فلسطینی سیاست منجدھار میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی سیاست کبھی اتنے گھمبیر مسائل کا شکار نہیں تھی جتنی وہ آج کل ہے۔ فلسطین میں مختلف ممتاز شخصیات اور گروہ اقتدار اور اختیار کے حصول کے لئے آپس میں برسر پیکار ہیں۔ ان میں فلسطینی رہنما یاسر عرفات، وزیر اعظم احمد قریع، سینیئر فلسطینی حکام اور اسلامی مسلح تنظیمیں شامل ہیں۔ حال ہی میں اس منظرنامے میں چند نئے عناصر نمودار ہوئے ہیں جو غزہ کی پٹی اور غربِ اردن کی نازک سیاسی صورتحال میں مزید بگاڑ کا باعث بن سکتے ہیں۔ یہ نئےعناصر یاسر عرفات کی زیر ِقیادت مرکزی فلسطینی تحریک الفتح کا حصہ ہونے کا دعوی کرتے ہیں ۔ شیرون حکومت کی اسرائیل کی غزہ سے واپسی کی تجویز نے ان فلسطینی اختلافات کو مزید ہوا دی ہے۔ آنے والے چند ہفتے اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آیا یہ اختلافات فلسطینی خانہ جنگی کی صورت میں سامنے آئیں گے یا پھر فلسطینیوں کی مسائل کے وقت ہمیشہ کام آنے جبلی وحدت ایسا نہیں ہونے دے گی۔ یاسر عرفات نے موجودہ صورتحال کی حل کے طور پر فلسطینی اتھارٹی کے سکیورٹی کے نظام کو از سرنو تدوین کرنے کا حکم دیا تھا اور اپنے بھتیجے موسی عرفات کو اس کا سربراہ مقرر کیا تھا۔ وزیر اعظم احمد قریع نے اس فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے استعفی دے دیا کیونکہ ان کے خیال میں سکیورٹی کے سربراہ کی تعیناتی ان کا اختیار تھا۔ اقتدار کی اس جنگ نے فلسطینی اتھارٹی کے سینیئر حکام کو شدید الجھن میں ڈال دیا اور یاسرعرفات کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا۔ اسلامی جنگجو تنظیموں کی بڑھتی ہوئی طاقت اور ان کی عوامی حمایت میں اضافے پر یاسر عرفات کے ان حامی حکام کے پاس دو راستے ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ ان اسلامی جنگجوؤں کو غیر مسلح کرنے کی کوشش کریں یا پھر وہ کچھ نہ کریں اور ان اسلامی جنگجوؤں کی دہشت گردی کے خلاف اسرائیل کی سخت جوابی اقدامات کا انتظار کریں۔
مزید یہ کہ فلسطینی اتھارٹی کو اب الفتح کے اندر سے پرجوش سیاسی نوجوانوں کے چیلنج کا بھی سامنا ہے۔ یہ نوجوان فوری طور صحیح معنوں میں سیاسی اصلاحات اور بدعنوانی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ اگرچہ ان قوتوں نے ابھی تک یاسر عرفات اور ان کے قریبی رفقاء کی برطرفی کا مطالبہ نہیں کیا لیکن ’جنین مارٹرز بریگیڈ‘ کے ایک ترجمان کے مطابق فلسطینی اتھارٹی میں یاسر عرفات اور ان کے عزیزوں کا غلبہ زیادہ عرصہ جاری نہیں رہ سکتا۔ یاسر عرفات اس بات کا ادراک کرنا ہو گا کہ سیاسی صرتحال بالکل تبدیل ہو چکی ہے اور حالات پر ان کی گرفت اب پہلے جیسی مضبوط نہیں ہے۔ یاسر عرفات کے لئے واحد راستہ اب الفتح گروپ کے متنفر عناصر کے مطالبات کا ماننا ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو پھر اس کا نتیجہ حقیقی معنوں میں فلسطینی اتھارٹی میں شدید داخلی انتشار اور شاید خانہ جنگی کی صورت میں برآمد ہو سکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||