BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 10 January, 2005, 17:07 GMT 22:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوٹ میں جنگ آزادی کا سپاہی

محمود عباس
سن دو ہزار تین میں امریکہ کو رام کرنے کے لئے ہی ابو مازن کو وزیراعظم مقرر کیا گیا تھا
یاسر عرفات کے بعد فلسطینی انتظامیہ کے منتخب ہونے والے پہلے صدر انہتر سالہ محمود عباس جو ابو مازن کہلاتے ہیں فلسطینی قیادت کی ان ممتاز شخصیات میں نمایاں ہیں جنہوں نے اسرائیل کے قیام کے بعد سے چند برس پہلے تک اپنی زندگی جلا وطنی میں اپنے وطن کی آزادی کے لئے جدوجہد میں گزاری ہے۔ ابو مازن یاسر عرفات کے سا تھ فتح تنظیم کے بانیوں میں ہیں اور ایک طویل عرصہ تک فلسطینی کی تنظیم آزادی پی ایل او کے سیکریٹری جنرل رہ چکے ہیں۔ شروع ہی سے وہ اعتدال پسند رہنما تصور کئے جاتے ہیں اور اسی بنا پر انہیں سوٹ میں ملبوس جنگ آزادی کا سپاہی کہا جاتا رہا ہے۔

گزشتہ نومبر میں جب یاسر عرفات کے انتقال کے بعد انہیں پی ایل او کا سربراہ منتخب کیا گیا تھا تو اسے فلسطینی قیادت کی حقیقت پسندی سے تعبیر کیا گیا تھا کیونکہ موجودہ حالات میں یہ کہا جاتا ہے کہ فسطینی مفادات کے تحفظ اور فروغ کے لئے اور خاص طور پر امریکہ کی آشیر باد حاصل کرنے اور اسرائیل سے اپنی بات منوانے کے لئے ایک نمایاں اور آزمودہ اعتدال پسند رہنما ہی درکار ہے۔

یہ بات اہم ہے کہ مئی سن دو ہزار تین میں یاسر عرفات نے امریکہ کو رام کرنے اور اسرائیل سے مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لئے ہی ابو مازن کو وزیر اعظم مقرر کیا تھا لیکن کابینہ کی تشکیل اور خاص طور پر فلسطینی انتظامیہ کی سیکورٹی کی ایجنسیوں کی تنظیمِ نو کے مسئلہ پر یاسر عرفات کے ساتھ ان کے اتنے شدید اختلافات پیدا ہو گئے تھے کہ انہیں استعفی دینا پڑا۔

فلسطینی صدر کے انتخاب سے پہلے یہ کہا جاتا تھا کہ ابو مازن کے لئے انتخاب جیتنا بہت آسان ہے لیکن انتخاب کے بعد کی صورت حال سے مقابلہ کرنا بہت کٹھن ہے۔

بلا شبہ ابو مازن کے سامنے چیلنج ہی چیلنج ہیں۔ سب سے بڑا چیلنج تو فلسطینیوں کو متحد کرنا ہے خاص طور پر عسکریت پسند تنظیموں، حماس اور اسلامی جہاد کو جنگ بندی پر آمادہ کرنا ہے۔ ابو مازن صاف صاف کہہ چکے ہیں کہ فلسطینی انتفادہِ دوم ایک بڑی غلطی تھی اور مذاکرات کی راہ ترک نہیں کرنی چاہیے تھی۔

پھر ایک بڑا چیلنج فلسطینی انتظامیہ میں اعلی سطح پر بدعنوانیوں کا خاتمہ ہے۔ امریکا اور یورپی یونین کی طرف سے اس پر بہت زور دیا جاتا ہے کیونکہ بیشتر مالی امداد انہیں ذرایع سے ملتی رہی ہے۔

اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے کے لئے ابو مازن کے لیے امریکہ کی آشیر باد حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ اس سلسلہ میں انہیں اپنے اعتدال پسند ہونے کے ناطے زیادہ مشکل پیش نہیں آنی چاہئے لیکن سوال یہ ہے کہ آیا امریکا اسرائیل کو آمادہ کر سکے گا کہ وہ ابو مازن کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرے۔

ابو مازن گلیلی کے شہر سفید کے مضافات میں حرث الجورہ کے گاؤں میں ایک گوالے کے ہاں پیدا ہوئے جہاں ان کے آبائی مکان کی جگہ اب اسرائیل کی حکمران جماعت لیکود کا مقامی دفتر ہے۔

سن انیس سو اڑتالیس میں جب یہودی حملہ آوروں نے سفید پر حملہ کیا کو اس شہر کے تمام فلسطینیوں کو اپنی جان بچانے کے لئے یہاں سے فرار ہونا پڑا۔ تیرہ سالہ ابو مازن اور ان کے اہل خانہ بھی ان فلسطینیوں میں شامل تھے۔

ابو مازن نے جلاوطنی کے دوران دمشق میں قانون کی تعلیم حاصل کی اور روس جانے سے پہلے وہ ایک سکول میں پڑھاتے ہے۔ روس کے قیام کے دوران انہوں نے ماسکو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

اس ڈگری کے لئے انہوں نے نازی فلسفہ اور صہونیت کے درمیان تعلق کے موضوع پر مقالہ لکھا تھا۔ ماسکو سے فارغ التحصیل ہو کر وہ قطر منتقل ہوگئے جہاں انہوں نے یاسر عرفات کے ساتھ مل کر فلسطینیوں کو اپنے وطن کی آزادی کی جدوجہد کے لئے منظم کیا اور تنظیم الفتح کی بنیاد ڈالی جو فلسطین کی تنظیم آزادی کی بانی جماعت تھی۔

ابو مازن یاسر عرفات کے ساتھ پہلے اردن میں پھر لبنان میں اور لبنان سے نکالے جانے کے بعد تیونس میں رہے۔

ابو مازن نہایت دیانت دار اور سادہ زندگی بسر کرنے والے رہنما کی حیشثیت سے مشہور ہیں۔ وہ ہمیشہ پس منظر میں رہے ہیں اور تنظیمی کاموں میں غیر معمولی لگن کے ساتھ مصروف رہ ہیں۔

سن اسی میں وہ پی ایل او کے قومی اور بین الاقوامی تعلقات کے شعبہ کے سربراہ مقرر ہونے سے پہلے وہ سن ستر کے عشرے میں فوجی اور سلامتی کے شعبہ کے سربراہ تھے۔

گو ابو مازن ممتاز مفکر اور دانشور مانے جاتے ہیں لیکن اسی کے ساتھ وہ حقیقت پسنداور عمل پرست رہنما کی حیثیت سے مشہور ہیں۔ وہ پہلے فلسطینی رہنما تھے جنہوں نے یہودیوں کے بائیں بازو اور امن پسند عناصر سے سلسلہ جنبانی شروع کیا تھا۔ پھر اوسلو معاہدہ مرتب کرنے میں انہو ں نے اہم رول انجام دیا تھا بلکہ کہا جاتا ہے کہ اس معاہدہ کے اصل محرک ابو مازن ہی ہیں- سن ترانوے میں اوسلو معاہدہ پر دستخط کرنے کے لئے وہ یاسر عرفات کے ساتھ وائٹ ہاوس گئے تھے۔

اب سیاسی مبصروں کو انتظار ہے کہ ابو مازن فلسطینیوں کے نئے صدر کی حیثیت سے کب وائٹ ہاوس مدعو کئے جاتے ہیں۔

عرفاتگھمبیر مسائل
عرفات کے پاس مسائل کے حل کے لئے وقت نہیں ہے
خودکش حملوں کی وجہ؟خودکش حملےکی وجہ؟
غرب اردن میں اسرائیلی چیک پوائنٹ
غزہ میں ہلاکتیںفلسطینی عزم
’کیا ہم خاموش بیٹھے رہیں۔ حماس صحیح ہے۔‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد