نثار کھوکھر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سکھر |  |
 | | | اس میلے میں شیما کرمانی اپنے فن کا مظاہرہ کریں گی |
پاکستان میں عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی فنکاروں کی ایک تنظیم تحریک نسواں نے اپنی تیسویں سالگرہ کے حوالے سے کراچی میں تھیٹر فیسٹول کا آغاز کیا ہے ۔ طلسم کے نام سے یہ تھیٹر فیسٹول سات مارچ سے شروع ہوچکا ہے اور مختلف وقفوں کے بعد انتیس مارچ کو اختتام پذیر ہوگا۔ تحریک نسواں کے تھیٹر فیسٹول میں خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے ایک پرفارمنس ’رقص کرو‘ کے نام سے منعقد کی گئی ہے۔ جس میں معروف شاعرہ فہمیدہ ریاض کی نظموں پر شیما کرمانی اور ان کے ساتھی فنکار رقص پیش کریں گے۔ تحریک نسواں کے ڈائریکٹر انور جعفری نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ کراچی میں یہ پہلا تھیٹر فیسٹول ہے، ورنہ فیسٹول تو کیا کراچی میں تو تھیٹر ہی نہیں ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تحریک نسواں کےتیس سال مکمل ہونے کی خوشی میں وہ تمام ڈرامے پیش کیے جائیں گے جو ان تیس برس میں زیادہ مقبول رہے ہیں۔
 |  پاکستان میں رقص کو تاحال وہ مقام حاصل نہیں ہوسکا ہے جو ہونا چاہیئے تھا، لوگ اب بھی اپنی بیٹیوں کو سٹیج پر رقص کرتے دیکھنا پسند نہیں کرتے  |
اس تھیٹر فیسٹول میں وہ اداکار پرفارم کریں گے جنہوں نے تیس سال پہلے یہ ڈرامے کیے تھے۔ ان میں سے اکثر عمر رسیدہ ضرور ہوئے ہیں مگر پرفارمنس ان کی ہوگی ۔ تھیٹر فیسٹیول کی افتتاحی تقریب سات مارچ کی شام کراچی آرٹس کونسل میں ہوئی جس میں مدیحہ گوہر، فیضان پیرزادہ، آصف فرخی اور فہمیدہ ریاض نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور تحریک نسواں کی جدوجہد کی تعریف کی ہے۔ شیما کرمانی نےمقامی میڈیا کوبتایا ہے کہ ان کے ڈرامے سنجیدہ اور بامقصد سمجھے جاتے ہیں۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ فن اور فنکاروں کی کچھ سماجی ذمہ داریاں بھی ہونی ضروری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کمرشل تھیٹر یا موسیقی کے خلاف نہیں ہیں مگر ان کی ترجیح سنجیدہ آرٹ ہے۔ شیما کرمانی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں رقص کو تاحال وہ مقام حاصل نہیں ہوسکا ہے جو ہونا چاہیئے تھا، لوگ اب بھی اپنی بیٹیوں کو سٹیج پر رقص کرتے دیکھنا پسند نہیں کرتے۔ مگر وہ اس سوچ میں تبدیلی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئی ہیں۔ کراچی آرٹس کونسل میں جاری تحریک نسواں کے اس تھیٹر فیسٹول میں دس اور گیارہ مارچ کو، برجیس طاہر کا کمبہ، بارہ مارچ کو، جنیں لہور نئیں ویکھیا، تیرہ مارچ کو عصمت کی دو کہانیاں، چودہ اور پندرہ مارچ کو، اس بیوفا کے شہر میں ڈرامے پیش کیے جائیں گے۔ انور جعفری کے مطابق تھیٹر کا دوسرا حصہ ستائیں مارچ کو شروع ہوگا جو تھیٹر کا عالمی دن ہے۔اور انتیس مارچ رقص کے عالمی دن کے موقع پر بھی تحریک نسواں شاعری اور رقص پیش کریں گی۔ انور جعفری کاکہنا تھا کہ پاکستان میں بڑہتی ہوئی شدت پسندی کے پیش نظر انہوں نے کراچی سٹی گورنمنٹ سے تعاون کی درخواست کی ہے۔ اور انہیں کراچی میں ایسا کوئی خطرہ فی الوقت محسوس نہیں ہو رہا ہے۔ |