی ہے اگر یہ رقم فلم انڈسٹری کے مطالبات کے پیش نظر فلم سٹی اور فلم اکیڈمی پر خرچ کرتی ہے تب بھی فلم انڈسٹری کو فائدہ پہنچنے کا کوئی امکان نہیں۔ فلم سٹی اور فلم اکیڈمی کا منصوبہ ایک جذباتی مطالبے کا نتیجہ ہے۔ پاکستان میں فلمسازی کی حالت یہ ہے کہ گئے دور میں لاہور میں گیارہ فلم اسٹوڈیو تھے اور اب صرف دو رہ گئے ہیں۔ ان سٹوڈیوز میں میں بھی کام نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایسے حالات میں اگر کروڑوں روپے کے خرچے سے ’فلم سٹی‘بنایا جا رہا ہے تو لاہور سے سو کلومیٹر دور کون فلمساز شوٹنگ کرنے جائے گا جبکہ لاہور کے باقی ماندہ دونوں سٹوڈیوز کے مالکان کام نہ ہونے کی وجہ سے ملازمین کو تنخواہیں دینے سے بھی قاصر نظر آتے ہیں۔ فلم سٹی کے منصوبے کے لیے فزیبیلیٹی، اس پر لاگت اور بعد میں ہونے والی آمدن کا جائزہ جن حضرات نے لیا ہے ان کا کہنا ہے کہ حکومت اگر اس منصوبے پر عمل کرتی ہے تو بائیس کروڑ روپے برباد کر کے بیٹھ جائے گی۔ فلمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر فلم سٹی کی تعمیر کے بعد مہینے میں تیس شفٹ بھی کام کیا جائے تو نصف عملے کی تنخواہیں بھی نہیں نکل سکیں گی۔ فلم سٹی کا منصوبہ صرف اسی صورت کامیاب ہو سکتا ہے کہ کل کو بھارت کے ساتھ کوئی ثقافتی معاہدہ ہو جائے اور وہاں کے فلمساز پاکستان شوٹنگ کرنے آئیں تو ممکن ہے اس کا خرچہ پورا ہو سکے۔ایک رائے یہ بھی ہے کہ فلم انڈسٹری کے موجودہ کرتا دھرتا فلم انڈسٹری کے نمائندے ہی نہیں ہیں اس لیے کہ فلمسازوں کی انجمن کے الیکشن نہ ہونے کی وجہ سے یہ ایسوسی ایشن ہی کالعدم ہو چکی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||