BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 10 January, 2005, 00:42 GMT 05:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
محمود عباس: نئے صدر منتخب
محمود عباس
محمود عباس اپنی فتح پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں
اعتدال پسند فلسطینی رہنما محمود عباس بھاری اکثریت سے فلسطین کے نئے صدر منتخب ہو گئے ہیں۔

انہوں نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے اپنی کامیابی کو ’یاسر عرفات کی روح‘ اور تمام فلسطینیوں کے نام معنون کیا۔

محمود عباس نے جنہیں ابو معاذن بھی کہا جاتا ہے 62.3 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ جبکہ ووٹوں کو کل ٹرن آؤٹ 66 فیصد رہا۔

محمود عباس کے واحد نمایاں حریف انسانی حقوق اور جمہوریت کے سرگرم کارکن مصطفیٰ برعوثی نے اپنی شکست کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’میں انتہائی خوشی اور فخر محسوس کر رہا ہوں۔ ہم نے ان انتخابات سے ساری دنیا پر ثابت کر دیا ہے کہ ہم جمہوریت قائم کرنے کے اہل ہیں۔ ہم نے بہت اچھے نتائج حاصل کیے ہیں اور اب ہم فلسطین کی دوسری اور حماس سے بھی بڑی طاقت ہیں۔‘

عسکریت کی حامی حماس اور اسلامی جہاد نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا لیکن الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اس بائیکاٹ اور اسرائیلی رکاوٹوں کے باوجود چھیاسٹھ فیصد ووٹروں نے حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

حماس کے ایک ترجمان محمود ظہر نے بی بی سی کو بتایا کہ نئے صدر کامیاب نہیں ہوں گے کیونکہ اسرائیل انہیں موقعہ ہی نہیں دے گا۔ تاہم انہوں نے کہا ہے کہ انتخابات کے بائیکاٹ کے باوجود وہ محمود عباس کے ساتھ کام کریں گے۔

ادھر فلسطین میں محمود عباس کے حامیوں نے ان کا کامیابی کا جشن منانا شروع کر دیا ہے اور ان کے حامی چھوٹے چھوٹے گروہوں میں ان کی تصویر والے بینر اور پرچم لہراتے ہوئے گھوم رہے ہیں۔

محمود عباس کے دعوے کے تھوڑی ہی دیر بعد وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں صدر بش نے کہا ہے کہ وہ توقع کر رہے ہیں کہ نئے فلسطینی صدر کے ساتھ مل کر مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوششوں کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔

اس بیان میں محمود عباس کا نام لیے بغیر کہا گیا ہے کہ نئے فلسطینی رہنما کو ’دہشت گردی‘ سے جنگ اور بدعنوانی کو ختم کرنے جیسے بقول ان کے ’سنگین مسائل‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

حامی
محمود عباس عرف ابو ماذن کے حامیوں نے جشن منانا شروع کر دیا ہے۔

اسرائیل نے ووٹنگ میں کسی قسم کی رکاوٹ ڈالنے کی تردید کی ہے اور اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی وزارت ووٹنگ کا جائزہ لینے کے لیے آنے والے مبصرین سے مسلسل رابطے میں رہی ہے اور انہوں نے نہ تو انتخابات کے دن اور نہ ہی اس سے پہلے اس بارے میں کوئی شکایت کی ہے۔

اسی دوران حماس کے ایک سینیئر رہنما محمود ظاہر نے محمود عباس کی کامیابی اور اسرائیلی رویے پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ مرغی یا انڈے کے درمیان اولیت طے کرنے کا معاملہ ہے، جب تک قبضہ ختم نہیں ہوگا مزاحمت جاری رہے گی۔ جس دن اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری قابضین کو نکال دے گی تو یہ علاقہ خون خرابے سے پاک ہو جائے گا۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد