گھروں کی مسماری پر پابندی ختم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی سپریم کورٹ نے سنیچر کو اسرائیلی فوج پر لگائی جانے والی عارضی پابندی اٹھا لی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ غزہ میں فلسطینیوں کے گھروں کو مسمار نہ کیا جائے۔ مصر کی سرحد کے ساتھ رفاہ کے پناہ گزین کیمپ میں گزشتہ تین روز کے دوران نوے گھر منہدم کئے جانے کے بعد عدالت نے یہ کارروائی روکنے کے لئے ایک عبوری حکم جاری کیا تھا۔ یہ عبوری حکم کیمپ کے رہائشیوں کی درخواست پر جاری کیا گیا تھا۔ فلسطینی پناہ گزینوں کے لئے اقوام متحدہ کی ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایک ہزار سے زائد افراد پہلے ہی بےگھر ہو چکے ہیں۔ اس دورن تل ابیب میں ایک لاکھ سے زائد افراد نے غزہ سے فوجیں بلانے کے حق میں مظاہرہ بھی کیا ہے۔ علاقے میں حالیہ دنوں کے دوران فلسطینی جنگجوؤں اور اسرائیلی فوج کے درمیان شدید جھڑپیں جاری رہی ہیں۔ اس کے برعکس اسرائیل یہ موقف اختیار کئے ہوئے ہے کہ اس نے صرف انہی گھروں کو مسمار کیا ہے جنہیں شدت پسند اپنی کارروائیوں کی غرض سے استعمال کرتے تھے۔ اس کے علاوہ اسرائیلی ہیلی کاپٹروں نے غزہ شہر میں مزید حملے کئے جن میں اطلاعات کے مطابق حماس کے حمایتی ایک اخبار کے دفتر اور فلسطینی رہنما یاسر عرفات کی تنظیم الفتح کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان واقعات میں چند افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ مبصرین کے مطابق ان حملوں سے اسرائیلی فوج عسکریت پسندوں پر دباؤ برقرار رکھنا چاہتی ہے اور ان کو باور کرانا چاہتی ہے کہ وہ جب چاہے ان کو نشانہ بنا سکتی ہے۔ ایریئل شیرون کے منصوبے کے تحت اسرائیل غزہ سے نِکل جائے گا لیکن غرب اردن کے کچھ حصہ اس کے پاس رہیں گے۔ وزیراعظم کا منصوبہ متنازعہ ہے اور اسرائیل کی حکمران جماعت اس کو رد کر چکی ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ زیادہ تر اسرائیلی اس کی حمایت کرتے ہیں۔ اسرائیل میں ہونے والے مظاہرے کے آغاز میں گزشتہ دنوں ہلاک ہونے والے تیرہ اسرائیلی فوجیوں کی یاد میں کچھ دیر خاموشی اختیار کی گئی۔ مظاہرے میں شریک ایک شخص کا کہنا تھا کہ ’میں اس سے زیادہ برداشت نہیں کر سکتا۔ جس چیز نے مجھے گھر سے نکالا وہ فوجیوں کی ہلاکت تھی‘۔ یہ فوجی تین مختلف حملوں میں ہلاک ہوئے تھے۔ ان چھڑپوں میں تیس فلسطینی بھی ہلاک ہوئے۔ لیبر پارٹی کے رہنما شمون پیریز نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تعداد حکمران جماعت کے ان افراد سے بہت زیادہ ہے جو غزہ سے انخلا کے خلاف ہیں۔ انہوں نے مظاہرین سے کہا کہ ’ہم غزہ کو خدا حافظ کہہ دیں گے‘۔ جلسے کے منتظمین کا کہنا تھا کہ انیس سو اسّی کی دہائی میں اسرائیل کے لبنان پر حملے کے خلاف مظاہروں کے بعد یہ سب سے بڑا مظاہرہ تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||