یہودی اسرائیل میں زیادہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل بہت جلد دنیا بھر میں سب سے بڑی یہودی آبادی والا ملک بن جائے گا۔ اسرائیل میں قائم یہودیوں کے ایک ادارے ’جوئش پیپلز پالیسی پلانگ انسٹیوٹ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت امریکہ میں باؤن لاکھ اسی ہزار یہودی آباد ہیں جو اسرائیل میں موجود یہودیوں سے تھوڑی سی زیادہ ہے لیکن مختلف مذاہب کے درمیان شادیوں اور شرح پیدائش میں کمی کے باعث اس آبادی میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے۔ اس کے برعکس اسرائیل میں اس سال آبادی میں پچاس ہزار نفوس کا اضافہ متوقع ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق اسرائیل دنیا کے ان چند ملکوں میں شامل ہے جہاں یہودیوں کی آبادی میں اضافہ ہورہا ہے۔ اسرائیل میں اوسطً ہر یہودی ماں کے تین بچے ہیں اور زیادہ تر مائیں تین سے زیادہ بچوں کی خواہش رکھتی ہیں۔ یہودیوں تحقیق کاروں کے مطابق آبادی میں اضافہ کی وجہ دنیا کے مختلف ملکوں سے نقل مکانی کر کے اسرائیل میں آباد ہونے والے یہودی نہیں بلکہ پیدائش کی شرح میں اضافہ ہے۔ اسرائیل میں باہر سے آنے والے یہودیوں کی تعداد میں گزشتہ سالوں میں قابل ذکر کمی واقع ہوئی ہے۔ انیس سو نوے کی دہائی دنیا کے مختلف ملکوں سے ہر سال تقریباً نوے ہزار یہودی اسرائیل پہنچ رہے تھے۔ یہ تعداد اب گر کر صرف بیس ہزار سالانہ پر پہنچ گئی ہے۔ اس ادارے نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ وہ اسرائیل میں یہودیوں کی آبادی میں اضافے کے لیے اقدامات کرے اور ان کو بتدریج یا مرحلہ وار ’امیگریشن‘ کا موقعہ فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا اس طرح کے اقدامات سے دوسرے ملکوں میں بسنے والے یہودیوں کو اسرائیل کے شہری بننے میں مدد ملے گی اور وہ ابتدائی فوجی تربیت اور معمولی سے سرمایہ کاری کرکے اسرائیل کی شہریت حاصل کر سکیں گے۔ مشرق وسطی میں آبادی کے تناسب کی بہت سیاسی اہمیت ہے۔ اسرائیل اور مقبوضہ علاقوں میں عربوں کی آبادی میں یہودیوں سے زیادہ تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جس کو اسرائیلی حکومت اسرائیل کی یہودی شناخت کے لیے ایک خطرہ تصور کرتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||