اپنا قفس اپنے ہاتھوں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطین کے مغربی کنارے پر اسرائیل کی طرف سے تعمیر کی جانے والی حفاظتی فصیل اب کئی فلسطینوں کے لیے ذریعہ روزگار بن چکی ہے۔ اسرائیلی باڑھ جو ایک عالمی تنازعہ کی شکل اختیار کر چکی ہے کو تعمیر کرنے والوں میں اکثریت فلسطینوں کی ہے۔ فلسطینیوں سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ اس فصیل کی تعمیر سے اسرائیل مزید علاقوں پر قبضہ کرنے کی سازش کر رہا ہے۔ لیکن اسرائیلی ٹھکیداروں اس دیوار کی تعمیر کے لیے سستے مزدور انہی فلسطینی علاقوں سے مل جاتے ہیں۔ بعض ماہرین کے مطابق اسرائیلی باڑھ فلسطینوں کو ان کے کاروباروں سے ، سکولوں سے اور کسانوں کو ان کے کھیتوں سے جدا کرنے کا ایک سوچا سمھجا منصوبہ ہے تاکہ بھوک سے بدحال فلسطینی مزاحمت کاروں کو ان کے عمل سے روکنے کی کوشش کریں۔ بی بی سی کی باربرا پلیٹ نے کچھ مزدورں سے بات کی جو اس دیوار پر کام کر کے اپنے خاندانوں کے لیے روزی کا بندوبست کرتے ہیں۔ اس دیوار پر کام کرنے والے مزدورں کو ٹھکیداروں نے منع کر رکھا ہے کہ وہ صحافیوں سے بات چیت نہ کریں لیکن اس کے باوجود کچھ ایسے فلسطینی مزدور ہیں جو بات چیت کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ اس دیوار پر کام کرنے والوں نے بی بی سی کی نمائندہ کو بتایا کہ ان کے پاس اس دیوار پر کام کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے کیونکہ ان کے پاس کوئی اور ذریعہ روزگار نہیں رہ گیا۔ فلسطینیی اس دیوار کی تعمیر کی مزاحمت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ دیوار ان کی زندگی کو مشکل ترین بنانے کے بنائی جا رہی ہے ۔ اسرائیل باڑھ زیادہ تر ان علاقوں پر بنائی جا رہی ہے جن پر اسرائیل نے 1967 میں قبضہ کر لیا تھا ۔ اسلامی لیڈر مفتی اکرما صابری نے ایک فتوع جاری کر رکھا ہے جس کے مطابق کسی بھی فلسطینی کے لیے یہ ممنوع ہے کہ وہ اس دیوار کی تعمیر میں حصہ لے۔ یہ فتوی البتہ بہت کم فلسطینیوں کو اس دیوار پر کام کرنے سے روک سکا ہے ۔ ایک مزدور نے بی بی سی کی نمائندہ کو بتایا کہ اکرما مفتی کو یہ نہیں پتہ کہ ان کے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔’ اگر میں کام نہ کروں تو میرے بچوں کو کھانا کہاں سے ملے گا۔ اکرما مفتی کے پاس کوئی اور ذریعہ معاش ہوں گے۔‘ لیکن بہت سے فلسطینی اسرائیلی باڑھ کو آزاد فلسطینی ریاست کے قیام میں سب سے بڑی روکاوٹ سمھجتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||