اسرائیل، فلسطین مذاکرات ملتوی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل نے فلسطینیوں کے ساتھ سکیورٹی مذاکرات کو غزہ میں اسرائیلی بستوں پر شدت پسندوں کے مارٹر حملوں کے بعد ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ مذاکرات اسرائیل اور فلسطینی رہنماوں کے درمیان منگل کو ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کو مستحکم کرنے کے لیے کئے جانے والے تھے۔ فلسطینیوں کی شدت پسند تنظیم حماس نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل وزیر اعظم ایریئل شیرون اور فلسطینی رہنما محمود عباس کے درمیان کسی معاہدے کی پاسداری کرنے کی پابند نہیں ہے اور حماس نے ہی گش کاتف کی اسرائیلی بستی پر مارٹر حملے کیے ہیں۔ حماس نے کہا ہے کہ اس نے مارٹر حملے اس فلسطینی باشندے کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے کئے ہیں جس کو بدھ کے روز غزہ میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ فلسطینی کے ایک اعلی اہلکار نے رائٹرز خبررساں ایجنسی کو بتایا ہے کہ جمعرات کو ہونے والے مذاکرات کو ملتوی کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے تو ان مذاکرات کو ختم کرنے کے لیے کہا تھا۔ تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اب یہ مذاکرات کب اور کہاں ہوں گے۔ ان مذاکرات میں اسرائیل کی جیلوں سے فلسطینیوں کی رہائی اور کچھ فلسطینی علاقوں سے اسرائیل کے انخلاء کے مسائل پر بات چیت ہونی تھی۔ اسرائیل نے اس سے قبل پانچ علاقوں کا انتظام جن میں جریکو، تلکرام، قلقیلیہ، بیت لہم اور راملہ شامل ہیں فلسطینیوں کے حوالے کرنے کا اعلان کیا تھا۔ حماس کے مطابق اس نے تقریباً پچاس کے قریب میزائیل فائر کئے تھے تاہم اسرائیلی فوج نے پچیس کے قریب میزائیلوں کے چلنے کی تصدیق کی ہے۔ ان حملوں میں ایک گھر کو نقصان پہنچا ہے تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ منگل کو شرم الشیخ کے مقام پر اسرائیلی وزیر اعظم ایریئل شیرون اور فلسطینی رہنما محمود عباس کے درمیان چار سال سے جاری جنگ بند کرنے کے معاہدے کے بعد فلسطینیوں اور اسرائیلیوں میں یہ پہلی جھڑپ تھی۔ حماس نے کہا ہے کہ وہ جنگ بندی کے معاہدے کا احترام اس بات کی یقینی دہانی کرنے کے بعد کریں گے کہ اسرائیل بھی معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہا ہے۔ محمود عباس جمعرات کو غزہ میں شدت پسندوں سے ملاقات کرنے والے ہیں جس میں وہ انہیں جنگ بندی کے معاہدے کا احترام کرنے کے لیے کہیں گے۔ ایریئل شیرون دوسری طرف اپنی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں جس میں وہ اپنی کابینہ کے ارکان کو شرم الشیخ میں ہونے والے معاہدے کی تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||