غزہ میں ہنگامی صورت حال نافذ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی سیکیورٹی محکموں نے ایک روز کے اندر ہونے والی اغواء کی وارداتوں کے پیش نظر غزہ کی پٹی میں ہنگامی صورت حال نافذ کر دی ہے اور پولیس کے دستے سرکاری عمارتوں کی حفاظت پر تعینات کر دیئے گئے ہیں۔ اس ضمن میں فلسطینی وزیراعظم احمد قرئی سنیچر کو ایک ہنگامی اجلاس بلا رہے ہیں۔ فلسطینی سیکیورٹی کے دو اعلیٰ ترین اہلکاروں نے استعفیٰ دینے کی پیشکش کی ہے لیکن ابھی یہ واضح نہیں کہ فلسطینی رہنما یاسر عرفات یہ استعفے قبول کریں گے یا نہیں۔ ان سینیئر اہلکاروں نے کہا ہے سکیورٹی کے امور بدنظمی کا شکار ہو گئے ہیں اور فلسطینی انتظامیہ اصلاحات نافذ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ وزیراعظم احمد قرئی نے حکومت کے مستقبل کے بارے میں غور کرنے کے لیے ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔ فلسطینی جنرل انٹیلی جنس کے سربراہ امین ہندی اور غزہ میں سیکیورٹی کے چیف راشد ابو شبک کا کہنا ہے کہ انہوں نے افراتفری اور حکومت کی جانب سے اصلاحات نافذ کرنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہ کرنے کی وجہ سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ چند مسلح افراد نے فلسطینی پولیس چیف سمیت چار فرانسیسی امدادی کارکنوں کو بھی پکڑ لیا تھا۔ موقع پر موجود لوگوں کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے لوگوں کو فلسطینی ریڈ کریسنٹ کے صدر دفاتر کی طرف لے گئے لیکن کچھ دیر بعد ان سب کو رہا کر دیا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||