ایران: یہودیوں پر ڈرامہ سوپر ہٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیرس، دوسری جنگ عظیم کے دوران۔ شہر کی سب سے بڑی شاہراہ پر ہر جگہ نازی جرمنی کی علامت کے طور پر مشہور سواستکا کا نشان۔ فوجی بوٹ پہنے نازی اہلکار یہودیوں کی پکڑ دھکڑ کر رہے ہیں تاکہ انہیں یہودیوں کے لیے مخصوص کنسنٹیرشن کیمپس میں بھیجا جا سکے۔ ان کیمپوں میں ان سے جبری مشقت کرائی جائے گی، اور بڑی تعداد میں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا۔ اور پیرس کے خوفزدہ باشندے یہ سارا منظر دیکھ رہے ہیں۔ کہانی بے حد مقبول لیکن پرانی ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران یہودیوں کے ساتھ نازیوں کے بربریت آمیز سلوک پر بہت سے مقبول ڈرامے اور فلمیں بن چکی ہیں۔ ماضی کی طرح اس بار بھی یہ فارمولہ خوب ہٹ ہوا ہے، اور لوگ بڑی تعداد میں یہ ڈرامہ دیکھ رہے ہیں۔ بس فرق صرف اتنا ہے کہ سیریز ایرانی سرکاری ٹی وی کے لیے بنائی گئی ہے۔ ایک ایسے ملک میں جس کے صدر انتہائی متنازعہ انداز میں یہ کہہ چکے ہیں کہ یہودیوں کا قتل عام ہوا ہی نہیں تھا اور یہ کہ ان پر ظلم و زیادتی حقیقت کم اور افسانہ زیادہ ہے۔
لہذا اس سیریز کا دکھایا جانا یا تو ایک بڑی نظریات تبدیلی ہے یا پھر ایران کی یہودی مخالف شبیہہ کو درست کرنے کی کوشش۔ ایرانی فلم ساز اور مبصر نادر طالب زادہ کہتے ہیں کہ ایران کو ایک یہودی مخالف ملک کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ حقیقت اس کے بالکل بر عکس ہے۔ ’یہ مقبول سیریز ایران کے خلاف پروپیگینڈے کے جواب میں بنائی گئی ہے‘۔ لیکن کہانی میں کئی نئے موڑ آتے ہیں۔ ڈرامہ صرف یہودیوں کے قتل عام کے اعتراف پر ہی ختم نہیں ہوجاتا بلکہ اس کا مرکزی کردار ایک ایرانی سفارتکار ہے جو پیرس سے یہودیوں کی بھاگنے میں مدد کرنے کے لیے انہیں فرضی پاسپورٹ فراہم کرتا ہے۔ ایرانی سفارتکار کا ایک یہودی عورت سے معاشقہ بھی دکھایا گیا ہے۔ سیریز کے ہدایدکار حسن فطحی کہتے ہیں کہ انہوں نے دوسری جنگ عظیم کی ایک سچی کہانی پر یہ ڈرامہ بنایا ہے جس کا مقصد دنیا کو یہ دکھانا ہے کہ انہوں نے ایران کے بارے میں جو تاثر قائم کیا ہے وہ غلط ہے۔ ’اس زمانے میں بہت سے لوگ تھے جو یہودیوں کو بچا سکتے تھے، لیکن انہوں نے اپنی گرفتاری کے خوف سے ان کی مدد نہیں کی۔
’لیکن کچھ ایرانی اپنے خوف پر قابو پاکر یہودیوں کی مدد کے لیے آگے آئے۔ اپنی شخصیت، اپنی تہذیب اور اپنی روایات کی وجہ سے‘۔ لیکن باہر کی دنیا ایران کے اسرائیل مخالف بیانات بھی سنتی ہے۔ اور کبھی کبھی تو یہ تاثر ملتاہے جیسے ایران یہودیوں کی مخالفت کو ہی اپنے وجود کی نظریاتی بنیاد سمجھتا ہے۔ لیکن جواب میں حسن فطحی کہتے ہیں کہ آپ صہیونیت مخالف ہوسکتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ یہودیوں کے بھی خلاف ہوں۔ ’ ہمیں نازیوں کا شکار بننے والے ان بے گناہ یہودیوں سے بھی اتنی ہی ہمدردی ہے جتنی کہ صہیونیت کا شکار ہونے والے فلسطینیوں سے۔ اور یہ زیادہ تر ایرانیوں کا نقطہ نگاہ ہے‘۔ ایک طرف تو یہ کبھی ختم نے ہونے والی بحث جاری ہے اور دوسری طرف عام ایرانی ایک یہودی خاتون اور ایک ایرانی سفارتکار کی اس جذباتی پریم کہانی کا لطف اٹھا رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں ہولوکاسٹ کے متاثرین کا احتجاج05 August, 2007 | آس پاس اسرائیل میں نازی گروہ گرفتار09 September, 2007 | صفحۂ اول مسلم، عیسائی ہم آہنگی کی اپیل11 October, 2007 | آس پاس مارکیز کی کتاب پرایران میں پابندی 16 November, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||