’اسرائیل، فلسطین تعاون کریں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیرِخارجہ کونڈولیزا رائس نے مشرقِ وسطیٰ کے دورے کا آغاز کر دیا ہے۔ ان کے اس دورے کا مقصد اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کے عمل میں تیزی پیدا کرنا ہے۔ وہ اپنے اس دورے کے دوران فلسطینی رہنما محمود عباس سے بھی ملیں گی تا کہ اس بات کا جائزہ لیا جا سکے کہ آیا وہ اسرائیل کو حفاظتی ضمانت فراہم کر سکتے ہیں جس کی وہ غزہ کی پٹی سے اپنی افواج کے انخلا کے عوض مطالبہ کر رہا ہے۔ یروشلم میں بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ کونڈولیزا رائس اس بات کا بھی جائزہ لیں گی کہ آیا کہ غزہ سے اسرائیلی فوج کے چلے جانے کے بعد فلسطینی پولیس علاقے کا انتظام سنبھالنے کے لائق ہے یا نہیں۔ امریکی وزیرِخارجہ اسرائیلی رہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گی اور ان پر زور دیں گی کہ وہ مزید بستیوں کی تعمیر روک دیں۔ کونڈولیزا رائس نے اخبار نویسوں کا بتایا کہ امریکہ اس بات کی یقین دہانی چاہتا ہے کہ غزہ سے انخلا کے عمل میں اسرائیل اور فلسطین ایک دوسرے سے تعاون کریں۔ ان کا کہنا تھا’ میں جانتی ہوں کہ اسرائیل اور فلسطین منصوبہ بندی کر رہے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک یہ منصوبہ بندی مل کر کریں‘۔ امریکی وزیرِخارجہ نے خبر رسان ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ کہ امریکہ نہیں چاہتا کہ غزہ سے یہودیوں کے انخلا کے باوجود اسرائیل مغربی کنارے میں مزید بستیاں تعمیر کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت جب امن کا عمل ایک اہم مرحلے میں ہے اسرائیل کوئی ایسی حرکت نہیں کر سکتا جو جھگڑے کا باعث بنے۔ فلسطینی اور اسرائیلی رہنماؤں سے ملاقات کے بعد امریکی وزیرِ خارجہ سعودی عرب، مصر اور اردن کے دورہ بھی کریں گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||