غزہ میں فلسطینی پولیس کی تعیناتی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی سکیورٹی فورسز نےشمالی غزہ کے علاقے سے اسرائیلی بستیوں پر شدت پسندوں کے راکٹ حملوں کو روکنے کے لیے پوزیشن سنبھال لی ہیں۔ فلسطینی پولیس افسروں کی تعیناتی کا کام جمعہ کی صبح موسٰی عرفات کی طرف سے اسرائیلی حکام کو پیش کیے جانے والے حفاظتی اقدامات کی منظوری کے بعد شروع کیا گیا۔ اس علاقے میں پھیلے ہوئے باغات اور کھیتوں میں مزید سینکٹروں فلسطینی پولیس افسروں کو تعینات کیے جانے کی توقع ہے۔ اس پیش رفت کے بعد اسرائیل نے علاقے میں فوج کشی کرنے کے منصوبے کو روک دیا ہے۔ مصر سے غزہ کے علاقے میں جانے کے لیے رفاہ کی سرحد کو بھی جمعہ کے روز کھولا جانا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی حکام غزہ کے شمالی علاقوں کو جنوبی علاقوں سے ملانے والی شاہراہ پر بھی ٹریفک کی پابندیوں کو نرم کرنے والے ہیں۔ نو منتخب فلسطینی صدر محمو عباس سے رابطہ کرنے پر اسرائیل کی طرف سے عائد پابندی کے اٹھائے جانے کے بعد غزہ میں فلسطینی پولیس کی تعیناتی ہوئی ہے۔ اسرائیل کے وزیر اعظم ایریئل شیرون نے گزشتہ ہفتے فلسطینی شدت پسندوں کے ایک حملے میں چھ اسرائیلیوں کی ہلاکت کے بعد فلسطینی صدر پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ وہ فلسظینی شدت پسندوں کو روکنے کے لیے فوری اقدامات نہیں کر رہے ہیں۔ ایک اور واقعے میں جنین کے علاقے میں ایک کم عمر فلسطینی بچہ اسرائیلی فوجی کی گولی لگنے سے ہلاک ہو گیا ہے۔ یہ بچہ ایک کھلونہ پستول سے کھیل رہا تھا جب اسرائیلی فوج نے اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ اسرائیلی فوج نے تیرہ سالہ ایک اور بچے کو اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا جب وہ رفا کے پناہ گزیں کیمپ کے پاس سے گزر رہا تھا۔ ابتدا میں ایک ہزار کے قریب فلسطینی پولیس اہلکاروں کو غزہ میں تعینات کیا جا رہا اور توقع ہے کہ جلد ہی مزید پولیس والوں کو وہاں تعینات کیا جا ئے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||