احمد قریع کا استعفیٰ نامنظور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غزہ میں اغواء کے واقعات کے ایک دن بعد فلسطینی وزیراعظم احمد قریع نے استعفیٰ دے دیا مگر فلسطینی رہنما یاسر عرفات نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا۔ حالات کی نزاکت کے پیش نظر یاسر عرفات نے اپنی سکیورٹی فورسز میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کیا ہے۔ فلسطینی وزیراعظم احمد قریع نے حالات کو ’تباہی‘ کہا اور اپنا استعفیٰ پیش کیا مگر یاسر عرفات نے اسے قبول نہیں کیا۔اس سے پہلے انہوں نے ایک ہنگامی اجلاس میں صورتحال سے نمٹنے کے لیے لائحہ عمل پر بحث کی گئی۔ غزہ میں ہنگامی صورتحال نافذ کر دی گئی ہے اور بی بی سی کے نامہ نگار ایلن جانسن کے مطابق اب غزہ میں صورتحال معمول پر آگئی ہے۔ جمعہ کو اغواء کیے جانے والوں میں پولیس سربراہ، فرانسیسی امدادی اداروں کے چار اہلکار اور ایک فلسطینی افسر کرنل خالد ابو العلہ شامل تھے۔امدادی کارکنوں کو خان یونس میں ایک کیفے سے اغواء کیا گیا تھا۔ان سب کو بعد میں رہا کر دیا گیا۔ اغواء کنندگان کے رہنما ابو قصائی نے ایک خبر رساں ادارے کو بتایا کہ اغواء کیے جانے والوں کو یاسر عرفات کی مداخلت کے بعد رہا کیا گیا ہے۔ عرفات کے مدد گار نبیل ابو رودینا نے کہا کہ اصلاحات کے بعد اب سکیورٹی کی آٹھ شاخیں کم کر کے تین کر دی گئی ہیں اور نیا سکیورٹی سربراہ نامزد کیا گیا ہے۔ انہوں نے اغواء ہونے والے پولیس کے سربراہ کو جن پر بد عنوانیوں کے الزامات ہیں فارغ کر دیا ہے۔ عرفات کے بھتیجے موسیٰ کو تما م تر سکیورٹی کا سربراہ مقرر کر دیا ہے۔ میجر جنرل صاب العجز نئے پولیسں سربراہ ہونگے۔ فلسطینی جنرل انٹیلیجنس کے سربراہ امین ہندی اپنے عہدے پر کام کرتے رہیں گے۔ فلسطینی سکیورٹی فورسز میں اصلاحات عالمی برادری کا ایک دیرینہ مطالبہ تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||