غزہ آپریشن جاری، 60 فلسطینی ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی فوج نے غزہ کے علاقے میں اپنی کارروائی جاری رکھی ہوئی ہے جس میں اب تک ساٹھ فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سوموار کی صبح اسرائیل نے دو اور میزائیل غزہ کے علاقے میں فائر کیے جس سے کم از کم تین فلسطینی ہلاک ہوگئے ہیں۔ اسرائیل کا کہنا کہ وہ یہ فوجی آپریشن غزہ کے علاقے سے اسرائیلی علاقوں میں راکٹ فائر کیے جانے کے واقعات کو ختم کرنے کے لیے کر رہا ہے۔ غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اسرئیل غزہ کے علاقے پر حملے میں اپنی پالیسی میں تبدیلی کی ہے اور اب غزہ پر حملوں میں وہ جدید ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم ایریل شیرون نے کہا کہ وہ فلسطینی علاقوں سے اسرائیلی علاقوں پر راکٹ فائر ہونے کی واقعات کو ہر صورت میں روکنا چاہتے ہیں۔ اتوار کو بھی تشدد جاری رہا اور عینی شاہدین کے مطابق غزہ میں جبالیا نامی مقام پر اسرائیلی راکٹوں کے حملے میں شدت پسند تنظیم اسلامی جہاد کے دو کارکن ہلاک اور تین فلسطینی زخمی ہوگئے۔ ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جمالیا کے اردگرد اسرائیلی فوجی محاصرہ کیے ہوئے ہیں اور فلسطینی شدت پسندوں کا نشانہ بنانے کے لئے ان کے باہر نکلنے کا انتظار کرتے ہیں۔ سنیچر کو غزہ میں اسرائیلی کارروائی کے تیسرے دن حماس کے دو کارکن سمیت کم سے کم دس فلسطینی ہلاک ہوگئے تھے۔ اسرائیلی فوجیوں نے غزہ میں نو کلومیٹر کے علاقے پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے ”تاکہ فلسطینی شدت پسندوں کو اسرائیل پر راکٹ داغنے سے روک سکیں”۔ فلسطینی شدت پسند تنظیم حماس نے کہا ہے کہ غزہ سے اسرائیل پر داغے جانے والے میزائیلوں میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ پانچ روز سے جاری اسرائیل کے فوجی آپریشن میں ساٹھ سے زائد فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں شہری بھی شامل ہیں۔ اس آپریشن کے دوران کم سے کم پانچ اسرائیلی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ سنیچر کی شام ہلاک ہونے والے حماس کے دو کارکنوں کا نام مہدی مشتہیٰ اور خالد عمریت بتایا گیا ہے۔ بدھ کے روز اسرائیل کے شہر سدیروت میں فلسطینی شدت پسندوں کے ایک راکٹ حملے میں دو اسرائیلی بچوں کی ہلاکت کے بعد اسرائیلی تازہ فوجی کارروائی شروع ہوئی ہے۔ اس آپریشن میں دو ہزار اسرائیلی فوجی اور دو سو ٹینک حصہ لے رہے ہیں۔ سنیچر کی شام ایک انٹرویو میں وزیراعظم ایریئل شیرون نے اسرائیلی فوج کو اپنے آپریشن میں توسیع کا حکم دیا۔ اسرائیلی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ”ہمیں اپنی کارروائی کے علاقے میں توسیع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سرحد پر واقع یہودی شہروں پر داغے جانے والے راکٹوں کو روکا جاسکے۔” فلسطینی قیادت نے اسرائیلی آپریشن کو جنگی جرم قرار دیا اور ہنگامی حالات نافذ کردیے۔ فسلطینی رہنما یاسر عرفات نے کہا: ”میں دنیا سے ۔۔۔ اپیل کرتا ہوں کہ اس نسلی اور غیرانسانی جرائم کو روکے۔” سنیچر کے روز اسرائیل نے ایسی تصاویر جاری کی ہیں جن میں تین افراد کو اقوام متحدہ کی ایک گاڑی کی طرف پہنچتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور ان میں سے ایک شخص کے ہاتھ میں کوئی ایسی چیز ہے جس کے بارے میں اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ ”قاسم” راکٹ ہے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ اقوام متحدہ کی ایمبولنس گاڑی چرائی گئی تھی یا کسی گاڑی پر اقوام متحدہ کا نام لکھ دیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ وہ معاملے کی تحقیقات کررہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||