احمد قریع استفعٰی پر بضد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی سیکیورٹی کے نئے سربراہ موسی عرفات نے اپنے عہدے کا حلف لے لیا ہے۔ اور کہا ہے کہ کسی صورت بھی اپنے عہدہ نہیں چھوڑیں گے ۔ یاسر عرفات کی پارٹی الفتح کے شدت پسند گروہ، العقصی شہدا برگیڈ نے اس تعیناتی پر سخت احتجاج کیا اور ملٹری انٹیلیجنس کے دفتر پر حملہ کر کے دفتر کو آگ لگا دی۔ العقصی نے کہا ہے کہ جب تک جنرل موسی عرفات کوہٹھایا نہ گیا تو وہ پر تشدد کاروائیاں جاری رکھیں گے۔ موسی عرفات فلسطینی رہنما یاسر عرفات کے قریبی عزیز ہیں اور ان کی بطور فلسطینی سیکیورٹی کے سربراہ کے تعیناتی کے بعد فلسطین میں مظاہرے ہوئے ہیں۔ اس بحران کی وجہ سے فلسطینی وزیر اعظم احمد قریع نے استعفی دے دیا تھا جس کو فلسطینی رہنما یاسر عرفات نے منظور کرنے سے انکار کر دیا ۔ لیکن وزیر اعظم احمد قریع نے اپنا استعفی واپس لینے سے انکار کر دیا ہے جب کہ فسلطینی صدر یاسر عرفات اس استعفی کو منظور کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ فلسطینی ترجمان صاحب ارکات نے کہا کہ یاسر عرفات کی طرف سے اغواء کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کو روکنے کے لیے سیکیورٹی کے عملے میں کی جانے والی تبدیلیوں کو ایک موقع دیا جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی کے ڈھانچے کی ازسرنو تعمیر اور نئے بھرتی شدہ عملے کی تربیت میں کافی وقت درکار ہے۔ انتظامیہ کی مبینہ بدعنوانیوں اور حالیہ تبدلیوں کی مخالفت میں کئے جانے مظاہروں میں خان یونس کے پناہ گزیں کیمپ میں واقع ایک سیکیورٹی چیک پوسٹ پر مظاہرین نے حملے کر دیا اور اس چیک پوسٹ کو آگ لگا دی۔ اتوار کو مقبوضہ فلسطینی علاقے غزہ کی پٹی میں ہنگامی حالت کے نفاذ کے باوجود ہزاروں افراد نے سیکیورٹی اداروں میں یاسر عرفات کی جانب سے کی گئی تبدیلیوں کے خلاف مظاہرہ کیا۔ غزہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایلن جونسٹن اپنے مراسلے میں بتایا کہ مقبوضہ غزہ شہر کی احتجاجی ریلی میں درجنوں نقاب پوش شدت پسندوں نے شرکت کی۔
اغواء کے ان واقعات میں وہ جنگجو ملوث تھے جو عموماً اسرائیل سے لڑتے ہیں اور جن کا مطالبہ تھا کہ یاسر عرفات اپنی انتظامیہ میں بدعنوانی ختم کریں۔ اغواء ہونے والوں میں غزہ شہر میں پولیس کے سربراہ بھی شامل تھے۔ یہ بحران جیسے جیسے بڑھا، اس کے ساتھ ہی یاسر عرفات کے سیکیورٹی اداروں کے دو سینیئر اہلکاروں اور سب سے بڑھ کر وزیراعظم احمد قریع نے استعفٰے دے دیا۔ یاسر عرفات نے اپنے سیکیورٹی اداروں میں اصلاحات سے بھی اتفاق کیا ہے اور اب سیکیورٹی کے کام پر مامور آٹھ علیحدہ اداروں کی جگہ صرف تین ادارے ہوں گے۔ غزہ میں عام لوگ ان تمام حالات کو تشویش سے دیکھ رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||