’فلسطینی پولیس سے بدلہ لینا ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کے دو فوجیوں نے الزام لگایاہ ہے کہ انہیں تین سال پہلے رملہ کے قریب چھ اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بدلے اتنے ہی فلسطینوں کو ہلاک کرنا کا حکم ملا تھا۔ تین فوجیوں نے اپنے نام ظاہر کیے بغیر ’بریکینگ دی سائلینس‘ کو انٹرویو میں بتایا کہ تین سال پہلے اسرائیلی فوجیوں کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے پندرہ فلسطینوں کو ہلاک کیا تھا۔ ’بریکنگ دی سائلینس‘ تنظیم اسرائیل فوج کے بارے میں حقائق جمع کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی فوج بدلے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کے یہ دعوے کہ انہیں بدلہ لینے کا حکم ملا تھا ، اسرائیل کے ان دعوؤں کے خلاف ہے کہ ان کے فوجی ایک ضابطہ اخلاق کے تحت کام کرتے ہیں۔ ایک فوجی نے اپنے آپ کو سارجنٹ ظاہر کیا ہے، بتایا کہ ان کے سکواڈ کو ان کے کمانڈر نے بلا کر حکم دیا کہ چھ اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بدلے چھ فلسطینی پولیس والوں کو قتل کیا جائے۔ فوجی نے اپنا نام بتائے بغیر ’بریکنگ دی سائلینس‘ کو بتایا کہ ان کوبتایا گیا تھا کہ اسرائیلی فوجیوں پر حملہ کرنے والے شدت پسندوں فلسطینی چیک پوسٹ سے گذر کر اسرائیلی چیک پوسٹ تک پہچنے میں کامیاب ہو ئے تھے اور ایسا فلسطینی پولیس اہلکاروں کی مدد کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ اسرائیلی فوجی نے کہا کہ انہوں نے گھات لگا کر چار فلسطینی کو نشانہ بنایا جن میں تین تو موقع پر ہی ہلاک ہو گئے لیکن ایک فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے کئی فوجی ساتھی مرتے ہوئے فلسطینیوں پر گولیاں برساتے رہے اور لاشوں میں سوراخ کر دیئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||