اسرائیل میں نازی گروہ گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی پولیس نے ایک نازی گروپ کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو غیرملکیوں، گے (ہم جنس پرستوں) اور یہودیوں پر حملوں میں ملوث ہے۔ گرفتار کئے جانے آٹھ مشتبہ افراد کی عمر سولہ سے اکیس سال ہے، ان کا تعلق سابقہ سوویت یونین سے ہےاور وہ اسرائیل کے اس قانون تحت آئے تھے جو دادایا دادی میں سے کسی ایک کے بھی یہودی ہونے کی صورت میں اسرائیل منتقل ہونے کی اجازت دیتا ہے۔ پولیس نے انہیں ایک ماہ قبل گرفتار کیا تھا مگر ان کی گرفتاری اب ظاہر کی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے گھروں سے نازی یونیفارم، ایڈلف ہٹلر کی تصویر، چاقو، بندوقیں اور دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا ہے۔ یہ گرفتاریاں تل ابیب کے مغربی شہر پیتا تکوا میں یہودیوں کی عبادت گاہ میں نازی نشان سواستیکا اور ایڈولف ہٹلر کی تصویر بنانے کے لئے ایک سال سے جاری تحقیقات کے دوران عمل میں آئی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس آٹھ رکنی گروہ کا سربراہ پیتا تکوا سے تعلق رکھتا ہے۔ گرفتار ملزمان کے جسم پر آٹھ کا ہندسہ کندہ ہے جو ہٹلر کا کوڈ تھا انگریزی الفابیٹ میں ایچ آٹھواں حرف ہے۔
پولیس ترجمان مکی روزن فلیڈ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے کو بتایا ہے کہ ان کا خیال میں اس علاقے میں کام کرنے والا یہ مرکزی گروہ ہے جو حملوں کے لیے ہٹلر کے نظریات کی پیروی کرتا ہے۔ اس مقدمے کے تفتیشی افسرریویٹل الموگ کا کہناہے اسرائیل میں نازی نظریات موجود ہیں اس پراعتبار کرنامشکل ہے مگر یہ ایک حقیقت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملزمان نے تل ابیب میں کئی لوگوں پر حملوں کا اقرار کیا ہے جن میں اکثر غیرملکی ہیں۔ حملے کے وقت ملزم تصویر یا فلم بناتے تھے، ان میں کچھ کے مناظر میں یہ دکھایا گیا ہے کہ حملہ آور زمین پر گرے ہوئے لوگوں کو لاتیں مار رہے ہیں ایک منظر میں ایک شخص کے سر پر بوتل مارتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے۔ | اسی بارے میں سیاست: بش اور ہٹلر20.09.2002 | صفحۂ اول ہٹلرسے تشبیہ کا تنازعہ21.09.2002 | صفحۂ اول نازی محافظ امریکہ میں گرفتار03.07.2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||