اسلامی جہاد تنظیم کے دفاتر پر حملہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی ہیلی کاپٹروں نے غزہ میں اسلامی جہاد نامی تنظیم کے دفاتر پر میزائیلوں سے حملہ کیا ہے جس میں کم از کم دس افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ اسلامی جہاد نامی تنظیم کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کا یہ حملہ ان کے رہنما محمد الہندئی کو قتل کرنے کی کوشش تھی۔ اسرائیلی نے غزہ کے علاقے میں سو سے زیادہ گھروں کو مسمار کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے اسرائیلی کی اس کارروائی کی مذمت کی ہے اور کہا کہ گھروں کو گرایا جانا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
غزہ میں گزشتہ دنوں ہونے والی لڑائی اسرائیلی کی طرف سے فلسطینیوں کے گھر مسمار کرنے کی کارروائی ہے کی وجہ سے شروع ہوئی۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق لوگوں کا خیال ہے کہ اسرائیلیوں کا نشانہ اسلامی جہاد کا کتب خانہ تھا۔ اس کے علاوہ حملہ آور ہیلی کاپٹروں نے ایک ایسی عمارت کو بھی نشانہ بنایا جہاں سے خود کش حملہ آوروں کے ورثا کو مالی امداد دی جاتی تھی۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں مقامات ’دہشت گرد‘ کارروائیوں کے کام آتے تھے۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران تیرہ اسرائیلی فوجی اور تیس فلسطینی غزہ کی پٹی میں تشدد کی کارروائیوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ رفا میں حکام کا خیال ہے کہ بدھ کے بعد سے رفا میں اسّی گھر تباہ ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر میں ایک اہلکار نے گھر گرانے کو ’جائز دفاعی حکمت عملی قرار دیا‘۔ جنوبی غزہ میں اسرائیلی فوجی رفا کے پناہ گزیں کیمپوں اور مصری سرحد کے درمیان کے نو کلومیٹر کے علاقے کو کنٹرول کرتے ہیں۔ فلطسینی انتظامیہ نے بین الاقوامی برادری سے فلسطینیوں کے گھر گرائے جانے کی پالیسی رکوانے کی اپیل کی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||