BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 19 June, 2005, 06:40 GMT 11:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یہودی بستیاں گِریں گی:رائس
ایریئل شیرون کے مطابق امریکہ کو اہم کردار ادا کرنا ہے۔
ایریئل شیرون کے مطابق امریکہ کو اہم کردار ادا کرنا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا ہے کہ اسرائیلی انخلاء کے بعد غزہ میں موجود یہودی بستیاں گرا دی جائیں گی۔

یرو شلم میں اسرائیل کے وزیراعظم ایرئیل شیرون سے ملاقات کے بعد امریکی وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوجوں اور یہودی آباد کاروں کے انخلاء کے بعدگھر منہدم کر دینے کے معاملے پراسرائیل اور فسلطینی قیادت میں اتفاق ہو گیا ہے۔

اس سے قبل کونڈولیزا رائس نے کہا تھا کہ غزہ کی پٹی سے اسرائیل کا انخلاء فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب ایک ’تاریخی‘ قدم ہوگا۔

اخباری نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ یہودیوں کےتقریباً بارہ سوگھروں کو مسمار کر کےغزہ کی پٹی میں رہائش پذیر تیرہ لاکھ فلسطینی لوگوں کی لیے جگہ مہیا کی جائے گی۔ غزہ میں فلسطینی آبادی دنیا کے کسی بھی خطےمیں انسانی آبادی کا سب سے بڑا تناسب ہے۔

کونڈیلیزا رائس نے کہا کہ (اسرائیل اور فلسطینی) دونوں فریق غزہ میں بستیاں منہدم کرنے اورپھر علاقے کو صاف کرنے کے منصوبہ پر مل کر کام کریں گے جبکہ خطے میں امریکہ کے معاشی نمائندے جیمز وولفنسون اس سلسے میں منصوبہ سازی میں مدد کریں گے۔

واضح رہے کہ فروری میں مسٹر شیرون کی طرف سے انخلاء پر رضامندی کے بعد سے غزہ میں موجود یہودی گھروں کے مستقبل کے بارے میں شکوک پائے جا رہے تھے۔

گذشتہ ہفتے اسرائیل کے وزیر دفاع شول موفاز نے خبردار کیا تھا کہ یہودی آبادکاروں کے گھروں کو گرانا غیر ضروری ہے اوراس سے فوجیوں کی زندگی کو خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔

اب اسرائیل کا خیال ہے کہ وہ غزہ اور مغربی کنارے سے ساڑھے آٹھ ہزار یہودی آبادکاروں اور ان کی حفاظت پر معمور اسرائیلی فوجیوں کو اس سال اگست تک نکال لے گا۔

تاہم غزہ کی زمینی، سمندری اور ہوائی سرحدوں پر اسرائیل کا کنٹرول رہے گا۔

اسرائیلی وزیر اعظم سے ملاقات سے پہلے کونڈولیزا رائس نے کہا تھا کہ غزہ سے اسرائیلی انخلاء علاقے میں امن کا بہترین موقع ہو سکتا ہے۔

ہفتے کو فلسطینی رہنما محمود عباس کے ساتھ ملاقات کے بعد امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’ایجنڈامیں محض مزید مسائل شامل کرنے کا اب کوئی وقت نہیں رہا۔‘

ایرئیل شیرون اور محمود عباس اگلے ہفتے غزہ کی پٹی سے اسرائیلی انخلاء کے منصوبہ کے سلسلہ میں بات چیت کریں گے۔

اسرائیل کو خدشہ ہے کہ علاقے سے اس کے نکل جانے کے بعد سیکورٹی کے معاملہ میں خلاء پیدا ہو جائے گا جس کا فائدہ حماس جیسے فلسطینی گروپ اٹھا سکتے ہیں۔توقع ہے کہ کونڈولیزا رائس مسٹر شیرون کو کہیں گی کہ وہ فلسطینی قیادت کے ساتھ مل کر یہ یقینی بنائیں کہ ایسا نہ ہو۔

امریکی وزیر خارجہ ان دنوں مشرق وسطٰی کےدورے پر ہیں۔

فروری میں دونوں رہنماؤں کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے پانے کے بعد اسرائیلی اور فلسطینی رہنمااگلے ہفتے پہلی مرتبہ مل رہے ہیں۔

تاہم اس دوران علاقے میں جنگ بندی کی کوششوں کو کئی مرتبہ دھچکہ پہنچا ہے جس پر دونوں فریق ایک دوسرے پر معاہدہ سے روگردانی کا الزام لگاتے رہے ہیں۔

ہفتہ کے دن کونڈولیزا رائس نےاسرائیلی وزیر دفاع شول موفاز سے مزید فلسطینی قیدیوں کو رہائی کی ضرورت پر زور دینے کے لیے بھی ملاقات کی۔ فلسطینی قیدیوں کی رہائی فروری کے معاہدہ کا ایک اہم حصہ ہے۔

اسرائیل فوج کے ریڈیو کے مطابق اس ملاقات کے دوران امریکی وزیر خارجہ نے اسرائیل پرفلسطینیوں کی زندگی بہتر بنانے کے لیے ’ٹھوس‘ اقدامات اٹھانے کے لیے بھی دباؤ ڈالا ہے۔

اتوار کو کونڈولیزا رائس وزیراعظم ایرئیل شیرون کے علاوہ اسرائیلی وزیر خارجہ سلوان شلوم اور نائب وزیر اعظم شمعون پیریز سے بھی ملاقاتیں کریں گی۔

خبر رسان ادارے رائٹر نے ایک اسرائیلی سفارتکار کے حوالے سے کہا ہے کہ مسٹر شیرون سے ملاقات کے دوران کونڈولیزا رائس فلسطینی متحارب گروپ حماس کو تنقیدکا نشانہ بنائیں گی۔

ہفتے کو محمود عباس کے ساتھ اپنی ملاقات کے دوران امریکی وزیر خارجہ نے فلسطینی رہنما سے اس بات کی یقین دہانی کرانے کو کہا کہ غزہ سے اسرائیلی انخلاء کے بعد فلسطینی سکیورٹی ادارے علاقے کا نظم و نسق سنبھالنے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے محمودعباس کی اس سال فلسطینی رہنما منتحب ہونے کے بعد سےامن و امان قائم رکھنے کی کوششوں کی تعریف کی۔

کونڈولیزا رائس نے کہا کہ غزہ سے اسرائیل کا انخلاء کھٹائی میں پڑے ہوئے روڈمیپ میں جان ڈالنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔

واضع رہے 2003 میں پیش کیے جانے والے روڈ میپ، جسے کئی ممالک کی حمایت حاصل ہے، کے مطابق اس سال کے اختتام تک ایک فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آنا ہے۔

اسرائیلی اور فلسطینی رہنماؤں سے مذاکرات کے بعد کونڈولیزا رائس سعودی عرب، مصر اور اردن بھی جائیں گی جہاں وہ جمہوری اصلاحات کے بارے میں بات چیت کریں گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد