BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 06 October, 2004, 08:06 GMT 13:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیا ہم خاموش رہیں: جبلیہ کے فلسطینی
غزہ
غزہ میں جبلیہ کیمپ میں اسرائیلی فوج
آبد ربو سڑک کےآخر میں بنا یہ گھر، موت کی آماجگاہ بن چکا ہے۔

یہ جبلیہ پناہ گزین کیمپ کے مشرق میں واقعہ ہے۔ یعنی اس سمت جہاں ایک ہفتہ قبل اسرائیلی فوج داخل ہوئی تھی۔

ٹوٹا پھوٹا یہ محلہ مشین گنوں کی آوازوں سے گونجتا رہتا ہے۔

سڑک کے آخر میں بنے اس گھر میں ایک سولہ سالہ لڑکی اسلام داویدار اپنی ماں کے ساتھ روٹی بنا رہی تھی جب کھڑکی کے باہر چلنے والی اسرائیلی فوج کی گولیوں کی آواز سے گھر گونج اٹھا۔

’مجھے چیخنے چلانے کی آواز آئی اور میں اندر آیا تو وہ خون میں لت پت فرش پر پڑی تھی،‘ اسلام کے والد ماہر داویدار نے کہا۔

’ہم نے ایمبولینس بھی بلائی، وہ پندرہ منٹ میں پہنچی۔ اس وقت تک ہماری بیٹی مر چکی تھی۔‘

اسرائیل نے جب سے اس علاقے میں ’ڈیز آف ریپنٹنس‘ نامی اپنا آپریشن شروع کیا ہے، کم از کم 70 فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔

انسانی حقوق کی ایک اسرائیلی تنظیم کا کہنا ہے کہ ان میں سے کم از کم 30 اسلام داویدار ہی کی طرح کے عام شہری تھے۔

اسرائیلی فوج نے جبلیہ کیمپ پر فضا سے اشتہار پھینکے ہیں جن میں کیمپ میں موجود فلسطینی مہاجرین کو یہ کہا گیا ہے کہ حماس جیسے گروہ ان کی غربت اور مصائب میں گھری زندگیوں کو مزید مشکل بنا رہے ہیں۔

اشتہاروں میں کہا گیا ہے کہ اگر شدت پسند اسرائیل کے خلاف خونی مہم نہ چلا رہے ہوتے تو اس وقت اسرائیلی فوج کیمپ میں نہ ہوتی۔

لیکن ان اشتہاروں کا کوئی اثر نظر نہیں آتا۔

اس آپریشن میں شاید کسی نے مسٹر داویدار سے زیادہ قیمت نہ دی ہو۔ مگر وہ بھی حماس کے خلاف نہیں ہوئے۔

’اسرائیلی حملہ آور اور قابض ہیں۔ وہ ہم پر ٹینکوں اور جہازوں سے حملے کر رہے ہیں۔ ہم کیا کریں؟ کیا ہم خاموش بیٹھے رہیں؟ حماس صحیح کر رہی ہے۔‘

کیمپ کے مشرقی حصے میں اسرائیلی آپریشن کی وجہ سے ہونے والی تباہی کے نشانات واضح ہیں۔

لیکن کیمپ کی گلیوں کو غور سے دیکھیں تو اسرائیلی آپریشن کی وجہ نظر آتی ہے۔

ان گلیوں میں شدت پسند گھومتے رہتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر نے ماسک پہنے ہوتے ہیں۔ اور وہ ہر وقت اسرائیل پر حملے کے موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔

دوسری طرف کیمپ کے اوپر اسرائیل کے جاسوس طیارے گھومتے رہتے ہیں۔ جہاں کوئی شدت پسند نظر آ جائے اسے نشانہ بنایا جاتا ہے۔

حماس اور اسلامک جہاد وہ دشمن ہیں جن کو خوش کرنا اسرائیل کے لیے تقریبًا ناممکن ہے۔

کیونکہ وہ نہ صرف غزہ اور غرب اردن کے علاقوں سے اسرائیل کے 40 سالہ قبضے کا خاتمہ چاہتے ہیں بلکہ ان کا کہنا ہے کہ وہ تمام زمین جس پر اسرائیل بنا ہے دراصل فلسطینیوں کی ہے۔ اور اس زمین کی واپسی کے لیے وہ اپنی جانیں دینے کو بھی تیار ہیں۔

لیکن فی الوقت اسرائیلی فوج ان تنظیموں کے خاتمے کے لیے اس کیمپ میں نہیں آئی بلکہ اس کا مقصد اور ہے۔

حماس کچھ عرصے سے غزہ کے قریب کے علاقوں پر راکٹوں سے حملے کر رہی ہے۔

پچھلے ہفتے ایک راکٹ سدیروت کے شہر میں جا لگا جس سے ایک چھوٹے بچے کی ٹانگیں کٹ گئیں اور وہ اور اس کے ساتھ کھیلنے والا ایک اور بچہ ہلاک ہو گئے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ملک اپنے شہریوں پر اس طرح کے حملے برداشت نہیں کر سکتا۔

اسرائیل کی یہ دلیل جب جبلیہ میں چہرے پر نقاب پہنےگھومتے ایک شخص کو دی گئی تو اس کا جواب تھا۔ ’اسرائیلیوں کو یہاں آنے دیں۔ ہم انہیں دیکھ لیں گے۔‘

اس شخص کی کمر پر دو راکٹ لدے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد