محمود عباس کی جیت پر توقعات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
محمود عباس کی کامیابی کے بارے میں کسی کو کوئی شک نہیں تھا لیکن مسئلہ فلسطین کو حل کرنے کے بارے میں ان کی اہلیت پر سبھی کو شکوک ہیں۔ محمود عباس کے ساتھ فلسطینی صدر بننے کے بعد یہ سوال سامنے آ رہا ہے کہ کیا وہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جھگڑے کو ختم کرنے میں کامیاب ہو سکیں گے یا نہیں۔ محمود عباس کی فتح 2001 میں طابا میں ہونے والے اسرائیل اور فلسطین مذاکرات کے بعد سب سے زیادہ پر امید موقع ہے جب لوگ یہ سوچتے ہیں کہ کیا فلسطینیوں کی تباہی اور اسرائیلوں کا خوف ختم ہو سکے گا۔ محمود عباس نے وعدہ کیا ہے کہ وہ بھی مرحوم یاسر عرفات کی طرح فلسطینیوں کے تین درینہ مطالبوں سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے جن میں اسرائیل کا غرب اردن اور غزہ کے مقبوضہ علاقوں سے انخلاء، مغربی یروشلم کو فلسطینی سلطنت کا دارالخلافہ بنانااور فلسطینی مہاجروں کو اپنے علاقوں میں دوبارہ واپسی شامل ہے۔ اسرائیل کی طرف ابھی تک اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے کسی بھی مطالبے کو ماننے کے لیے تیار ہے جس سے ایک نتیجہ یہ احذ کیا جا سکتا ہے کہ مسئلہ فلسطین کا حل اتنا ہی دور ہے جتنا کہ ہمیشہ سے تھا۔ کئی فلسطینیوں کا خیال ہے کہ اسرائیل اور امریکہ تھوڑے ہی عرصے میں محمود عباس کو امن کی راہ میں رکاوٹ قرار دے دے گا جس طرح انہوں نے یاسر عرفات کو قرار دیا تھا۔ فلسطینیوں نے، جن کے بارے میں اسرائیلیوں کا الزام ہے کہ وہ اسرائیلی قوم سے نفرت کرتے ہیں، ایک ایسے شخص کو منتخب کیا ہے جو تمام مسائل بات چیت سے حل کرنے کی بات کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ ان حالات کو بدلہ جائے جن میں پچھلے چار سال میں ایک ہزار اسرائیلی مارے جا چکے ہیں اور لاتعداد فلسطینی تباہ و برباد ہو چکے ہیں۔ محمود عباس کے لیے فلسطینی رہنما یاسر عرفات کے سائے سے باہر نکلنے کا موقع ملا ہے مگر کیا وہ ایسا کر سکیں گے؟ محمود عباس نے وعدہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی اتھارٹی میں رائج رشوت ستانی اور نااہلی کو ختم کریں گے۔ کچھ لوگوں کو امید ہے کہ اسرائیل محمود عباس کی پوزیشن کو بہتر بنانے کے لیے مقبوضہ علاقوں میں لگائی گئی پابندیوں میں نرمی کرئے گا۔ فلسطینی انتخاب جو صاف اور شفاف انداز میں ہوئے ہیں، اس علاقے میں جہاں انتخاب کے ذریعے حکمرانوں چننے کا کبھی بھی رواج نہیں رہا ہے ایک میں خوشگوار تبدیلی کا پیش خیمہ بھی ہو سکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||