یروشلم:یہودیوں کی مارچ روک دی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی پولیس نے یروشلم میں یہودی انتہاپسندوں کےمسجد الاقصٰی کی طرف مارچ کو ناکام بنا دیا ہے۔ اسرائیلی حکومت نے اس مارچ کو روکنے کے لیے ہزاروں پولیس اہلکار تعینات کیے تھے۔ اسرائیلی حکومت کی طرف سے اس مارچ کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کرنے کے اعلان کے باوجود دائیں بازو کے اسرائیلی گروپ نے کہا تھا کہ وہ مسجد الاقصٰی کے احاطے کی طرف مارچ کریں گے۔ فلسطینی شدت پسند گروہوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر اسرائیلی حکومت نے اس مظاہرے کی اجازت دی تو وہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ توڑ دیں گے۔ اس سے قبل اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے تین فلطینی لڑکوں کی ہلاکت کے بعد علاقے میں کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ستمبر دو ہزار میں ایرئل شیرون کے مسجد اقصی جانے سے فلسطینیوں نے احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ حماس کے رہمنا نیذار رائن نے کہا تھا کہ اگر اسرائیل نے اس مارچ کی اجازت دی تو وہ فلسطینیوں کے تیسرے انتفادہ کی بنیاد رکھیں گے۔ دریں اثنا اس احتجاج کا اہتمام کرنے والے اسرائیلی گروپ نے کہا تھا کہ پابندیوں اور روکاوٹوں کے باوجود ایک ہزار کے قریب یہودی مسجد اقصی تک جانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس گروپ کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پورے اسرائیل سے لوگوں کو یروشلم لانے کے لیے خصوصی بسوں کا انتظام کیا ہے اور اس احتجاج میں ہزاروں لوگ حصہ لیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||