عرفات: سکیورٹی چیف پر سمجھوتہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی رہنما یاسر عرفات نے فلسطینی علاقوں کے سکیورٹی اور انٹیلیجنس اسی اہلکار کے سپرد کر دی ہیں جس کو انہوں نے پچھلے ہفتے اس عہدے سے ہٹایا تھا۔ یاسر عرفات نے برگیڈیر جنرل عبدالرازق مجایدہ کو پچھلے ہفتے سکیورٹی سربراہ کے عہدے سے برطرف کر کے اپنے بھتیجے موسیٰ عرفات کو اس عہدے پر لگانے کا اعلان کیا تھا۔ غزہ میں اس اقدام کے بعد یاسر عرفات پر سخت تنقید کی گئی اور پچھلے دو روز میں غزہ میں کئی جگہ احتجـاج اور جھڑپیں بھی ہوئیں۔ اس کے علاوہ اتوار کو فلسطینی وزیر اعظم احمد قریع نے بھی یاسر عرفات کو اپنا استعفی دے دیا تھا۔ یاسر عرفات نے استعفی قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ خیال ہے کہ یاسرعرفات نے جنرل عبدالرازق کو سکیورٹی سربراہ کے عہدے پر بحال کرنے کا فیصلہ سخت دباؤ کے بعد کیا ہے۔ موسیٰ عرفات کی تعیناتی پر فلسطینی رہنما پر کرپشن اور اقربا پروری کے الزامات کو پھر آواز ملی تھی - تاہم سینئیر فلسطینی اہلکاروں نے بتایا ہے کہ موسی عرفات ایک اہم عہدے پر قائم رہیں گے۔ جنرل عبد الرازق تمام سکیورٹی اداروں کے سربراہ ہونگے جبکہ غرب اردن کے سکیورٹی انچارج اسمعیل جبار ہونگے اور غزہ کے انچارج یاسر عرفات کے بھتیجے ہونگے۔ یاسر عرفات اور فلسطینی وزیر اعظم پر اس بات پر اختلافات رہے ہیں کہ علاقے کی سکیورٹی کس کے تحت ہونی چاہیے۔ یاسر عرفات اس پر اپنا کنٹرول چھوڑنا نہیں چاہتے۔ پیر کو فلسطینی کابینہ کا ایک بہت اہم اجلاس شروع ہوا ہے جس میں اس سیاسی بحران کو حل کرنے پر بات ہوگی اور وزیر اعظم کے استعفے کے سوال پر فیصلہ ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||