غرب اردن انخلاء، فلسطینی رہا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل نے سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور غربِ اردن سے اسرائیلی فوجیوں کی واپسی کے منصوبے کی منظوری دی ہے۔ اس منصوبے کے تحت اسرائیلی حکومت غرب اردن کی پانچ بستیوں کی سکیورٹی کی ذمہ داری فلسطینی انتظامیہ کے حوالے کر دے گی۔ اس کے علاوہ اسرائیلی حکومت نے سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق تقریباً پانچ سو قیدیوں کو آئندہ چند دنوں میں رہا کر دیا جائے گا۔ جبکہ چار سو کے لگ بھگ قیدیوں کو کچھ عرصے بعد رہا کیا جائے گا۔ تاہم دونوں جانب مذاکرات شریک نمائندوں کے درمیان اس بات پر اتفاق نہیں ہو سکا کہ کن قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔ فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل اُن قیدیوں کو رہا نہیں کرنا چاہتا جنہیں اسرائیل پر حملے کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اسرائیلی فوج غربِ اردن کے تقریباً تمام ہی شہروں پر گزشتہ دو سال سے قابض ہے اور اسرائیل کا کہنا ہے کہ فلسطین کو سکیورٹی کی منتقلی مرحلہ وار ہو گی۔ اسرائیلی وزیراعظم ایریل شیرون اور فلسطینی رہنما محمود عباس کے درمیان آئندہ ہفتے مصر میں ملاقات ہونے والی ہے اور یروشلم سے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ اعلان ایک دوسرے پر بڑھتے ہوئے اعتماد کا اظہار ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||