اسرائیل: باڑ کے خلاف فیصلہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ اسرائیل میں تعمیر ہونے والی باڑ کا نقشہ تبدیل کرنا ضروری ہوگا۔ مقدمہ اس باڑ سے متاثر ہونے والے چند فلسطینی شہریوں نے درج کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس باڑ کے بننے سے دس مختلف گاؤں میں تقریباً پینتالیس ہزار فلسطینی بری طرح متاثر ہوں گے کیونکہ وہ اپنے سکولوں، زرعی زمینوں اور نوکریوں سے بالکل کٹ جائیں گے۔ اسرائیلی ہائی کورٹ کے تین ججوں پر مشتمل بینچ کے فیصلے کے مطابق اسرائیل کو یروشلم کے گرد اس باڑ کا نقشہ تبدیل کرنا ہوگا چاہے اس سے اس کی سکیورٹی میں کمی کیوں نہ آئے۔ یروشلم میں بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ اس لیے بہت اہم ہے کہ باڑ سے متعلق آئندہ ہونے والے مقدمات میں اس کا حوالہ دیا جا سکے گا۔ ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ دی ہیگ میں بین الاقوامی عدالت انصاف کے اس معاملے پر فیصلے سے عین پہلے آیا ہے۔ تاہم انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کے فیصلے کا اسرائیل پر کوئی عملی اطلاق نہیں ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||