اور گھر بھی ڈھائیں گے: اسرائیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی سپریم کورٹ کی طرف سے فلسطینیوں کے گھر گرانے کی اجازت ملنے کے بعد اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں سینکڑوں مزید گھر مسمار کرے گی۔ فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ موشے یالون نے کہا کہ مصر کے ساتھ سرحد پر بننے ہوئے ان گھروں کو گرانے کا مقصد اسرائیلی فوج پر حملے کرنے والے فلسطینی شدت پسندوں کو روکنا ہے۔ اس سے قبل سپریم کورٹ نے فلسطینیوں کی ایک اپیل مسترد کر دی تھی جس میں اسرائیلی فوج کو گھروں کے مسمار کرنے سے روکنے کی استدعا کی گئی تھی۔ ادھر امریکہ بھی انہدام کی پالیسی پر تنقید کرنے والی عالمی برادری کا ہم نوا بن گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے امدادی حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران رفاہ کیمپ میں اسّی عمارتیں گرائی گئی ہیں جس کی وجہ سے گیارہ سو فلسطینی بے گھر ہوگئے ہیں۔ اتوار کے روز سپریم کورٹ نے گھروں کے گرائے جانے پر لگائی گئی عارضی پابندی اٹھالی۔ اس پالیسی کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتہ تیرہ اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد یہ انتقامی کارروائی ہے۔ جبکہ اسرائیلی فوج کے وکلا کا کہنا تھا کہ ان گھروں کو گرانے کا مقصد اسرائیلی فوج کی جان کا دفاع کرنا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ فوج کو اپنے دفاع میں ان گھروں کو مسمار کرنے کا حق ہے۔ اسرائیل کہتا ہے کہ شدت پسند ان عمارتوں میں گھات لگا کر غزہ کی پٹی اور مصر کے درمیان واقع سرحد پر گشت کرنے والے اسرائیلی سپاہیوں پر حملے کرتے ہیں تاکہ اس طرح وہ سرنگوں کے ذریعہ مصر سے ہتھیار سمگل کر سکیں۔ جنرل یالون نے کہا کہ اس علاقہ میں بنے ہوئے سینکڑوں گھروں کو گرا دیا جائے گا۔ ادھر عالمی برادری نے گھروں کو ڈھانے کی اسرائیلی پالیسی کی وسیع پیمانے پر مذمت کی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے اس کارروائی کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کولن پاول نے اسرائیلی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے تاہم اس کی نظر میں گھروں کا گرایا جانا منفی نتائج مرتب کرے گا۔ مسٹر پاول نے فلسطینی رہنما یاسر عرفات پر بھی تنقید کی جنہوں نے فلسطینیوں پر زور دیا تھا کہ وہ ’دشمن کو دہشت زدہ کر دیں‘۔ اتوار کے روز صبح ہی صبح اسرائیلی ہیلی کاپٹروں نے غزہ شہر میں یاسر عرفات کی تنظیم الفتح کے زیراستعمال عمارتوں اور شدت پسند تنظیم حماس کے حامی ایک اخبار کے دفتر پر راکٹ برسائے۔ ان حملوں میں کئی افراد کے زخمی ہوجانے کا خدشہ ہے۔ گزشتہ رات ایک لاکھ سے زیادہ اسرائیلیوں نے تل ابیب میں ایک مظاہرے میں شرکت کی اور غزہ سے اسرائیل کے انخلا کا مطالبہ کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||